قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے


٣٩ ٣٩
٤٠ ٤٠
٤١ ٤١

ﭿ ٤٢ ٤٢


٤٣ ٤٣

٤٤ ٤٤

٤٥ ٤٥

٤٦ ٤٦

٤٧ ٤٧


٤٨ ٤٨

ﯿ ٤٩ ٤٩

٥٠ ٥٠

٥١ ٥١
308
سورۃ مريم آیات 0 - 39

وَأَنذِرۡهُمۡ يَوۡمَ ٱلۡحَسۡرَةِ إِذۡ قُضِيَ ٱلۡأَمۡرُ وَهُمۡ فِي غَفۡلَةٖ وَهُمۡ لَا يُؤۡمِنُونَ ٣٩

حسرت: بے انتہا شرمندگی اور کسی ایسی چیز کے کھوجانے پر افسوس کو کہتے ہیں جس کی تلافی ممکن نہ ہو۔اور اِنذارایسی خبر کو کہتے ہیں جس میں دھمکی بھی ہو۔ مطلب یہ ہے کہ لوگوں کو قیامت کے دن سے ڈرائیے۔یہاں قیامت کے دن کو حسرت کادن کہا گیاہے کیونکہ دنیا میں سستی اور کوتاہی کی وجہ سے کفار اس دن بہت زیادہ شرمندہ ہوں گے۔ اور مومن بھی اپنی کوتاہیوں کی وجہ سے اس دن شرمندہ ہوسکتے ہیں۔ (شنقیطی: ۳؍۴۲۲)
سوال: قیامت کے دن کو حسرت کا دن کیوں کہا گیا؟او ر کیا حسرت وندامت صرف کافروں کے ساتھ خاص ہے؟

سورۃ مريم آیات 0 - 41

وَٱذۡكُرۡ فِي ٱلۡكِتَٰبِ إِبۡرَٰهِيمَۚ إِنَّهُۥ كَانَ صِدِّيقٗا نَّبِيًّا ٤١

“صِدّیق” بہت زیادہ سچ بولنے والے اور اس پر جمے رہنے والے کو کہتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ صدیق اسے کہتے ہیں جو اللہ کی وحدانیت کی تصدیق کرے، انبیاء ورسل کی تصدیق کرے،قیامت کی تصدیق کرے،نیز احکامات کو بجا لائے اور اس پر عمل کرے۔ (البغوی: ۳؍۸۸)
سوال: بندہ صدیق کیسے بنتا ہے؟

سورۃ مريم آیات 42 - 45

يَٰٓأَبَتِ لِمَ تَعۡبُدُ مَا لَا يَسۡمَعُ وَلَا يُبۡصِرُ وَلَا يُغۡنِي عَنكَ شَيۡـٔٗا ٤٢ يَٰٓأَبَتِ إِنِّي قَدۡ جَآءَنِي مِنَ ٱلۡعِلۡمِ مَا لَمۡ يَأۡتِكَ فَٱتَّبِعۡنِيٓ أَهۡدِكَ صِرَٰطٗا سَوِيّٗا ٤٣ يَٰٓأَبَتِ لَا تَعۡبُدِ ٱلشَّيۡطَٰنَۖ إِنَّ ٱلشَّيۡطَٰنَ كَانَ لِلرَّحۡمَٰنِ عَصِيّٗا ٤٤ يَٰٓأَبَتِ إِنِّيٓ أَخَافُ أَن يَمَسَّكَ عَذَابٞ مِّنَ ٱلرَّحۡمَٰنِ فَتَكُونَ لِلشَّيۡطَٰنِ وَلِيّٗا ٤٥

یوں ابراہیم خلیل علیہ السلام نے اپنے باپ کو آسان سے آسان تر بات کی طرف مرحلہ واردعوت دی۔پہلےآپ نے انہیں اپنے علم کے بارے میں بتایا کہ یہ علم آپ پر میری اطاعت کو واجب کرتی ہے۔اگر آپ میری اطاعت کریں گے تو آپ کو سیدھے راستہ کی رہنمائی مل جائیگی۔پھر آپ نے انہیں شیطان کی عبادت کرنے سے منع فرمایا اور انہیں نقصان اور گھاٹے کی تمام صورتوں سے آگاہ کیا جو شیطان کی عبادت میں پائی جاتی ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اس کی ناراضگی سے ڈرایا کہ اگر وہ اپنے اسی حال پر قائم رہے تو ضرور اللہ کے عذاب کا سامنا کرنا پڑیگا اور شیطان کے دوست بن بیٹھیں گے۔ (السعدی:۵۹۴)
سوال: کسی چیز کودھیرے دھیرے تھوڑا تھوڑابتانا دعوت الی اللہ کے میدان میں وہ اہم چیز ہے جس کی پابندی ایک داعی کو کرنی چاہئے۔یہ بات ہم ابراہیم علیہ السلام کے واقعہ سے کیسے سیکھتے ہیں؟

