قرآن
ﮞ
ﱈ
٨٥ ٨٥ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ
ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ
ﭶ ﭷ ٨٦ ٨٦ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ
ﮃ ﮄ ﮅ ٨٧ ٨٧ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ
ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ٨٨ ٨٨ ﮖ ﮗ ﮘ ٨٩ ٨٩ ﮚ
ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ
ﮧ ﮨ ٩٠ ٩٠ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ٩١ ٩١ ﯓ
ﯔ ﯕ ٩٢ ٩٢ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ
ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ٩٣ ٩٣ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ
ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ
ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ٩٤ ٩٤ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ
ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ٩٥ ٩٥ ﰆ ﰇ ﰈ ﰉ ﰊ ﰋ ﰌ
ﰍ ﰎ ﰏ ﰐ ﰑ ﰒ ﰓ ﰔ ﰕ ﰖ ﰗ ﰘ ﰙ
ﰚ ٩٦ ٩٦ ﰜ ﰝ ﰞ ﰟ ﰠ ﰡ ﰢ ﰣ ٩٧ ٩٧
إِنَّا مَكَّنَّا لَهُۥ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَءَاتَيۡنَٰهُ مِن كُلِّ شَيۡءٖ سَبَبٗا ٨٤
قرآن میں بیان کردہ یہ قصہ ذوالقرنین کے بارے میں کچھ بہت ہی اہم امور کی نشاندہی کرتا ہے۔ایک تو یہ کہ: ذوالقرنین نیک اور انصاف پسند بادشاہ تھے۔دوسرا یہ کہ: اللہ کی طرف سے انہیں الہام ہوتا تھا یعنی ان کے دل میں خیر کی باتیں ڈالی جاتی تھیں۔تیسرا یہ کہ ان کی حکومت بہت دوردراز کے علاقوں میں پھیلی ہوئی تھی۔چوتھا یہ کہ: وہ دوران فتوحات مغرب کی سمت میں بہت ہی دورکےایک نامعلوم علاقے میں پہنچ گئے تھے جسے قرآن نے (عَيْنٍ حَمِئَةٍ ) کہا ہے۔(ابن عاشور: ۱۶؍۲۰)
سوال:اللہ تعالیٰ بعض دفعہ کسی بندے کو دنیا اور آخرت دونوں کی نعمتوں سے نواز دیتا ہے۔آیت سے اس بات کو ثابت کیجئے.
وَءَاتَيۡنَٰهُ مِن كُلِّ شَيۡءٖ سَبَبٗا ٨٤
اللہ تعالیٰ نے انہیں جو اسباب وذرائع دئیے تھے،وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺنے ہمیں نہیں بتائے ہیں اور نہ ہی ان کے بارے میں قطعی علم پر مشتمل خبریں ہی وارد ہیں لہذا اس بابت توقف اختیار کرنے میں ہی بھلائی ہے۔ (السعدی: ۴۸۵)
سوال:جن امور کی خبر اللہ او ر اس کے رسول ﷺنے ہمیں نہیں دی ہے۔ان سے متعلق ہمیں کیا موقف اپنانا چاہئے؟
وَءَاتَيۡنَٰهُ مِن كُلِّ شَيۡءٖ سَبَبٗا ٨٤ فَأَتۡبَعَ سَبَبًا ٨٥
اس کا معنی یہ ہے کہ: انہوں نے ان ذرائع واسباب کو درست طریقے سے استعمال کیا۔درحقیقت بہت سے لوگوں کے پاس اسباب ہوتے ہیں مگر وہ انہیں حق کے ساتھ استعمال نہیں کرتے اور بہت سے لوگوں کے پاس کوئی ذریعہ ہی نہیں ہوتا، تو اگر ذرائع کے ساتھ ان کے استعمال کی قدرت بھی ہو اور درست طریقے سے انہیں استعمال کیا جائے تو مقصد حاصل ہوتا ہے او ر اگر اسباب نہ ہوں یا ان کے استعمال کی قدرت نہ ہوتو مقصود حاصل نہیں ہوتا۔(السعدی: ۴۸۵)
سوال:انسان اسباب وذرائع سے حقیقی معنی میں کب فائدہ اٹھاسکتا ہے؟
قُلۡنَا يَٰذَا ٱلۡقَرۡنَيۡنِ إِمَّآ أَن تُعَذِّبَ وَإِمَّآ أَن تَتَّخِذَ فِيهِمۡ حُسۡنٗا ٨٦
اس کا معنی یہ ہے کہ:اللہ تعالیٰ نے ذوالقرنین کو ان پر فتح دی، غلبہ عطاکیا اور ان پر حاکم بنادیا پھر انہیں اختیار دے دیا کہ اگر چاہیں تو کچھ کو قید کریں اور کچھ کوقتل اور اگر چاہیں تو احسان کرکے یا فدیہ لے کر چھوڑدیں۔تو انہوں نے اپنی رائے بتاکر اپنے عدل وایمان کا ثبوت دیا۔(ان کی رائے کا ذکر اگلی آیت میں ہے) (ابن کثیر: ۵؍۱۹۳)
سوال:مومنین اللہ کی مخلوق پربہت مہربان ہوتے ہیں۔آیت سے اس بات کی وضاحت کیجئے.
