قرآن
ﮢ
ﱉ
ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ
ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ٦٥ ٦٥ ﭮ ﭯ
ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ٦٦ ٦٦
ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ
ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ٦٧ ٦٧
ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ٦٨ ٦٨ ﮗ ﮘ
ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ٦٩ ٦٩
ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ
ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ٧٠ ٧٠ ﯗ
ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ
ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ٧١ ٧١ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ
ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ
ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ
ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ ﰈ ﰉ ﰊ ﰋ ٧٢ ٧٢
أَلَمۡ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ سَخَّرَ لَكُم مَّا فِي ٱلۡأَرۡضِ وَٱلۡفُلۡكَ تَجۡرِي فِي ٱلۡبَحۡرِ بِأَمۡرِهِۦ
خاص طور سے کشتی کا چلنا ذکر کیا کیونکہ اس کا دریا میں چلنا تسخیر کا مظہر ہے یعنی اطاعت وفرمانبرداری کا ایک عجیب نمونہ ہے اس لئے کہ اگراللہ تعالیٰ ایک خاص معلوم صفت پر اس کے بنانے کا الہام عطانہ کرتا تو دریا میں ڈوب جانا ہی اس کا مقدر ہوتا۔ (ابن عاشور:۱۷؍۳۲2)
سوال:کشتی کے جملہ احوال کو چھوڑکر دریا میں اس کے چلنے کو ہی آیت میں خصوصیت سے کیوں ذکر کیا گیا؟
وَيُمۡسِكُ ٱلسَّمَآءَ أَن تَقَعَ عَلَى ٱلۡأَرۡضِ إِلَّا بِإِذۡنِهِۦٓۚ إِنَّ ٱللَّهَ بِٱلنَّاسِ لَرَءُوفٞ رَّحِيمٞ ٦٥
اللہ تعالیٰ کا فرمان: (ويمسك السماء) آسمان کو روکے ہوئے ہے۔یہ لوگوں پر بطور احسان ہے کیونکہ وہ ان کی زندگی کو فساد وبگاڑ سے بچانے کاذریعہ ہے اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: (أن تقع على الأرض إلَّا بِإِذنِهِ) اسی کے حکم سے گریگا۔ تحفظ اور بچاؤ کے طور پرہے۔ اس طرح احسان جتانا اور خوف میں ڈالنا دونوں کو اکٹھا کردیا گیا ہے۔(ابن عاشور: ۱۷؍۳۲۳)
سوال:آیت کریمہ میں خوف ورجاء یعنی ڈر اور امید دونوں کو کس طرح اکٹھاکردیا گیا ہے؟اس کی وضاحت کیجئے.
أَلَمۡ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ سَخَّرَ لَكُم مَّا فِي ٱلۡأَرۡضِ وَٱلۡفُلۡكَ تَجۡرِي فِي ٱلۡبَحۡرِ بِأَمۡرِهِۦ وَيُمۡسِكُ ٱلسَّمَآءَ أَن تَقَعَ عَلَى ٱلۡأَرۡضِ إِلَّا بِإِذۡنِهِۦٓۚ إِنَّ ٱللَّهَ بِٱلنَّاسِ لَرَءُوفٞ رَّحِيمٞ ٦٥
(إن الله بالناس لرؤوف رحيم)بلاشبہ اللہ لوگوں پر نہایت شفقت کرنے والا بڑا مہربان ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ ان پر ان کے والدین سے اور خود ان سے زیادہ مہربان ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ ان کے لئے بھلائی چاہتا ہے جبکہ وہ خود اپنی ذات کے لئے برائی اور نقصان چاہتے ہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ اس نے ان تمام چیزوں کو ان کے لئے مسخر کردیا یعنی ان کے تابع کردیا ہے۔ (السعدی؍۵۴۵)
سوال: (الرؤوف) اور (الرحيم)جیسی دونوں صفتوں پر آیت کو ختم کرنے کی کیا وجہ ہے؟
إِنَّ ٱلۡإِنسَٰنَ لَكَفُورٞ ٦٦
یعنی اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی وحدانیت پر دلالت کرنے والی نشانیوں کے ظاہر ہونے کے باوجود انسان منکر بناہوا ہے۔
بعض نے کہا: اللہ تعالیٰ نے ایسا اس لئے فرمایاکیونکہ اکثر لوگ نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں جیسا کہ ارشاد ہے: ﴿وَقَلِيلٞ مِّنۡ عِبَادِيَ ٱلشَّكُورُ﴾)(سورۂ سبا: ۳۱) میرے شکر گزار بندے بہت تھوڑے ہیں۔(القرطبی: ۱۴؍۴۴۲)
سوال:انسان کونعمتوں کا ناشکرا کیوں کہا گیا؟اس کی وضاحت کیجئے.
