قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

ﮟ

ﱈ

ﭑ ﭒ ﭓ ﭔ ﭕ ﭖ ﭗ
ﭘ ﭙ ٩٦ ٩٦
ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ
ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ٩٧ ٩٧
ﭦ ﭧ ﭨ
ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ٩٨ ٩٨
Surah Header

ﮠ

ﭦﭛﭣﭤ
ﭵ ١ ١ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ٢ ٢ ﭽ ﭾ
ﭿ ﮀ ٣ ٣
ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ٤ ٤
ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ٥ ٥
ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ
ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ٦ ٦
ﮛ ﮜ ﮝ
ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ٧ ٧
ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ
ﮫ ٨ ٨
ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ٩ ٩ ﯓ ﯔ ﯕ
ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ
ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ١٠ ١٠
ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ١١ ١١ ﯫ
ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ١٢ ١٢
312
سورۃ مريم آیات 0 - 96

إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ سَيَجۡعَلُ لَهُمُ ٱلرَّحۡمَٰنُ وُدّٗا ٩٦

امام مجاہد نے فرمایا: اللہ انہیں اپنی محبت سے نوازیگا اور اپنے دیگر مومن بندوں کے نزدیک بھی انہیں محبوب بنادیگا۔
ہرم بن حيّان نے کہا: جو بندہ اللہ کی طرف پورے دل سے متوجہ ہوگا تو اللہ بھی اہل ِایمان کے دلوں میں اس کی محبت ڈال کر اس کی طرف پوری توجہ فرمائیگا۔ (البغوی: ۳؍۱۱۰)
سوال: بندہ اللہ کی محبت کیسے حاصل کرسکتا ہے؟

سورۃ مريم آیات 0 - 96

إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ سَيَجۡعَلُ لَهُمُ ٱلرَّحۡمَٰنُ وُدّٗا ٩٦

مطلب: اللہ تعالیٰ ان کے لئے اپنے اولیاء اور زمین وآسمان کے رہنے والوں کے دلوں میں محبت و مودت ڈال دیتا ہے او ر جب ان کے لئے دلوں میں محبت پیدا ہوجاتی ہے تو ان کے اکثر معاملات ان کے لئے آسان ہوجاتے ہیں اور انہیں بھلائی،دعائیں، رہنمائی،مقبولیت اور امامت حاصل ہوجاتی ہے۔ (السعدی:۵۰۱)
سوال: نیک لوگوں کی محبت پالینے سے ایک مسلمان کو کیا فائدہ ملتا ہے؟

سورۃ مريم آیات 0 - 97

فَإِنَّمَا يَسَّرۡنَٰهُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ ٱلۡمُتَّقِينَ وَتُنذِرَ بِهِۦ قَوۡمٗا لُّدّٗا ٩٧

مفہوم یہ ہے کہ قرآن کو میں نے تمہاری ہی زبان عربی میں کھول کھول کر بیان کردیا ہے اور اسے ہر اس شخص کے لئے آسان بنادیا ہے جو اس میں غوروفکر کرے۔ (القرطبی: ۱۳؍۵۲۸)
سوال: تدبر قرآن کی یہ اسکیم جس کے ساتھ آپ شب وروز لگے ہوئے ہیں۔ مشکل ہے یا آسان؟

سورۃ طه آیات 2 - 3

مَآ أَنزَلۡنَا عَلَيۡكَ ٱلۡقُرۡءَانَ لِتَشۡقَىٰٓ ٢ إِلَّا تَذۡكِرَةٗ لِّمَن يَخۡشَىٰ ٣

تذکرہ ایسی نصیحت کو کہتے ہیں جو دلوں کونرم کردے،جس سے لوگ احکام ِالٰہی کے پابند بن جائیں اور منع کردہ چیزوں سے بچنے لگیں۔
قرآن کو خاص طور پر اللہ سے ڈرنے والوں کے لئے تذکرہ بتایا اوروں کے لئے نہیں کیونکہ یہی لوگ درحقیقت اس سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ (شنقیطی: ۴؍۵)
سوال: وہ کون سی صفت ہے جو آپ کو وعظ ونصیحت سے فائدہ اٹھانے کے لئے تیار کرسکتی ہے؟

