قرآن
ﮢ
ﱉ
٣٩ ٣٩ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ
ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ
ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ
ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ
ﮂ ٤٠ ٤٠ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ
ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ
ﮓ ﮔ ﮕ ٤١ ٤١ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ
ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ٤٢ ٤٢ ﮡ ﮢ ﮣ
ﮤ ٤٣ ٤٣ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ
ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ٤٤ ٤٤ ﯖ ﯗ ﯘ
ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ
ﯡ ﯢ ﯣ ٤٥ ٤٥ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ
ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ
ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ٤٦ ٤٦
ٱلَّذِينَ أُخۡرِجُواْ مِن دِيَٰرِهِم بِغَيۡرِ حَقٍّ إِلَّآ أَن يَقُولُواْ رَبُّنَا ٱللَّهُۗ
یہ آیت جہاد کی حکمت پر دلالت کرتی ہے۔وہ حکمت یہ ہے کہ جہاد کا مقصد اللہ کا دین قائم کرنا ہے۔اسی طرح پریشان کرنے والے کافروں سے مومنوں کا دفاع کرنا بھی ہے۔ (السعدی؍۵۳۹)
سوال:آیت میں مشروعیت ِجہاد کی ایک حکمت کی طرف اشارہ ہے۔اسے واضح کیجئے.
وَلَوۡلَا دَفۡعُ ٱللَّهِ ٱلنَّاسَ بَعۡضَهُم بِبَعۡضٖ لَّهُدِّمَتۡ صَوَٰمِعُ وَبِيَعٞ وَصَلَوَٰتٞ وَمَسَٰجِدُ يُذۡكَرُ فِيهَا ٱسۡمُ ٱللَّهِ كَثِيرٗاۗ
آیت ِکریمہ جہاد کی اجازت کو تقویت پہنچارہی ہے اور اس کے اندر جو مصلحت کارفرماہے اسے بھی ظاہر کررہی ہے۔گویا اللہ تعالیٰ فرمارہا ہے کہ اگر جنگ وجہاد نہ ہوتے تو کافر مسلمانوں پر غالب آجاتے اور دین کا خاتمہ ہوجاتا۔ (ابن جزی: ۲؍۵۹)
سوال:دین کی بقا کی خاطر جہاد میں بڑی حکمت ہے۔اسے واضح کیجئے.
وَلَوۡلَا دَفۡعُ ٱللَّهِ ٱلنَّاسَ بَعۡضَهُم بِبَعۡضٖ لَّهُدِّمَتۡ صَوَٰمِعُ وَبِيَعٞ وَصَلَوَٰتٞ وَمَسَٰجِدُ
آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہ شہر جہاں امن واطمینان سے اللہ کی عبادت ہوتی ہے،وہاں کی مسجدیں آباد ہیں،وہاں دین کے تمام شعائر قائم ہیں۔یہ سب مجاہدین کے فضل اور ان کی برکت سے ہے کہ اللہ نے اسی سے کافروں کو ہٹاکررکھا ہے۔(السعدی؍۵۳۹)
سوال:مسلمانوں پر مجاہدین کا بڑا فضل ہے۔اس کی وضاحت کیجئے.
وَلَوۡلَا دَفۡعُ ٱللَّهِ ٱلنَّاسَ بَعۡضَهُم بِبَعۡضٖ لَّهُدِّمَتۡ صَوَٰمِعُ وَبِيَعٞ وَصَلَوَٰتٞ وَمَسَٰجِدُ يُذۡكَرُ فِيهَا ٱسۡمُ ٱللَّهِ كَثِيرٗاۗ
یہ ساری عبادت گاہوں کے نام پچھلے زمانوں میں گزری ان امتوں کے ہیں جنہیں آسمانی کتابیں ملی تھیں۔مجوسیوں اور مشرکوں کے لئے ان کابیان نہیں ہے کیونکہ ان کے پاس ایسی کوئی چیز نہیں ہے جس کی بنیاد پر اس کی حفاظت واجب ہو۔اور اللہ کا ذکر تو انہی لوگوں کے یہاں پایا جاتا ہے جو شریعت والے ہیں۔ (ابن عطیہ: ۴؍۱۲۵)
سوال:آیت میں مجوسیوں اور مشرکوں کی عبادت گاہوں کا ذکر نہ کئے جانے کی کیا وجہ ہے؟
وَلَيَنصُرَنَّ ٱللَّهُ مَن يَنصُرُهُۥٓۚ
یعنی جو اللہ کے دین اور اس کے اولیاء کی مدد کریگا۔ یہ ایسا وعدہ ہے جس میں جہاد پر ابھارنے کا معنی پایا جاتا ہے۔ (ابن جزی: ۲؍۵۹)
سوال:اللہ کی مدد حاصل ہونے کی کیا شرط ہے؟
ٱلَّذِينَ إِن مَّكَّنَّٰهُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ أَقَامُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَوُاْ ٱلزَّكَوٰةَ وَأَمَرُواْ بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَنَهَوۡاْ عَنِ ٱلۡمُنكَرِۗ وَلِلَّهِ عَٰقِبَةُ ٱلۡأُمُورِ ٤١
یعنی جو اِن امور کو انجام دے گا اللہ اسے ضرور اس کے دشمنوں پر غالب کرے گا۔ (ابن تیمیہ: ۴؍۴۳۴)
سوال:زمین میں قدرت پانے کے بعد مجاہدین کا کیا کردار ہوتا ہے؟
فَإِنَّهَا لَا تَعۡمَى ٱلۡأَبۡصَٰرُ وَلَٰكِن تَعۡمَى ٱلۡقُلُوبُ ٱلَّتِي فِي ٱلصُّدُورِ ٤٦
اس کا مفہوم یہ ہے کہ نقصان دہ اندھاپن دل کاا ندھاپن ہوتا ہے۔ جہاں تک آنکھ کا اندھا پن ہے تو یہ دین کے معاملہ میں نقصان دہ نہیں ہے۔ (البغوی: ۱۴؍۲۲۴)
سوال:وہ کون سا نقصان دہ اندھا پن ہے جو انسان کی ہلاکت کا سبب بنتاہے؟