قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے


٦ ٦

٧ ٧

٨ ٨
ﭿ
٩ ٩

١٠ ١٠



١١ ١١

١٢ ١٢

١٣ ١٣


ﯿ ١٤ ١٤


١٥ ١٥
333
سورۃ الحج آیات 0 - 8

وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يُجَٰدِلُ فِي ٱللَّهِ بِغَيۡرِ عِلۡمٖ وَلَا هُدٗى وَلَا كِتَٰبٖ مُّنِيرٖ ٨

یعنی نہ تو اس کے پاس ضروری علم ہوتاہے،نہ ہی فکر ِصحیح کی روشنی میں حاصل کی ہوئی معرفت اور نہ وحی کے ذریعہ ملنے والا کوئی علم ہوتا ہے۔ اس طور پر وہ ہر اعتبار سے جاہل مرکب ہوتا ہے۔ (شنقیطی: ۴؍۲۸۰)
سوال:ایک انسان علمی گفتگو اور بحث ومباحثہ کرنے کے لائق کب ہوتا ہے؟

سورۃ الحج آیات 0 - 9

ثَانِيَ عِطۡفِهِۦ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِۖ لَهُۥ فِي ٱلدُّنۡيَا خِزۡيٞۖ

(له في الدنيا خزي) یعنی دنیا ہی میں اس کے لئے ذلت ورسوائی ہے کیونکہ جس طرح اس نے اللہ کی نشانیوں کے ساتھ تکبر سے کام لیا تو اللہ تعالیٰ نے اسے دنیا ہی میں ذلیل ورسوا کردیا اور آخرت سے پہلے ہی اس عذاب کا مزہ چکھادیا کیونکہ سب سے زیادہ طلب اور سب سے زیادہ فکر اسے دنیا کی تھی۔ (ابن کثیر: ۳؍۲۰۳)
سوال:قرآن سنتے وقت پہلو موڑنے یعنی تکبر کرنے کی سزا ذلت ورسوائی سے کیوں دی گئی؟اور یہ ذلت ورسوائی آخرت سے قبل دنیا میں ہی کیوں دے دی گئی؟

سورۃ الحج آیات 0 - 11

وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَعۡبُدُ ٱللَّهَ عَلَىٰ حَرۡفٖۖ فَإِنۡ أَصَابَهُۥ خَيۡرٌ ٱطۡمَأَنَّ بِهِۦۖ وَإِنۡ أَصَابَتۡهُ فِتۡنَةٌ ٱنقَلَبَ عَلَىٰ وَجۡهِهِۦ خَسِرَ ٱلدُّنۡيَا وَٱلۡأٓخِرَةَۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلۡخُسۡرَانُ ٱلۡمُبِينُ ١١

یہ آیت ان دیہاتیوں کے بارے میں نازل ہوئی کہ جب ان میں سے کوئی اسلام لے آتا تو اگر اپنے بال بچوں اور مال ودولت میں برکت دیکھتا توکہتا:یہ دین بڑا اچھا ہے۔لیکن اگر ایسا نہ ہوتا تو اس سے بدشگونی لیتا اور اسے برامان کر اسلام سے مرتد ہوجاتا۔ (ابن جزی: ۲؍۵۰)
سوال:ایسے شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے جو محض دنیاوی فوائد حاصل کرنے کی خاطر دین اسلام میں داخل ہوتا ہے؟

سورۃ الحج آیات 0 - 11

خَسِرَ ٱلدُّنۡيَا وَٱلۡأٓخِرَةَۚ

دنیا میں خسارہ کا مطلب یہ ہے کہ جس امید پر وہ مرتد ہوا اور جس امید کو اس نے سرمایہ قرار دے رکھا تھا وہ پوری نہ ہوئی اورجس بدلہ کی توقع تھی وہ حاصل نہ ہوا۔پس اس کی کوشش ناکام ہوئی اور اسے صرف وہی کچھ حاصل ہوا جو اس کی قسمت میں لکھاتھا۔ (السعدی؍۵۳۵)
سوال:دنیا میں مرتد کے گھاٹا اٹھانے کی کیا وجہ ہے؟

