قرآن
ﮟ
ﱈ
ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ٥٣ ٥٣ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ
ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ٥٤ ٥٤ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ
ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ٥٥ ٥٥ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ
ﭾ ﭿ ﮀ ٥٦ ٥٦ ﮂ ﮃ ﮄ ٥٧ ٥٧ ﮆ ﮇ ﮈ
ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ
ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ
ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ٥٨ ٥٨ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ
ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ
٥٩ ٥٩ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ
ﯞ ﯟ ﯠ ٦٠ ٦٠ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ
ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ٦١ ٦١ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ
ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ٦٢ ٦٢ ﯼ ﯽ ﯾ
ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ٦٣ ٦٣ ﰆ ﰇ ﰈ ﰉ ﰊ ﰋ ﰌ
ﰍ ﰎ ﰏ ﰐ ﰑ ﰒ ﰓ ﰔ ﰕ ﰖ ﰗ ﰘ ﰙ ٦٤ ٦٤
وَٱذۡكُرۡ فِي ٱلۡكِتَٰبِ إِسۡمَٰعِيلَۚ إِنَّهُۥ كَانَ صَادِقَ ٱلۡوَعۡدِ وَكَانَ رَسُولٗا نَّبِيّٗا ٥٤
امام مجاہد نے فرمایا:اسماعیل علیہ السلام نے جس چیز کا بھی وعدہ کیا اسے پورا کیا۔اور امام مقاتل نے فرمایا: ایک مرتبہ انہوں نے ایک شخص سے وعدہ کیا کہ وہ اپنی جگہ ٹھہرے رہیں گے یہاں تک کہ وہ واپس آجائے،اب ایساہوا کہ وہ شخص تین دن تک واپس نہیں آیا اور اسماعیل علیہ السلام وعدہ کے مطابق وہیں ٹھہرے رہے۔ (البغوی:۳؍۹۱)
سوال: انبیاء علیہم السلام کے یہاں وعدہ نبھانے کی کیا قیمت اور اہمیت ہے؟اس کی وضاحت کیجئے.
وَٱذۡكُرۡ فِي ٱلۡكِتَٰبِ إِسۡمَٰعِيلَۚ إِنَّهُۥ كَانَ صَادِقَ ٱلۡوَعۡدِ وَكَانَ رَسُولٗا نَّبِيّٗا ٥٤ وَكَانَ يَأۡمُرُ أَهۡلَهُۥ بِٱلصَّلَوٰةِ وَٱلزَّكَوٰةِ
یوں انہوں نے خود کو بھی درجہ کمال پر پہنچایا اور دوسروں کو بھی کامل بنایا، بالخصوص ان کو جو لوگوں میں ان کے نزدیک سب سے زیادہ خاص اور قریب تھے اور وہ ان کے اہل ِخانہ تھے کیونکہ وہ دوسروں کے مقابلے میں ان کی دعوت وتبلیغ کے سب سے زیادہ حقدار تھے۔ (السعدی؍۴۹۶)
سوال: یہاں اہل ِخانہ کا ذکر خاص طور پر کیوں کیا گیا؟
إِذَا تُتۡلَىٰ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتُ ٱلرَّحۡمَٰنِ خَرُّواْۤ سُجَّدٗاۤ وَبُكِيّٗا۩ ٥٨
اللہ تعالیٰ کے اسم مبارک (الرحمن) کی طرف آیات کی اضافت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات اس کے بندوں پرسراپا اس کی رحمت اور احسان ہیں کیونکہ اس نے آیات کے ذریعہ حق کی طرف ان کی رہنمائی کی،ان کے اندھے پن کو دور کرکے انہیں بصیرت سے نوازا،انہیں گمراہی سے بچایا اور جہالت کی تاریکیوں سے نکال کر علم کی روشنی عطاکی۔ (السعدی؍۴۹۶)
سوال: اللہ تعالیٰ کے اسم مبارک (الرحمن)کی طرف آیات کی اضافت سے کیا فائدہ حاصل ہوتا ہے؟
فَخَلَفَ مِنۢ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ أَضَاعُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَٱتَّبَعُواْ ٱلشَّهَوَٰتِۖ فَسَوۡفَ يَلۡقَوۡنَ غَيًّا ٥٩
لوگوں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے نماز ضائع کرنے کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: اس سے مراد نماز کو اتنی دیر سے ادا کرنا ہے کہ اس کا وقت نکل جائے،تولوگوں نے کہا: ہم تو اس سے مراد نماز چھوڑدینا سمجھتے تھے؟تو انہوں نے فرمایا: اگر چھوڑدیتے تو کافر ہوجاتے۔ (ابن تیمیہ: ۴؍۲۸۵)
سوال: نماز کو دیر سے پڑھنے کی سنگینی واضح کیجئے.
فَخَلَفَ مِنۢ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ أَضَاعُواْ ٱلصَّلَوٰةَ
جو نماز جیسے فریضہ کو ضائع کردے تو ظاہر ہے کہ وہ دوسرے واجبات کو بدرجۂ اولیٰ ضائع کردے گا؟کیونکہ نماز تو دین کی بنیاد اور اس کی اصل ہے اور بندے کا سب سے بہتر عمل ہے۔ (ابن کثیر:۳؍۱۳۵)
سوال: آیت میں (الصلاة ) کوخاص طور سے ذکر کرکے ایک بہت ہی اہم چیز سے آگاہ کرنامقصود ہے۔وہ کیا ہے؟
جَنَّٰتِ عَدۡنٍ ٱلَّتِي وَعَدَ ٱلرَّحۡمَٰنُ عِبَادَهُۥ بِٱلۡغَيۡبِۚ
اللہ تعالیٰ نے جنت کی نسبت اپنے اسم مبارک (الرحمن) کی طرف کی ہے کیونکہ اس میں ایسی رحمتیں اور ایسا حسن ِسلوک ہوگا کہ ان کو کسی آنکھ نے دیکھاہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی کے تصور میں کبھی ان کاخیال گذرا ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ کی رحمت کی طرف جنت کی نسبت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جنت کی خوشی دائمی ہوگی اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کی بقاکے ساتھ ساتھ یہ بھی باقی رہے گی کیونکہ یہ اس کی رحمت کا اثر اور اس کا نتیجہ ہے۔ (السعدی: ۴۹۷)
سوال: اللہ تعالیٰ کے اسم مبارک (الرحمن) کے ساتھ جنتوں کے ذکر سے ہمیں کیا فائدہ حاصل ہوتا ہے؟
وَلَهُمۡ رِزۡقُهُمۡ فِيهَا بُكۡرَةٗ وَعَشِيّٗا ٦٢
صبح وشام سے مراد دونوں وقتوں کی مقدار ہے کیونکہ وہاں صبح ہوگی نہ شام ہوگی اور علماء نے کہا ہے:جنت میں دن اور رات کا وجود نہیں ہوگا، وہاں لوگ ہمیشہ نور میں رہیں گے۔ (القرطبی: ۱۳؍۴۷۹)
سوال:اہل ِجنت کی روزی صبح وشام کیسی ہوگی؟ نیز کیا جنت میں دن و رات کا وجود ہوگا؟