سورۃ طه آیات 0 - 3

إِلَّا تَذۡكِرَةٗ لِّمَن يَخۡشَىٰ ٣

تذکرہ اس نصیحت کو کہتے ہیں جو بھولی ہوئی چیز کو ذہن میں واپس لاتی ہے چونکہ توحید انسانی فطرت میں پیوست ہے اور شرک اس کے منافی ہے۔اسی لئے اسلام کی دعوت اسی فطرت یا ملت ِابراہیمی کی یاد دہانی ہے۔ (ابن عاشور: ۱۶؍۱۸۵)
سوال: اللہ تعالی نے قرآن کو تعلیم نہ کہہ کر تذکرہ(نصیحت)کیوں کہا؟

سورۃ طه آیات 0 - 7

وَإِن تَجۡهَرۡ بِٱلۡقَوۡلِ فَإِنَّهُۥ يَعۡلَمُ ٱلسِّرَّ وَأَخۡفَى ٧

ابن عباس اور سعید بن جُبیر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ(السِّرَّ) وہ پوشیدہ بات جوآپ اپنے دل میں رکھتے ہیں اور (أخفى) یعنی پوشیدہ سے پوشیدہ تر وہ راز ہے جسے اللہ تعالیٰ بعد میں آپ کے دل میں ڈالتا ہے اور آپ کو معلوم بھی نہیں ہوتا کہ آئندہ آپ اس کے بارے میں سوچیں گے کیونکہ آپ آج جس چیز کو اپنے دل میں پوشیدہ رکھتے ہیں اس سے واقف ہوتے ہیں لیکن کل دل میں کیاپوشیدہ رکھیں گے اس سے ناواقف ہوتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ ان تمام چیزوں سے واقف ہے جنہیں آج آپ دل میں چھپائے ہوئے ہیں اور ان تمام چیزوں سے بھی واقف ہے جنہیں آپ اپنے دل میں کل پوشیدہ رکھیں گے۔
علی بن ابی طلحہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہماسے روایت کی ہے کہ(السِّرَّ) وہ پوشیدہ بات ہے جسے آدمی اپنے دل میں چھپائے ہوئے ہے اور (أخفى)یعنی سب سے زیادہ پوشیدہ راز وہ ہے جسے وہ کرنے والا ہے مگر کرنے سے پہلے وہ اس سے پوشیدہ ہے۔ (البغوی: ۳؍۱۱۳)
سوال(السِّرَّ) یعنی راز اور(أخفى) یعنی سب سے زیادہ پوشیدہ راز کاعلم اللہ کو ہے اس میں اس کی عظیم قدرت ہے، اس کی وضاحت کیجئے.

سورۃ طه آیات 0 - 9

وَهَلۡ أَتَىٰكَ حَدِيثُ مُوسَىٰٓ ٩

اس سورت میں موسیٰ علیہ السلام کے پورے قصہ کو ذکر کرکے نبی ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کیونکہ اس وقت آپ کو دعوت وتبلیغ کے میدان میں لوگوں کے کفر وانکار اور طرح طرح کی پریشانیوں کا سامنا تھا۔چنانچہ یہ قصہ آپ ﷺ کے لئے اس صورت حال میں ایک زندہ مثال پیش کررہا تھا۔(ابن عطیہ: ۴؍۳۸)
سوال: سورۂ طٰہ میں موسیٰ علیہ السلام کا قصہ چین وسکون کا مژدہ پیش کرتا ہے۔لہذا اس قصہ میں غوروفکر کریں پھر اس سے دوفائدے نکالیں.