لِّكُلِّ أُمَّةٖ جَعَلۡنَا مَنسَكًا هُمۡ نَاسِكُوهُۖ فَلَا يُنَٰزِعُنَّكَ فِي ٱلۡأَمۡرِۚ
یعنی رسول اللہ ﷺکو جھٹلانے والے اپنی فاسد عقل کی بنیاد پر آپ کے ساتھ جھگڑا کریں نہ آپ کی لائی ہوئی کتاب پر اعتراض کریں جیسے وہ اپنے فاسد قیاس کی بناپر مردار کی حِلت کے بارے میں آپ ﷺ سے جھگڑتے ہیں اور کہتے ہیں: ﴿إِنَّمَا ٱلۡبَيۡعُ مِثۡلُ ٱلرِّبَوٰاْ﴾ )(سورۂ بقرہ:۲۷۵)تجارت بھی تو سود کی مانند ہے۔ اور اس قسم کے دیگر اعتراضات جن کا بِعینہ جواب دینا ضروری نہیں کیونکہ حقیقت میں وہ لوگ اصل رِسالت کے ہی منکر ہیں۔
اس قسم کا اعتراض کرنے والا منکر ِرسالت جب یہ دعویٰ کرے کہ وہ تو صرف تلاش ِحق کے لئے بحث کرتا ہے تو اس سے یہ کہا جائے: تمہارے ساتھ صرف رسالت کے اثبات اور عدم ِاثبات پر ہی گفتگو ہوسکتی ہے۔ورنہ اس کا صرف اپنی بات پر انحصار کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اس کا مقصد محض عاجز کرنا اور مشقت میں ڈالنا ہے۔(السعدی:۵۴۵)
سوال:آیت میں شریعت کے بعض احکام پر اعتراض کرنے والوں کا مقابلہ کرنے کی ایک کیفیت کی طرف رہنمائی ہے۔اس کی وضاحت کیجئے.
وَإِن جَٰدَلُوكَ فَقُلِ ٱللَّهُ أَعۡلَمُ بِمَا تَعۡمَلُونَ ٦٨
اس آیت میں حسن ِادب سکھایا جارہا ہے کہ جو شخص تعصب کے سبب صرف جھگڑا کرنے کے لئے مناظرہ کرتا ہے اسے جواب نہ دیا جائے اور نہ اس سے مناظرہ کیا جائے بلکہ اس کے جواب میں اتناہی کہا جائے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ کو سکھلایا ہے۔ (القرطبی: ۱۴؍۴۴۵)
سوال:جو شخص تعصب اور صرف ہٹ دھرمی کی خاطر بحث ومباحثہ کرے اس کے ساتھ گفتگو کا اسلوب کیسا ہونا چاہئے؟اس کی وضاحت کیجئے.
يَكَادُونَ يَسۡطُونَ بِٱلَّذِينَ يَتۡلُونَ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتِنَاۗ قُلۡ أَفَأُنَبِّئُكُم بِشَرّٖ مِّن ذَٰلِكُمُۚ ٱلنَّارُ وَعَدَهَا ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْۖ وَبِئۡسَ ٱلۡمَصِيرُ ٧٢
(قل)یعنی اے محمد ﷺ!ان لوگوں سے کہہ دیجئے: (أفأنبئكم بشر من ذلكم النار وعدها الله الذين كفروا) آگ،اس کا عذاب اور اس کی سزا کس قدر سخت ہے،کتنی مشکل اور بھاری ہے‘ ان تکلیفوں کے مقابلہ میں جن کا خوف تم اللہ کے مومن بندوں کو دنیا میں دلایا کرتے تھے۔اور تمہاری کرتوتوں کے بدلہ میں آخرت کا یہ عذاب کہیں زیادہ بڑا ہے ان تکلیفوں کے مقابلے میں جو تم مومنوں کو پہنچاتے تھے۔(ابن کثیر: ۵؍۳۹۶)
سوال:آیت میں کمزور مومنوں کے لئے تسلی اور ظالموں کے لئے دھمکی ہے۔اس کی وضاحت کیجئے.