قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

ﮟ

ﱈ

ﭑ ﭒ ﭓ ﭔ ﭕ ﭖ ﭗ ﭘ
٧٧ ٧٧
ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ٧٨ ٧٨ ﭢ ﭣ
ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ٧٩ ٧٩
ﭭ
ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ٨٠ ٨٠
ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ
ﭸ ﭹ ﭺ ٨١ ٨١
ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ
ﮁ ﮂ ٨٢ ٨٢
ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ
ﮋ ﮌ ٨٣ ٨٣
ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ٨٤ ٨٤
ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ٨٥ ٨٥
ﮞ ﮟ
ﮠ ﮡ ﮢ ٨٦ ٨٦
ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ
ﮫ ﮬ ٨٧ ٨٧
ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ٨٨ ٨٨ ﯔ
ﯕ ﯖ ﯗ ٨٩ ٨٩
ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ
ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ٩٠ ٩٠
ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ
٩١ ٩١
ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ٩٢ ٩٢ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ
ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ٩٣ ٩٣
ﯺ ﯻ
ﯼ ﯽ ٩٤ ٩٤
ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ٩٥ ٩٥
311
سورۃ مريم آیات 0 - 80

وَنَرِثُهُۥ مَا يَقُولُ وَيَأۡتِينَا فَرۡدٗا ٨٠

آیت کا مفہوم یہ ہے کہ دنیاکے اندر ہم نے بندے کو جو بھی مال ودولت اور آل واولاد سے نوازا تھا اسے چھین لیں گے۔اور عبداللہ بن عباس( رضی اللہ عنہما ) وغیرہ کے بقول:ہم اسے ہلاک کرنے کے بعد اس کے مال واولاد کے وارث ہوجائیں گے۔
اورایک مطلب یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جس مال ودولت کی وہ تمنا کیاکرتا تھا ہم اس سے آخرت میں اسے محروم کردیں گے اور انہی چیزوں سے ہم مسلمانوں کو نوازیں گے۔
اور(ويأتينا فردًا) کا مطلب یہ ہے کہ: وہ ہمارے پاس بالکل اکیلا آئیگا،اس کے ساتھ کوئی مال ہوگا، نہ اولاداور نہ ہی کوئی قبیلہ ہوگا جو اس کی مدد کرے۔
(القرطبی: ۱۳؍۵۰۹)
سوال:اگر آپ کو کوئی ایسا شخص ملے جو اپنے مال ودولت،جاہ وحشمت اور آل واولاد کے دھوکے میں مبتلاہو اور اسے یہ گمان ہو کہ یہ ساری چیزیں ہمیشہ باقی رہیں گی تو آپ اسے ان آیات کی روشنی میں کیا نصیحت کریں گے؟

سورۃ مريم آیات 0 - 80

وَنَرِثُهُۥ مَا يَقُولُ وَيَأۡتِينَا فَرۡدٗا ٨٠

اس کی اولاد کا وارث ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ سب مسلمان ہوکر اللہ کے گروہ میں داخل ہوجائیں گے۔
چنانچہ عاص بن وائل کے ایک لڑکے عمرو رضی اللہ عنہ جلیل القدر صحابی بنےاور دوسرے بیٹے ہشام رضی اللہ عنہ بھی جلیل القدر صحابی بنے جو اَجنادین کے معرکے میں شہیدہوئے۔پس اس واقعہ میں نبی ﷺ کے لئے خوشخبری ہے اورعاص بن وائل کے لئے المناکی اور غیظ وغضب کے سوا کچھ نہیں ہے۔ (ابن عاشور: ۱۶؍۱۶۳)
سوال:آیت کریمہ میں مذکورعاص بن وائل سہمی کی اولاد کے وارث ہونے کا کیا مفہوم ہے؟

سورۃ مريم آیات 81 - 82

وَٱتَّخَذُواْ مِن دُونِ ٱللَّهِ ءَالِهَةٗ لِّيَكُونُواْ لَهُمۡ عِزّٗا ٨١ كَلَّاۚ سَيَكۡفُرُونَ بِعِبَادَتِهِمۡ وَيَكُونُونَ عَلَيۡهِمۡ ضِدًّا ٨٢

