قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

ﭦﭛﭣﭤ
١ ١
٢ ٢
٣ ٣
٤ ٤
٥ ٥
٦ ٦

٧ ٧
ﭿ
٨ ٨

٩ ٩
١٠ ١٠
١١ ١١

١٢ ١٢
١٣ ١٣


١٤ ١٤

١٥ ١٥
١٦ ١٦
١٧ ١٧
342
سورۃ المؤمنون آیات 1 - 11

قَدۡ أَفۡلَحَ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ ١ ٱلَّذِينَ هُمۡ فِي صَلَاتِهِمۡ خَٰشِعُونَ ٢ إلى قوله تعالى ٱلَّذِينَ يَرِثُونَ ٱلۡفِرۡدَوۡسَ هُمۡ فِيهَا خَٰلِدُونَ ١١

ان آیتوں میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ یہی وہ لوگ ہیں جو جنت الفردوس کے وارث ہوں گے۔اور یہ اس بات کا متقاضی ہے کہ ان کے علاوہ کوئی دوسرا اس کاوارث ہو بھی نہیں ہوسکتا۔اور اس سے یہ بھی پتہ چلا کہ مذکورہ خصلتیں واجب ہیں کیونکہ ان میں سے اگر کچھ مستحب ہوتیں تو ایسی صورت میں لازم آتا کہ جنت الفردوس کو ان اعمال کے بغیر بھی حاصل کیا جاسکتا ہے حالانکہ جنت واجبات کی ادائیگی سے ملے گی نہ کہ صرف مستحبات سے۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مذکورہ خصلتوں میں صرف انہی اعمال کا ذکر کیا جو واجب ہیں۔اور جب خشوع وخضوع نماز میں واجب ٹھہرا تو یہ سکون و اطمینان اور تواضع دونوں کو شامل ہوگا۔ (ابن تیمیہ: ۴؍۴۵۴)
سوال:آیت کریمہ خشوع وخضوع کے واجب ہونے پر کیسے دلالت کرتی ہے؟

سورۃ المؤمنون آیات 0 - 2

ٱلَّذِينَ هُمۡ فِي صَلَاتِهِمۡ خَٰشِعُونَ ٢

خشوع وخضوع نماز کی روح ہے اور یہی اس سے مقصود ہے اورنماز میں بندے کے لئے اسی کولکھا بھی جاتا ہے۔پس وہ نماز جو خشوع خضوع اور حضور ِقلب سے خالی ہو وہ اگرچہ کافی ہوگی اور اس پر ثواب بھی ملے گا مگر اتنا ہی جتنا دل اس کو سمجھ کر ادا کریگا۔ (السعدی؍۵۴۷-۵۴۸)
سوال:نماز کے دیگر ارکان وواجبات کو چھوڑکر خصوصی طور پر صرف خشوع ہی کو کیوں ذکر کیا گیا؟

سورۃ المؤمنون آیات 0 - 3

وَٱلَّذِينَ هُمۡ عَنِ ٱللَّغۡوِ مُعۡرِضُونَ ٣

آیت کریمہ میں اس بات کی وضاحت ہے کہ کامیاب مومنوں کی صفت یہ بھی ہے کہ وہ بیہودہ باتوں سے پرہیز کرتے ہیں۔ بیہودہ اور لغو اصل میں اُن اقوال وافعال کو کہتے ہیں جن میں کسی طرح کا کوئی فائدہ نہ ہو،چنانچہ اس میں کھیل کود،لہوولعب،ہنسی مذاق او را س طرح کی وہ ساری چیزیں داخل ہوں گی جو مروءت (ادب و انسانیت) کے خلاف ہوں۔(شنقیطی: ۵؍۳۰۶)
سوال: کمپیوٹر اور موبائل کے لغو پروگراموں میں کم سے کم مشغول رہنا بھی کامیابی ہے۔آیت کی روشنی میں اس کی وضاحت کیجئے.