وَأَمَّا مَنۡ ءَامَنَ وَعَمِلَ صَٰلِحٗا فَلَهُۥ جَزَآءً ٱلۡحُسۡنَىٰۖ وَسَنَقُولُ لَهُۥ مِنۡ أَمۡرِنَا يُسۡرٗا ٨٨
( فله جزاء الحسنى ) یعنی:بدلہ میں اسے قیامت کے دن اللہ کے پاس جنت اور عمدہ حالت عطاہوگی۔ (وسنقول له من أمرنا يسرًا) یعنی: ہم اس کے ساتھ اچھا سلوک کریں گے،اچھی بات کریں گے اور اس کے معاملات آسان کردیں گے۔ یہ بات دلالت کرتی ہے کہ ذوالقرنین نیک،ولی صفت،عادل اور ذی علم بادشاہوں میں سے تھے کہ انہوں نے ہر ایک کے ساتھ اس کے حسب حال معاملہ کرکے اللہ کی مرضی کو پالیا۔ (السعدی:۴۸۵)
سوال:نیک حاکم کے توفیق یافتہ ہونے کی کیا نشانی ہے؟
قَالُواْ يَٰذَا ٱلۡقَرۡنَيۡنِ إِنَّ يَأۡجُوجَ وَمَأۡجُوجَ مُفۡسِدُونَ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَهَلۡ نَجۡعَلُ لَكَ خَرۡجًا عَلَىٰٓ أَن تَجۡعَلَ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَهُمۡ سَدّٗا ٩٤ قَالَ مَا مَكَّنِّي فِيهِ رَبِّي خَيۡرٞ فَأَعِينُونِي بِقُوَّةٍ أَجۡعَلۡ بَيۡنَكُمۡ وَبَيۡنَهُمۡ رَدۡمًا ٩٥
اس آیت میں اس بات کی دلیل ہے کہ رعایا کا تحفظ حاکم کا فریضہ ہے چنانچہ جو اموال فئ کے طور پر حاصل ہوتے ہیں اور دیگر عام مالی حقوق جو حاکم کے زیردست اور زیر نگرانی قومی خزانے میں جمع ہوتے ہیں ان اموال سے سرحدوں کی حفاظت کرے، رعایا کی ضرورتوں میں جو خلل ہے اسے پورا کرے، جن چیزوں کی اصلاح کی ضرورت ہے اس کی اصلاح کرے، حتٰی کہ اگر وہ سارے اموال رعایا کے حقوق کی ادائیگی اور عام اخراجات میں ختم ہوجائیں تو رعایا اپنے مال سے اس کی بھرپائی کرے، اور حاکم وقت تین شرطوں کی رعایت کرتے ہوئے رعایا کا بہتر خیال رکھے (1) رعایا پر اپنے آپ کو ترجیح دیتے ہوئے کوئی چیز اپنے لئے خاص نہ کرے (2) حاجتمندوں کو مقدم رکھے اور ان کی مدد کرے (3) ان کی قدر ومنزلت کا لحاظ رکھتے ہوئے نوازشوں میں انصاف سے کام لے(القرطبی: ۱۳؍۳۸۴-۳۸۵)
سوال:اللہ تعالیٰ کسی کو حاکم یا امیر بنائے تو اس پر اپنی رعایا یا ماتحتوں کے تئیں کیا فرائض ہوتے ہیں؟
قَالَ مَا مَكَّنِّي فِيهِ رَبِّي خَيۡرٞ فَأَعِينُونِي بِقُوَّةٍ أَجۡعَلۡ بَيۡنَكُمۡ وَبَيۡنَهُمۡ رَدۡمًا ٩٥
ذوالقرنین نے ان سے کہا: اللہ تعالیٰ نے مجھے جو حکومت اور قدرت دی ہے وہ تمہارے مالوں اور تعاون سے بڑھ کر ہے۔(القرطبی:۱۳؍۳۸۴)
سوال:کیا ذوالقرنین اپنی بادشاہت سے فتنہ میں پڑے اور انہوں نے نعمتوں کے مالک اللہ تعالیٰ کو بھول کر اپنی قوت پر گھمنڈ کیا؟