سورۃ الحج آیات 0 - 11

وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَعۡبُدُ ٱللَّهَ عَلَىٰ حَرۡفٖۖ فَإِنۡ أَصَابَهُۥ خَيۡرٌ ٱطۡمَأَنَّ بِهِۦۖ وَإِنۡ أَصَابَتۡهُ فِتۡنَةٌ ٱنقَلَبَ عَلَىٰ وَجۡهِهِۦ

یعنی لوگوں میں سے کچھ کمزور ایمان والے ہوتے ہیں جن کے دلوں میں ایمان داخل ہوتا ہے اور نہ اس کی تروتازگی جگہ بناتی ہے بلکہ وہ یا تو ڈر اور خوف سے ایمان لاتے ہیں یا محض عادت اور رسم ورواج کے طور پر، کہ ان کے اندر سختیاں برداشت کرنے کی ہمت نہیں ہوتی۔ (السعدی؍۵۳۴)
سوال:وہ کون سا سبب ہے جس کی وجہ سے ایک انسان کا ایمان پر خطر جگہ پر ہمیشہ متزلزل رہتا ہے؟

سورۃ الحج آیات 12 - 13

يَدۡعُواْ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَضُرُّهُۥ وَمَا لَا يَنفَعُهُۥۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلضَّلَٰلُ ٱلۡبَعِيدُ ١٢ يَدۡعُواْ لَمَن ضَرُّهُۥٓ أَقۡرَبُ مِن نَّفۡعِهِۦۚ لَبِئۡسَ ٱلۡمَوۡلَىٰ وَلَبِئۡسَ ٱلۡعَشِيرُ ١٣

(يدعو لمن ضره أقرب من نفعه) یعنی وہ جسے پکارتے ہیں اس کا نقصان نفع سے زیادہ قریب ہے۔ اس پر دواعتراض کئے گئے ہیں: پہلا معنوی اعتبار سے ہے کہ بتوں کے بارے میں پہلے تو یہ بتایا گیا کہ وہ کسی نفع ونقصان کے مالک نہیں ہیں پھر یہاں یہ بتایا گیا کہ ان کا نقصان ان کے نفع کے مقابلے میں زیادہ قریب ہے۔ پہلے تو نقصان سے انکار کیا گیا پھر اسے ثابت بھی کردیا گیا۔
تو اس کا جواب یہ ہے کہ پہلے جس نقصان کا انکار کیا گیا اس سے وہ نقصان مراد ہے جس کا اندیشہ انہیں بتوں سے ہوتا ہے حالانکہ وہ کسی نقصان کے مالک نہیں ہوتے۔اور دوسرا نقصان جسے تسلیم کیا گیا اس سے وہ نقصان مراد ہے جو اُن بتوں کی وجہ سے سزا اور عذاب وغیرہ کی شکل میں ملتا ہے۔ (ابن جزی:۲؍۵۱)
سوال:بتوں کے بارے میں پہلے کیوں بتایا گیا کہ وہ کسی نفع ونقصان کے مالک نہیں ہیں پھر یہ بتایا گیا کہ ان کے نفع کے مقابلے میں ان کا نقصان زیادہ ہے؟

سورۃ الحج آیات 0 - 13

يَدۡعُواْ لَمَن ضَرُّهُۥٓ أَقۡرَبُ مِن نَّفۡعِهِۦۚ لَبِئۡسَ ٱلۡمَوۡلَىٰ وَلَبِئۡسَ ٱلۡعَشِيرُ ١٣

بتوں کو براسرپرست اور برا دوست کہا گیا۔وجہ یہ ہے کہ ایک والی اور سرپرست کا کام اپنے زیر سایہ لوگوں کو نفع پہنچانا ہوتاہے اور ایک دوست کا کام اپنے دوست کے ساتھ بھلائی کرنا ہوتا ہے اور اگر کبھی کبھار یہ چیز فوت ہوجائے تو وہ قابل ِمذمت اور عیب کی بات ہوگی لیکن اگر یہی حال ان کا برابر رہتا ہے تو یقیناً وہ سب سے برے ہوں گے۔ (ابن عاشور: ۱۷؍۲۱۶)
سوال:بتوں کو برا سرپرست اور برادوست کہنے کی کیا وجہ ہے؟