قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے



٢١٦ ٢١٦


ﭿ




٢١٧ ٢١٧


٢١٨ ٢١٨



ﯿ ٢١٩ ٢١٩
34
سورۃ البقرہ آیات 0 - 216

كُتِبَ عَلَيۡكُمُ ٱلۡقِتَالُ وَهُوَ كُرۡهٞ لَّكُمۡۖ وَعَسَىٰٓ أَن تَكۡرَهُواْ شَيۡٔاً وَهُوَ خَيۡرٞ لَّكُمۡۖ وَعَسَىٰٓ أَن تُحِبُّواْ شَيۡٔاً وَهُوَ شَرّٞ لَّكُمۡۚ

اہلِ ایمان کی یہ ناگواری فطری ناگواری ہے کیونکہ جنگ میں مال کاصرف ہوجانا اورنفس کو مشقت وجوکھم میں ڈالنا ہوتا ہے ۔ایسا نہیں ہے کہ وہ اللہ کے حکم کو ناپسند کرتے ہیں۔ (البغوی:۱؍۲۰۳)
سوال:مومنین کے لئے اللہ کی راہ میں جنگ ناپسندیدہ کیسے ہوتی ہے؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 216

وَعَسَىٰٓ أَن تَكۡرَهُواْ شَيۡٔاً وَهُوَ خَيۡرٞ لَّكُمۡۖ

(جہاد میں خیر ہے)اس لئے کہ اللہ کی راہ میں لڑائی کے نتیجہ میں تمہیں دشمنوں پر فتح ونصرت حاصل ہوتی ہے اور ان کے شہر وملک ،مال واسباب اوربال بچے تمہارے قبضہ میں آجاتے ہیں۔ (ابن کثیر:۱؍۲۳۹)
سوال:جہاد وقتال میں مشقت وتکلیف کا وجود ظاہر ہے ،پھر اس میں خیر کس طرح ہے؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 216

وَعَسَىٰٓ أَن تُحِبُّواْ شَيۡٔاً وَهُوَ شَرّٞ لَّكُمۡۚ

اللہ کی راہ میں جہادنہ کرنے کے نتیجہ میں ہوسکتا ہے کہ ملک اور حکومت پر دشمن کا غلبہ اور قبضہ ہوجائے۔ (ابن کثیر:۱؍۲۳۹)
سوال:اللہ کی راہ میں جہادنہ کرنامعاشرہ کو اچھا لگتا ہے۔حالانکہ یہ اس کے حق میں برا ہوتا ہے۔کیسے؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 217

يَسۡٔلُونَكَ عَنِ ٱلشَّهۡرِ ٱلۡحَرَامِ قِتَالٖ فِيهِۖ قُلۡ قِتَالٞ فِيهِ كَبِيرٞۚ وَصَدٌّ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ وَكُفۡرُۢ بِهِۦ وَٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡحَرَامِ وَإِخۡرَاجُ أَهۡلِهِۦ مِنۡهُ أَكۡبَرُ عِندَ ٱللَّهِۚ وَٱلۡفِتۡنَةُ أَكۡبَرُ مِنَ ٱلۡقَتۡلِۗ

جان لینے میں بڑی برائی ہے لیکن کفر اور اہل کفر کے غلبہ کی شکل میں لاحق ہونے والا فتنہ اس سے کہیں زیادہ برا ہے ۔لہذا دونوں میں جو کم تر خرابی ہے اسے اختیار کرکے زیادہ بڑے فساد کا خاتمہ کیا جائیگا۔ (ابن تیمیہ:۱؍۵۰۱)
سوال: زیادہ بگاڑکس چیز میں ہے :سماج کا کفر کی طرف جانا ،یا اس کا جہاد کی طرف جانا ؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 218

إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَٱلَّذِينَ هَاجَرُواْ وَجَٰهَدُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ أُوْلَٰٓئِكَ يَرۡجُونَ رَحۡمَتَ ٱللَّهِۚ

آیت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بندہ خواہ کتنے ہی بڑے بڑے اور زیادہ سے زیادہ اعمال کرلے۔اس کے لئے یہ مناسب نہیں کہ محض اپنے اعمال پر بھروسہ کرکے بیٹھ جائے۔بلکہ اسے اپنے رب کی رحمت کا آسرا اور آس رکھنی چاہئے اور یہ امید رکھنی چاہئے کہ اس کے اعمال قبول ہوجائیں،گناہ معاف ہوجائیں اور عیوب (برائیوں) کی پردہ پوشی ہوجائے۔ (السعدی:۹۸)
سوال: آیت میں نیک اعمال کرنے والوں کو بہت بڑی تنبیہ ہے۔وہ کیا ہے؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 218

إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَٱلَّذِينَ هَاجَرُواْ وَجَٰهَدُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ أُوْلَٰٓئِكَ يَرۡجُونَ رَحۡمَتَ ٱللَّهِۚ وَٱللَّهُ غَفُورٞ رَّحِيمٞ ٢١٨

اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی تعریف کی پھر بھی یہ کہا کہ (يَرۡجُونَ) وہ امید رکھتے ہیں۔کیونکہ اس دنیا میں کوئی بھی شخص خواہ وہ اللہ کی اطاعت کی ہر حد اور بلندی کو پہنچ گیا ہو وہ یقینی طور پر نہیں جانتا کہ وہ جنت میں جائیگا۔اس کی دووجہیں ہیں:
‌أ. اسے نہیں معلوم کہ اس کا خاتمہ کس حالت پر ہوگا۔
‌ب. تاکہ وہ اپنے عمل پر اعتماد وبھروسہ نہ کرنے لگے۔ (القرطبی:۳؍۴۳۲)
سوال:اللہ تعالیٰ نے مومنوں کے بارے میں (يَرۡجُونَ) یعنی امید رکھتے ہیں۔کیوں کہا۔جبکہ یہ امکان کاصیغہ ہے (یقینی نہیں)حالانکہ ان کے اعمال بہت بڑے بڑے ہیں؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 219

كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ ٱللَّهُ لَكُمُ ٱلۡأٓيَٰتِ لَعَلَّكُمۡ تَتَفَكَّرُونَ ٢١٩

یعنی آیتوں میں(غوروفکرکرو)تاکہ ان سے احکام نکال سکو اور ان سے جڑی ہوئی مصلحتوں اور فائدوں کو سمجھ سکو۔ آیتوں کی وضاحت کے لئے ان میں غور وفکر کو مقصد بنانے کی امید کی گئی ہے تاکہ تم زیادہ بہتر اور مفید چیز کو اختیار کرو اور جو چیز نقصاند ہ ہے یا بے فائدہ ہے اس سے بچ جاؤ ۔نیز اس سے بھی بچے رہو جو تم کو فائدے سے زیادہ نقصان پہنچانے والی ہے۔ (الألوسی:۲؍۱۱۶)
سوال:قرآن کی آیات میں غور وفکر کا کیا فائدہ ہے؟