قرآن
ﮡ
ﱉ
ﭘ ﭙ ﭚ ﭛ ٩١ ٩١ ﭝ ﭞ
ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ٩٢ ٩٢
ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ٩٣ ٩٣
ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ
ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ٩٤ ٩٤ ﭻ ﭼ ﭽ
ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ٩٥ ٩٥ ﮃ ﮄ ﮅ
ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ٩٦ ٩٦
ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ
ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ
ﮠ ٩٧ ٩٧ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ
ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ٩٨ ٩٨ ﮮ ﮯ
ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ٩٩ ٩٩
ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ١٠٠ ١٠٠ ﯢ ﯣ
ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ١٠١ ١٠١
وَٱلَّتِيٓ أَحۡصَنَتۡ فَرۡجَهَا فَنَفَخۡنَا فِيهَا مِن رُّوحِنَا وَجَعَلۡنَٰهَا وَٱبۡنَهَآ ءَايَةٗ لِّلۡعَٰلَمِينَ ٩١
قرآن کریم میں عموماً زکریااور یحییٰ علیہما السلام کے قصہ کے ساتھ مریم اور ان کے بیٹے عیسیٰ علیہما السلام کا قصہ بیان ہوا ہے۔چنانچہ پہلے زکریا علیہ السلام کا قصہ بیان ہوتا ہے،پھر اس کے بعد مریم کا قصہ۔اس لئے کہ دونوں قصوں کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔دراصل زکریا علیہ السلام کے قصہ میں ہوتا یہ ہے کہ اولاد کی پیدائش ایک عمر دراز بزرگ اور ایک ایسی بوڑھی اور بانجھ خاتون سے ہوتی ہے جسے جوانی میں بچہ نہیں ہوا چنانچہ اس قصہ کے بعد مریم کا قصہ بیان ہوتا ہے اور یہ قصہ مزید تعجب خیز ہے کیونکہ یہاں عورت کو بلا شوہر اولاد عطا کی جارہی ہے۔ یہ واقعہ اسی ترتیب سے سورۂ آل عمران،سورۂ مریم اور یہاں (سورۂانبیاء)میں ذکر ہوا ہے۔ (ابن کثیر: ۳؍۱۸۹)
سوال: قرآن میں زکریا و یحییٰ علیہما السلام کے قصوں کے ساتھ ہی عام طور سے مریم وعیسیٰ علیہما السلام کا قصہ بیان ہوتا ہے۔کیوں؟
إِنَّ هَٰذِهِۦٓ أُمَّتُكُمۡ أُمَّةٗ وَٰحِدَةٗ وَأَنَا۠ رَبُّكُمۡ فَٱعۡبُدُونِ ٩٢
یعنی یہ تمام انبیاء ومرسلین جن کا ابھی ذکر ہوا وہ تمہاری امت اور تمہارے امام ہیں۔جن کی رہنمائی میں تم پیروی کرتے ہو۔ان سب کا دین ایک،سب کا راستہ ایک اور ان سب کا رب بھی ایک ہے اسی لئے فرمایا: (وأنا ربكم)میں تم سب کا رب ہوں۔ (السعدی؍۵۳۰)
سوال: تمام انبیاء ومرسلین اور ان کے پیروکار ایک امت کیسے ہوتے ہیں؟
إِنَّ هَٰذِهِۦٓ أُمَّتُكُمۡ أُمَّةٗ وَٰحِدَةٗ وَأَنَا۠ رَبُّكُمۡ فَٱعۡبُدُونِ ٩٢ وَتَقَطَّعُوٓاْ أَمۡرَهُم بَيۡنَهُمۡۖ كُلٌّ إِلَيۡنَا رَٰجِعُونَ ٩٣
یعنی یہ امت ایک امت بنی رہی اور تم توحید پر جمے رہے۔لیکن جب تم جدا جدا ہوگئے اور آپس میں اختلاف کرلیا تو جو حق کی مخالفت کرنے والا تھا وہ اہل ِحق کے دین سے نہ رہا۔ (القرطبی: ۱۴؍۲۸۳)
سوال: تفرقہ بازی چھوڑکر حق پر اکٹھا ہونے کی فضیلت اور اس کا مقام واضح کیجئے.
إِنَّ هَٰذِهِۦٓ أُمَّتُكُمۡ أُمَّةٗ وَٰحِدَةٗ وَأَنَا۠ رَبُّكُمۡ فَٱعۡبُدُونِ ٩٢
امت کے ایک ہونے کا مطلب یہ ہے کہ یہ صرف ایک اللہ کو مانتی ہے جس کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں۔اور توحید والی شریعتوں کا یہی حال ہوتا ہے۔ جبکہ شرک پر مشتمل ادیان اس کے برعکس ہیں کیونکہ ان کے کئی متعدد معبودہونے کی وجہ سے ان کے ادیان بھی متعددہوجاتے ہیں اس لئے کہ ہر بت کی الگ عبادت اور الگ طرح کی پیروی ہوتی ہے۔البتہ شرک مجموعی طور پر سب کے یہاں پایا جاتا ہے۔ (ابن عاشور: ۱۷؍۱۴۱)
سوال:توحید ہی اس امت کو ایک کرسکتی ہے مگر شرک اسے جداجدا کردیتا ہے۔اس کی وضاحت کیجئے
وَٱقۡتَرَبَ ٱلۡوَعۡدُ ٱلۡحَقُّ فَإِذَا هِيَ شَٰخِصَةٌ أَبۡصَٰرُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ
قیامت کے دن گھبراہٹ،خوف اور دل دہلادینے والے زلزلوں سے کفار کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی کیونکہ انہیں اپنے جرائم اور گناہوں کا علم ہوگا۔ وہ اپنی تباہی وبربادی یعنی موت کو پکاریں گے اور اپنی کوتاہیو ں پرحسرت و ندامت کا اظہار کریں گے۔ (السعدی؍۵۳۱)
سوال: قیامت کے دن کافروں کی آنکھیں کیوں پتھرا جائیں گی؟
إِنَّكُمۡ وَمَا تَعۡبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنتُمۡ لَهَا وَٰرِدُونَ ٩٨
بیشک اس سے وہ لوگ الگ ہیں جن کی عبادت تو کی گئی لیکن انہوں نے اللہ کی معصیت میں ہمیشہ اپنی عبادت اور پیروی کو ناپسند کیا یقیناً وہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے لئے نیکی کا سامان پہلے سے کررکھا ہے جیسے عیسیٰ اور عزیر علیہما السلام وغیرہ چنانچہ انہیں جہنم سے بہت دور رکھا جائیگا۔ (ابن تیمیہ: ۴؍۳۹۳)
سوال: عیسیٰ علیہ السلام،حسین رضی اللہ عنہ اور شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ کی عبادت کی گئی۔تو کیا یہ لوگ اس آیت کے تحت داخل ہوں گے؟اور کیوں؟
إِنَّكُمۡ وَمَا تَعۡبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنتُمۡ لَهَا وَٰرِدُونَ ٩٨
بت پتھر ہیں،عقل وشعور نہیں رکھتے اور ان کا کوئی گناہ بھی نہیں پھر بھی انہیں جہنم میں ڈالنے کی حکمت یہ ہے کہ اُن کا جھوٹ واضح ہوجائے جنہوں نے اِن بتوں کو معبود بنارکھا تھا اور تاکہ ان کے عذاب میں اضافہ ہو۔ (السعدی؍۵۳۱)
سوال: بتوں کو جہنم میں ڈالنے کی کیا حکمت ہے؟