سورۃ مريم آیات 0 - 43

يَٰٓأَبَتِ إِنِّي قَدۡ جَآءَنِي مِنَ ٱلۡعِلۡمِ مَا لَمۡ يَأۡتِكَ

اس میں جو نرم گفتاری پائی جاتی ہے وہ کسی سے مخفی نہیں کیونکہ ابراہیم علیہ السلام نے یہ نہیں فرمایاکہ “اباجان!میں عالم ہوں اور آپ جاہل ہیں”۔یا “آپ کے پاس کوئی علم نہیں”۔ بلکہ انہوں نے اس اندازمیں گفتگو فرمائی جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بیشک میرے اور آپ دونوں کے پاس علم ہے مگر جو علم مجھ تک پہنچا وہ آپ کے پاس نہیں پہنچا۔(السعدی؍۴۹۴)
سوال: دعوت کے میدان میں لوگوں سے گفتگو کرتے وقت ایک داعی اس آیت سے کیسے فائدہ حاصل کرسکتا ہے؟

سورۃ مريم آیات 0 - 44

يَٰٓأَبَتِ لَا تَعۡبُدِ ٱلشَّيۡطَٰنَۖ إِنَّ ٱلشَّيۡطَٰنَ كَانَ لِلرَّحۡمَٰنِ عَصِيّٗا ٤٤

(عصيًّا) کی صفت لائی گئی ہے جو کہ “عِصیان” سے صیغہ مبالغہ ہے اور اس کے ساتھ فعل (كان) کا اضافہ بھی ہے۔یہ بتانے کے لئے کہ شیطان اپنے رب کی نافرمانی میں ہمیشہ سے ملوث ہے اور رہیگا، نافرمانی میں اس کے قدم بہت مضبوط ہیں۔ (ابن عاشور: ۱۶؍۱۱۷)
سوال: شیطان کو(عصيًّا)سے کیوں متصف کیاگیا؟

سورۃ مريم آیات 0 - 47

قَالَ سَلَٰمٌ عَلَيۡكَۖ سَأَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيٓۖ

ابراہیم خلیل علیہ السلام نے اپنے والد کو بالکل اسی طرح جواب دیا جس طرح رحمٰن کے بندے جاہلوں کے خطاب کا جواب دیتے ہیں۔آپ ان سے گالی گلوچ کے ساتھ پیش نہیں آئے بلکہ صبر سے کام لیااور کوئی ایسی بات نہیں کہی جو باپ کو ناگوارگذرتی بلکہ کہا:آپ پر سلامتی ہو ۔ (السعدی:۴۹۵)
سوال:داعی کو گالی گلوچ اور ناگوارباتوں کا سامنا کرنا پڑے تو وہ ادب واخلاق کا مظاہرہ کس طرح کرے؟

سورۃ مريم آیات 0 - 48

وَأَعۡتَزِلُكُمۡ وَمَا تَدۡعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَأَدۡعُواْ رَبِّي عَسَىٰٓ أَلَّآ أَكُونَ بِدُعَآءِ رَبِّي شَقِيّٗا ٤٨

یہ دراصل اس داعئِ حق کا وظیفہ ہے جو ایسے لوگوں سے مایوس ہوگیا ہو جن کو اس نے اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی مگر انہوں نے ٹھکرادیا۔ لہذا جو کوئی اس قسم کی صورت حال میں مبتلا ہوجائے تو اس پر فرض ہے کہ وہ اپنے نفس کی اصلاح میں مشغول رہے اور اپنے رب سے امید رکھے کہ وہ اس کی کوشش کو قبول فرمائیگااور وہ ہر طرح کی برائی اور برے لوگوں سے دور رہے۔ (السعدی؍۴۹۵)
سوال: داعی اس وقت کیا کرے جب اس کی دعوت کو مسلسل ٹھکرایا جارہا ہو؟