بندہ جب بھی اللہ کو چھوڑکر دوسرے پر بھروسہ کرتا اوراس سے امید جوڑتا ہے تو اسے سوائے مایوسی کے کچھ ہاتھ نہیں آتااور جب بھی غیر اللہ سے مدد چاہتا ہے تو سوائے رسوائی کے کچھ نہیں ملتا۔ (ابن تیمیہ: ۴؍۲۹۲)
سوال:بندہ جب بھی غیر اللہ پر بھروسہ کرتا اوراس سے امید جوڑتا ہے تو اسے سوائے مایوسی کے کچھ ہاتھ نہیں آتا۔آیت کریمہ اس نکتہ پر کیسے دلالت کرتی ہے؟

سورۃ مريم آیات 0 - 85

يَوۡمَ نَحۡشُرُ ٱلۡمُتَّقِينَ إِلَى ٱلرَّحۡمَٰنِ وَفۡدٗا ٨٥

کسی کے پاس آنے والے کے لئے ضروری ہے کہ جس کے پاس آیا ہے اس کے تئیں واضح امید اور حسن ِظن رکھتا ہو چنانچہ اہل ِتقویٰ اللہ تعالیٰ کی رحمت ، اس کے بےپایاں احسان اور دار الرضوان (جنت) میں اس کی نوازشوں سے فیضیاب ہونے کی امید رکھتے ہوئے اس کی خدمت میں حاضر ہوں گے۔ (السعدی؍۵۰۰)
سوال:اہل تقویٰ کا قیامت کے دن اپنے رب کے ساتھ کیا گمان ہوگا جب وہ اپنے رب کے پاس جمع ہوں گے؟

سورۃ مريم آیات 0 - 86

وَنَسُوقُ ٱلۡمُجۡرِمِينَ إِلَىٰ جَهَنَّمَ وِرۡدٗا ٨٦

رہے مجرمین تو انہیں جہنم کی طرف پیاسا ہی ہانکا جائیگااور یہ ان کی بدترین حالت ہوگی کہ ان کو انتہائی ذلت ورسوائی کے ساتھ سب سے بڑے قید خانے اور بدترین عذاب یعنی جہنم کی طرف ہانکا جائیگا جبکہ وہ تھکے ماندے اور سخت پیاسے ہوں گے۔ (السعدی؍۵۰۰)
سوال:آیت کریمہ میں قیامت کے دن مشرکوں کی جس بدترین حالت کی تصویر کشی کی گئی ہے،اسے واضح کیجئے.

سورۃ مريم آیات 0 - 87

لَّا يَمۡلِكُونَ ٱلشَّفَٰعَةَ إِلَّا مَنِ ٱتَّخَذَ عِندَ ٱلرَّحۡمَٰنِ عَهۡدٗا ٨٧

اللہ تعالیٰ نے ایمان باللہ اور اپنے رسولوں کی اتباع کوعہد قرار دیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتابوں میں اور اپنے رسولوں کی زبانی یہ عہد کیا ہے کہ وہ ان لوگوں کو اچھا بدلہ دیگا جو انبیاء ورسل کی اتباع کریں گے۔ (السعدی؍۵۰۱)
سوال:اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لانے کو عہد کیوں کہا گیا؟

سورۃ مريم آیات 90 - 91

تَكَادُ ٱلسَّمَٰوَٰتُ يَتَفَطَّرۡنَ مِنۡهُ وَتَنشَقُّ ٱلۡأَرۡضُ وَتَخِرُّ ٱلۡجِبَالُ هَدًّا ٩٠ أَن دَعَوۡاْ لِلرَّحۡمَٰنِ وَلَدٗا ٩١

ابن عباس رضی اللہ عنہمانے فرمایا: یقیناً آسمان وزمین،پہاڑ بلکہ انس وجن کو چھوڑکر ساری مخلوق شرک سے خوفزدہ رہتی ہے۔ (ابن کثیر:۳؍۱۳۵)
سوال:آیت کریمہ کی روشنی میں یہ واضح کیجئے کہ کیسے پہاڑ اور درخت بعض انسانوں کے مقابلے میں زیادہ عقلمند ہیں؟