قرآن
ﮣ
ﱊ
ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ
ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ٤٤ ٤٤ ﭰ ﭱ ﭲ
ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ٤٥ ٤٥ ﭹ ﭺ ﭻ
ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ٤٦ ٤٦ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ
ﮅ ﮆ ﮇ ٤٧ ٤٧ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ
٤٨ ٤٨ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ٤٩ ٤٩ ﮕ
ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ
٥٠ ٥٠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ
ﮫ ﮬ ٥١ ٥١ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ
ﯖ ٥٢ ٥٢ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ
ﯡ ٥٣ ٥٣ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ٥٤ ٥٤ ﯩ ﯪ ﯫ
ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ٥٥ ٥٥ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ
٥٦ ٥٦ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ٥٧ ٥٧ ﰂ ﰃ
ﰄ ﰅ ﰆ ٥٨ ٥٨ ﰈ ﰉ ﰊ ﰋ ﰌ ٥٩ ٥٩
إِلَىٰ فِرۡعَوۡنَ وَمَلَإِيْهِۦ فَٱسۡتَكۡبَرُواْ وَكَانُواْ قَوۡمًا عَالِينَ ٤٦
موسیٰ علیہ السلام کی دعوت،ان کی نشانیوں اور دلیلوں کے پیش کرنے پر فرعون اور اس کی قوم کی ہٹ دھرمی دراصل ان کے تکبرانہ عادت و مزاج کا نتیجہ تھی۔ (ابن عاشور: ۸۱؍۴۶)
سوال:قوم فرعون کی گمراہی کا کیا سبب تھا؟
وَجَعَلۡنَا ٱبۡنَ مَرۡيَمَ وَأُمَّهُۥٓ ءَايَةٗ
اپنے بندے او ر رسول عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کے بارے میں خبر دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرمارہا ہے کہ اس نے ان دونوں کو لوگوں کے لئے نشانی بنادیا۔یعنی اس بات کی قطعی دلیل اور حجت کہ وہ جو چاہے کرسکتا ہے جیسا کہ آدم علیہ السلام کو بغیر ماں باپ کے پیدا کردیا،حوا علیہا السلام کو بغیر مادہ صرف نر سے پیدا کردیا،عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر نر صرف مادہ سے پیدا کردیا اوربقیہ تمام لوگوں کو نر اور مادہ دونوں سے پیدا کیا۔(ابن کثیر: ۳؍۲۳۸)
سوال:عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ مریم اللہ کی نشانی تھے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟
يَٰٓأَيُّهَا ٱلرُّسُلُ كُلُواْ مِنَ ٱلطَّيِّبَٰتِ وَٱعۡمَلُواْ صَٰلِحًاۖ إِنِّي بِمَا تَعۡمَلُونَ عَلِيمٞ ٥١
حلال کھانے کا حکم پہلے دیا گیا کیونکہ حلال کھانا عمل ِصالح پر مددگار ہوتا ہے اور صحیح حدیث میں آیا ہے کہ جو بھی جسم حرام مال سے بڑھے گا وہ جہنم کا حقدار ہوگا۔ (آلوسی: ۹؍۲۴۱)
سوال:عمل ِصالح کے حکم سے پہلے حلال کھانے کا حکم ذکر کیا گیا ہے۔ اس کا کیا فائدہ ہے؟
يَٰٓأَيُّهَا ٱلرُّسُلُ كُلُواْ مِنَ ٱلطَّيِّبَٰتِ وَٱعۡمَلُواْ صَٰلِحًاۖ إِنِّي بِمَا تَعۡمَلُونَ عَلِيمٞ ٥١
صحیح مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺنے فرمایا: اے لوگو! اللہ تبارک وتعالیٰ پاک ہے اور صرف پاک مال یعنی حلال قبول کرتا ہے اور اللہ نے مومنوں کو وہی حکم دیا جو رسولوں کو دیا ہے چنانچہ فرمایا: (يا أيها الرسل كلوا من الطيبات واعملوا صالحًا إني بما تعملون عليم) اے رسولو!پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو،میں تمہارے عمل کو اچھی طرح جانتا ہوں۔ اور فرمایا: (يا أيها الذين آمنوا كلوا من طيبات ما رزقناكم)(بقرہ:۱۷۲) اے ایمان والو! وہ پاک چیزیں کھاؤجو ہم نے تمہیں دی ہیں۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے ایسے آدمی کا ذکر کیا جو لمبے سفر پر ہو پراگندہ بال ہو اور گردآلود ہو وہ اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھاکر کہتاہو:اے رب!اے رب! حالانکہ اس کا کھانا حرام ہے،اس کا پینا حرام ہے،اس کا لباس حرام ہے اور اس کی غذابھی حرام ہے پھر اس کی دعا کیونکر قبول ہو۔ (القرطبی: ۱۲؍۱۷۲)
سوال:آیت میں پاک وحلال مال کھانے کا کیا مقصد ہے؟
يَٰٓأَيُّهَا ٱلرُّسُلُ كُلُواْ مِنَ ٱلطَّيِّبَٰتِ وَٱعۡمَلُواْ صَٰلِحًاۖ
اللہ تعالیٰ اپنے تمام رسولوں کو حکم دے رہا ہے کہ وہ سب حلال کھائیں اور نیک عمل کریں۔اس سے پتہ چلا کہ حلال کھانا عمل ِصالح کے لئے مددگار ہے۔
(ابن کثیر: ۳؍۲۳۹)
سوال:پاک وحلال مال کھانے اور عمل صالح کے درمیان کیا تعلق ہے؟
فَتَقَطَّعُوٓاْ أَمۡرَهُم بَيۡنَهُمۡ زُبُرٗاۖ كُلُّ حِزۡبِۢ بِمَا لَدَيۡهِمۡ فَرِحُونَ ٥٣
انہیں اجتماعیت یعنی ایک ساتھ رہنے کا حکم دیا گیا تھا لیکن انہوں نے اپنے دین کو کئی مسلکوں میں بانٹ دیا۔پھر اللہ نے یہ بتایا کہ وہ سب اپنی فکر اور اپنی گمراہی پر خوش بھی ہیں اور یہ گمراہی کی انتہا ہے۔ (قرطبی: ۱۵؍۵۲)
سوال:آیت کی روشنی میں تفرقہ،اختلاف اور خود پسندی کے خطرے اور ان کی سنگینی کی وضاحت کیجئے.
أَيَحۡسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّهُم بِهِۦ مِن مَّالٖ وَبَنِينَ ٥٥ نُسَارِعُ لَهُمۡ فِي ٱلۡخَيۡرَٰتِۚ بَل لَّا يَشۡعُرُونَ ٥٦
یعنی: کیا دھوکے میں پڑے ہوئے یہ لوگ گمان کرتے ہیں کہ انہیں ہم نے جو مال ودولت اور آل واولاد سے نواز رکھا ہے اس کی وجہ میری طرف سے ان کی عزت اور کرامت ہے؟ہر گز نہیں! معاملہ بالکل ایسا نہیں ہے جیسا یہ خیال کررہے ہیں۔یہ صریح غلطی میں مبتلا ہیں،ان کی امیدیں کبھی پوری نہیں ہوں گی، ایسا ہم ان کے ساتھ ڈھیل دینے اور مہلت دینے کے لئے کررہے ہیں۔ (ابن کثیر: ۳؍۲۴۰)
سوال:اللہ تعالیٰ مجرموں کو مال ودولت اور اولاد سے کیوں نوازتاہے؟