قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

ﮠ

ﱈ

ﭑ ﭒ ﭓ ﭔ ﭕ ﭖ ﭗ ﭘ ﭙ ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ
ﭞ ٩٩ ٩٩
ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ
١٠٠ ١٠٠
ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ١٠١ ١٠١ ﭲ ﭳ
ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ١٠٢ ١٠٢
ﭼ
ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ١٠٣ ١٠٣
ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ
ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ١٠٤ ١٠٤
ﮐ ﮑ ﮒ
ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ١٠٥ ١٠٥
ﮘ ﮙ ﮚ ١٠٦ ١٠٦
ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ١٠٧ ١٠٧
ﮣ ﮤ ﮥ
ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ
١٠٨ ١٠٨
ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ
ﯞ ١٠٩ ١٠٩
ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ
ﯩ ١١٠ ١١٠
ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ
ﯵ ١١١ ١١١
ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ
ﯿ ﰀ ﰁ ١١٢ ١١٢
ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ
ﰈ ﰉ ﰊ ﰋ ﰌ ﰍ ﰎ ﰏ ﰐ ١١٣ ١١٣
319
سورۃ طه آیات 0 - 99

كَذَٰلِكَ نَقُصُّ عَلَيۡكَ مِنۡ أَنۢبَآءِ مَا قَدۡ سَبَقَۚ وَقَدۡ ءَاتَيۡنَٰكَ مِن لَّدُنَّا ذِكۡرٗا ٩٩

پچھلی امتوں کی خبریں اور ان کے قصوں کو بیان کرنے کا مقصد نہ تو وقت گزاری ہے اور نہ ہی سامعین کو باتوں سے مانوس کرنا ہے بلکہ اس سے مقصد عبرت اور نصیحت حاصل کرنا ہے اور عرب کے مشرکوں کی بصیرت کو جگانا ہے کہ ان قصوں کو عبرت کی نگاہ سے دیکھیں۔ (ابن عاشور: ۱۶؍۳۰۲)
سوال:قرآن کریم میں پچھلی امتوں کے قصوں کوذکر کرنے کا کیا مقصد ہے؟

سورۃ طه آیات 0 - 99

وَقَدۡ ءَاتَيۡنَٰكَ مِن لَّدُنَّا ذِكۡرٗا ٩٩

(ذِكرًا)سے یہی قرآن کریم مراد ہے جس کے اندر گذرے زمانوں او ر آئندہ کی خبروں کا ذکر ہے،اس میں اللہ تعالیٰ کے کامل اسماء وصفات کا بھی ذکر ہے۔ اور امر ونہی اور جزاء کے احکامات کا بھی تذکرہ ہے۔ (السعدی؍۵۱۲)
سوال:قرآن کریم کو (ذكرًا) کیوں کہا گیا؟

سورۃ طه آیات 103 - 104

يَتَخَٰفَتُونَ بَيۡنَهُمۡ إِن لَّبِثۡتُمۡ إِلَّا عَشۡرٗا ١٠٣ نَّحۡنُ أَعۡلَمُ بِمَا يَقُولُونَ إِذۡ يَقُولُ أَمۡثَلُهُمۡ طَرِيقَةً إِن لَّبِثۡتُمۡ إِلَّا يَوۡمٗا ١٠٤

أیعنی وہ آپس میں ایک دوسرے سے چپکے چپکے کہیں گے:تم تو دنیا میں دس راتوں سے زیادہ نہیں ٹھہرے۔ایسا اس لئے کہیں گے کیونکہ دنیا میں گذاری ہوئی مدت کو وہ بہت کم خیال کریں گے۔اور بعض نے کہا: ان کی مراد قبرمیں ٹھہرنے کی مدت ہے (يقول أمثلهم طريقةً إن لبثتم إلا يومًا)یعنی ان میں سے معاملات کا سب سے زیادہ جانکار کہے گا، پس ان کی طرف نسبت اس بات کی ہے (کہ وہ کہیں گے) (إن لبثتم إلا يومًا)یعنی تم صرف ایک ہی دن دنیا میں رہے۔چنانچہ اس شخص نے دوسروں کی بنسبت دنیوی زندگی کو اور کم سمجھا۔ (ابن جُزی: ۲؍۲۴)
سوال:دنیا کی حقارت اور بے وقعتی کا پتہ اس آیت سے کیسے چلتاہے؟