سورۃ المؤمنون آیات 1 - 5

قَدۡ أَفۡلَحَ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ ١ ٱلَّذِينَ هُمۡ فِي صَلَاتِهِمۡ خَٰشِعُونَ ٢ وَٱلَّذِينَ هُمۡ عَنِ ٱللَّغۡوِ مُعۡرِضُونَ ٣ وَٱلَّذِينَ هُمۡ لِلزَّكَوٰةِ فَٰعِلُونَ ٤ وَٱلَّذِينَ هُمۡ لِفُرُوجِهِمۡ حَٰفِظُونَ ٥

مذکورہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کی تعریف وتعظیم کی ہے اور ساتھ ہی ان کی کامیابی اور نیک بختی کا ذکر بھی ہے۔ نیز اس امر کوبھی بیان فرمایا ہے کہ کن اعمال کی بدولت وہ اس مقام تک پہونچے اور اس ضمن میں اہل ِایمان کو ترغیب بھی دی گئی ہے کہ وہ اپنے آپ کو مذکورہ صفات سے متصف کریں۔ پس بندۂ مومن ان آیات کی میزان پر اپنے آپ کو تولے اور یہ معلوم کرے کہ اس کے پاس اور دوسروں کے پاس قلت وکثرت یا اضافہ اور کمی کے اعتبار سے کتنا ایمان ہے۔ (السعدی؍۵۴۷)
سوال:انسان اپنے اندر موجود کمی کو جان کر اسے پورا کیسے کرسکتا ہے؟

سورۃ المؤمنون آیات 0 - 8

وَٱلَّذِينَ هُمۡ لِأَمَٰنَٰتِهِمۡ وَعَهۡدِهِمۡ رَٰعُونَ ٨

امانت اور عہد پیمان دین ودنیاکے ہر اس قول اور عمل کو جامع اور شامل ہے جس کا انسان حامل اور مکلف ہے۔یہ لوگوں کی معاشرت اور وعدہ وغیرہ سب کو عام ہے۔ مقصدیہ ہے کہ اس کی پاسداری اور حفاظت کی جائے۔ (القرطبی: ۱۵؍۱۵)
سوال:ان تمام امانتوں کی وضاحت کیجئے جن کا کرنا بندے پر واجب ہے؟

سورۃ المؤمنون آیات 0 - 9

وَٱلَّذِينَ هُمۡ عَلَىٰ صَلَوَٰتِهِمۡ يُحَافِظُونَ ٩

نمازوں کی حفاظت“تمام شروط کو پورا کرتے ہوئے وقت پر ان کی ادائیگی” کا نام ہے۔اگر کوئی اعتراض کرے کہ شروع اور آخر دونوں جگہ نمازوں کا ذکر کیوں کیا گیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ: دراصل یہ تکرار نہیں ہے کیونکہ پہلی بار نماز کے اندر صفت خشوع کا ذکر ہوا ہے اور یہاں نمازوں کی حفاظت کا ذکر ہے اور یہ دونوں چیزیں مختلف ہیں۔(ابن جُزَی: ۲؍۶۸)
سوال:اللہ تعالیٰ نے شروع سورت میں اور پھر یہاں دوبار نماز کا ذکر کیوں کیا؟

سورۃ المؤمنون آیات 0 - 17

وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا فَوۡقَكُمۡ سَبۡعَ طَرَآئِقَ وَمَا كُنَّا عَنِ ٱلۡخَلۡقِ غَٰفِلِينَ ١٧

اکثر مفسرین کا قول ہے کہ یہاں تمام مخلوقات مراد ہیں کہ جن پر گرنے سے اللہ تعالیٰ آسمانوں کو روکے ہوئے ہے کہ ہلاک نہ ہوجائیں۔ (القرطبی: ۱۵؍۲۲)
سوال:اللہ تعالیٰ بندوں کی حفاظت کئی طرح سے کرتا ہے۔ان میں سے صرف ایک صورت کی وضاحت کیجئے.