قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے


٢٦ ٢٦

٢٧ ٢٧


٢٨ ٢٨
ﭿ
٢٩ ٢٩

٣٠ ٣٠

٣١ ٣١

٣٢ ٣٢

٣٣ ٣٣

٣٤ ٣٤

٣٥ ٣٥

٣٦ ٣٦

ﯿ ٣٧ ٣٧

٣٨ ٣٨
307
سورۃ مريم آیات 0 - 26

فَلَنۡ أُكَلِّمَ ٱلۡيَوۡمَ إِنسِيّٗا ٢٦

مریم علیہا السلام کو اس معاملے کی نفی کے سلسلہ میں لوگوں سے گفتگو نہ کرنے کا حکم اس لئے دیا گیا تھا کہ لوگ اس کو تسلیم نہیں کریں گے اور نہ اس میں کوئی فائدہ ہے۔ نیز یہ کہ ان کی براء ت کا اظہار گود میں موجود عیسیٰ علیہ السلام کی گفتگو سے ہو تاکہ ان کی براء ت کی سب سے بڑی شہادت بن جائے کیونکہ عورت کاشوہر کے بغیر کسی بچے کو جنم دینا اور پھر یہ دعویٰ کرنا کہ یہ بچہ کسی مرد کے چھوئے بغیر ہے، اتنا بڑا دعویٰ ہے کہ اگر اس دعوے کی تائید میں متعدد گواہ بھی موجود ہوں تب بھی اس دعوے کو تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔اسی لئے اس خلافِ عادت واقعہ کی تائید کے لئے ایک اور خلافِ عادت واقعہ کو دلیل اور ثبوت بنایا گیا اور وہ ہے عیسیٰ علیہ السلام کا اپنی انتہائی چھوٹی عمر میں کلام کرنا۔ (السعدی: ۴۹۲)
سوال:مریم علیہا السلام کو یہ حکم کیوں ملا کہ عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں لوگوں سے کوئی بات نہ کریں؟

سورۃ مريم آیات 0 - 27

فَأَتَتۡ بِهِۦ قَوۡمَهَا تَحۡمِلُهُ

یعنی مریم علیہا السلام عیسیٰ علیہ السلام کو لے کر اپنی قو م میں تشریف لائیں چونکہ انہیں اپنی براء ت اور اپنے نفس کی پاکیزگی کا علم تھا (اس لئے انہوں نے کسی کی پرواہ نہیں کی۔) (السعدی: ۴۹۲)
سوال: عیسیٰ علیہ السلام کو لے کر مریم علیہا السلام نے اپنی قوم کے پاس آنے کی جرأت کیسے کی حالانکہ وہ کنواری تھیں؟

سورۃ مريم آیات 0 - 30

قَالَ إِنِّي عَبۡدُ ٱللَّهِ ءَاتَىٰنِيَ ٱلۡكِتَٰبَ وَجَعَلَنِي نَبِيّٗا ٣٠

اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ ذکر کیا کہ بیشک عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے بچپن ہی میں گود کے اندر لوگوں سے جو پہلی گفتگو کی وہ یہ تھی کہ آپ اللہ کے بندے ہیں۔اس کے اندر عیسائیوں پر بہت بڑا رد اور پھٹکار ہے جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام خدا ہیں یا اس کے بیٹے ہیں یا اس کی الوہیت میں شریک ہیں۔ (شِنقیطی: ۳؍۴۱۶)
سوال: عیسیٰ علیہ السلام کی پہلی گفتگو سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟

سورۃ مريم آیات 0 - 30

قَالَ إِنِّي عَبۡدُ ٱللَّهِ

عیسیٰ علیہ السلام نے ان کو مخاطب کرتے ہوئے اپنے آپ کو عبودیت کی صفت سے متصف کیا اور ان پر یہ واضح کردیا کہ وہ کسی ایسی صفت کے حامل نہیں جو انہیں اللہ یا اللہ کا بیٹا ہونے کا مستحق بنادے۔اللہ تعالیٰ ان عیسائیوں کے قول سے بالاتر ہے جو عیسیٰ علیہ السلام کے اس قول(کہ میں اللہ کا بندہ ہوں) کی صریح مخالفت کرتے ہیں۔(السعدی؍۴۹۲)
سوال: عیسیٰ علیہ السلام نے سب سے پہلے یہی بات کیوں کہی کہ “میں اللہ کا بندہ ہوں”؟

سورۃ مريم آیات 0 - 31

وَجَعَلَنِي مُبَارَكًا أَيۡنَ مَا كُنتُ

یعنی میں کہیں بھی رہوں بہت زیادہ نفع بخش بن کے رہوں گا۔امام مجاہد نے کہا:بھلائی کی تعلیم دینے والا بن کر رہوں گا۔اور امام عطاء نے کہا: میں لوگوں کو اللہ کی طرف،اس کی وحدانیت اور اس کی عبادت کی طرف بلاتا رہوں گا۔(البغوی: ۳؍۸۵)
سوال: بندہ ہر جگہ مبارک کیسے بن سکتا ہے؟

سورۃ مريم آیات 0 - 32

وَبَرَّۢا بِوَٰلِدَتِي وَلَمۡ يَجۡعَلۡنِي جَبَّارٗا شَقِيّٗا ٣٢

عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی قوم کے اندر اللہ کی طرف سے یہ خاص صفت ملی تھی کیونکہ اس وقت بنی اسرائیل میں والدین کی فرمانبرداری کی صفت بہت کمزور پڑچکی تھی اور خاص طور پر والدہ کی کیونکہ انہیں کمزور سمجھا جاتا تھا اس لئے کہ ان کی حد درجہ محبت اور مشقت کے نتیجے میں بچے کے اندر ان کی فرمانبرداری کے سلسلے میں لاپرواہی کی جرأت پیدا ہوجاتی تھی۔ (ابن عاشور: ۱۶؍۱۰۰)
سوال: عیسیٰ علیہ السلام کی ان کی والدہ کے ساتھ فرمانبرداری کو خصوصی طور پر کیوں ذکر کیا گیا؟

سورۃ مريم آیات 0 - 33

وَٱلسَّلَٰمُ عَلَيَّ يَوۡمَ وُلِدتُّ وَيَوۡمَ أَمُوتُ وَيَوۡمَ أُبۡعَثُ حَيّٗا ٣٣

پیدائش، وفات اور دوبارہ اٹھائے جانے کا دن خصوصی طور پر ان تین دنوں کا ذکر کیا گیا ہے کیونکہ یہ وہ اوقات ہیں کہ جن میں انسان کو رحمت ِالٰہی کی سخت ضرورت ہوتی ہے۔ (ابن عطیہ: ۴؍۱۵)
سوال:عیسیٰ علیہ السلام نے مذکورہ تین دنوں کا خصوصی طور پر ذکر کیا ہے۔اس کی کیا وجہ ہے؟ وضاحت کیجئے.