سورۃ طه آیات 103 - 104

يَتَخَٰفَتُونَ بَيۡنَهُمۡ إِن لَّبِثۡتُمۡ إِلَّا عَشۡرٗا ١٠٣ نَّحۡنُ أَعۡلَمُ بِمَا يَقُولُونَ إِذۡ يَقُولُ أَمۡثَلُهُمۡ طَرِيقَةً إِن لَّبِثۡتُمۡ إِلَّا يَوۡمٗا ١٠٤

اس سے ان کا مقصد بہت بڑی ندامت اور پشیمانی کا اظہار ہوگا کہ انہوں نے اتنے مختصروقت کو کیسے ضائع کردیا،نیز غفلت اور لہوولعب میں ڈوب کر، فائدہ مند اعمال کوپس پشت ڈال کر اور نقصاندہ اعمال میں پڑکر ان اوقات کو گذار دیا۔ تو اب جزاء کا وقت آپہنچااوراللہ تعالیٰ کی وعید (دھمکی)واقع ہوگئی۔پس اب ندامت اورہلاکت و موت کی دعا کے سوا کچھ باقی نہیں رہا۔(السعدی: ۵۱۳)
سوال:کافر مجرموں کے بارے میں ایسی خبریں دینے سے ایک انسان کو کیا فائدہ ملتا ہے؟

سورۃ طه آیات 0 - 111

وَعَنَتِ ٱلۡوُجُوهُ لِلۡحَيِّ ٱلۡقَيُّومِۖ وَقَدۡ خَابَ مَنۡ حَمَلَ ظُلۡمٗا ١١١

(وُجُوْهُ سے مقصود لوگ ہیں) ان کے لئے (وُجُوْهُ) (چہرے) کا لفظ بطور کنایہ استعمال کیا گیا ہے کیونکہ ذلت و رسوائی کے آثار چہروں ہی پر ظاہر ہوتے ہیں۔
(القرطبی: ۱۴؍۱۴۲)
سوال:آیت میں(وُجُوْهُ) (چہروں)کی تعبیر اختیار کی گئی۔ اس کی کیا وجہ ہے؟

سورۃ طه آیات 0 - 112

وَمَن يَعۡمَلۡ مِنَ ٱلصَّٰلِحَٰتِ وَهُوَ مُؤۡمِنٞ فَلَا يَخَافُ ظُلۡمٗا وَلَا هَضۡمٗا ١١٢

(عمل صالح کے ساتھ ایمان کی شرط لگائی گئی ہے) کیونکہ ایمان کے بغیر کوئی عمل قابل قبول نہیں ہوگا۔ (القرطبی: ۱۴؍۱۴۳)
سوال:اعمال صالحہ کی قبولیت میں ایمان کا کیا مقام ہے؟واضح کیجئے.

سورۃ طه آیات 0 - 113

وَكَذَٰلِكَ أَنزَلۡنَٰهُ قُرۡءَانًا عَرَبِيّٗا وَصَرَّفۡنَا فِيهِ مِنَ ٱلۡوَعِيدِ لَعَلَّهُمۡ يَتَّقُونَ أَوۡ يُحۡدِثُ لَهُمۡ ذِكۡرٗا ١١٣

(قرآن کو عربی سے متصف کیا گیا) یہ ایسی صفت ہے جس سے(عربی زبان کی) تعریف کا فائدہ حاصل ہوتا ہے کیونکہ تمام زبانوں میں عربی زبان سب سے فصیح و بلیغ اور سب سے زیادہ ہم آہنگ ہے۔) ابن عاشور: ۱۶؍۳۱۴(
سوال:قرآن کریم کو (عربيًا)کہنے سے کیا فائدہ حاصل ہوتا ہے؟