قرآن
ﮎ
ﰹ
ﭚ ﭛ ٦ ٦ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ
ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ٧ ٧ ﭬ ﭭ
ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ٨ ٨
ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ
ﮀ ﮁ ٩ ٩ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ
ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ١٠ ١٠ ﮑ ﮒ ﮓ
ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ١١ ١١ ﮝ ﮞ
ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ١٢ ١٢ ﮥ ﮦ ﮧ
ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ
ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ١٣ ١٣ ﯛ ﯜ
ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ
ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ١٤ ١٤ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ
ﯰ ﯱ ﯲ ١٥ ١٥ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ
ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ١٦ ١٦
خَتَمَ ٱللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمۡ وَعَلَىٰ سَمۡعِهِمۡۖ
مسلسل گناہ دلوں پر پردہ ڈال دیتے ہیں۔اور پردہ پڑجانے کے بعد اللہ کی طرف سے مہرلگادی جاتی ہے ۔اب ایسے دلوں میں نہ ایمان کو داخل ہونے کا راستہ ملتا ہے،نہ انہیں کفر سے چھٹکارہ پانے کی راہ ملتی ہے ۔یہی وہ مہر اور ٹھپہ ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فرمان میں ذکر کیا ہے:(خَتَمَ ٱللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمۡ وَعَلَىٰ سَمۡعِهِمۡۖ )۔(ابن کثیر:۱؍۴۵)
سوال:دل پر مہر لگانے کی کیا صورت ہے؟
خَتَمَ ٱللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمۡ وَعَلَىٰ سَمۡعِهِمۡۖ وَعَلَىٰٓ أَبۡصَٰرِهِمۡ غِشَٰوَةٞۖ
پھر اللہ نے ان چيزوں کا تذکرہ فرمایاجو ان کے ایمان لانے کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہیں، چنانچہ فرمایا:(خَتَمَ ٱللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمۡ وَعَلَىٰ سَمۡعِهِمۡۖ )یعنی ان کے دلوں اور کانوں پر مہر کا ایسا ٹھپہ لگادیا کہ نہ ان میں ایمان داخل ہوسکتاہے ،نہ اس کا وہاں گزر ہوسکتا ہے، لہٰذا وہ نہ کسی فائدہ مند چیز کو سمجھ سکتے ہیں ، نہ ہی کسی مفید بات کو سن سکتے ہیں۔
(وَعَلَىٰٓ أَبۡصَٰرِهِمۡ غِشَٰوَةٌ)(غِشَٰوَةٌ)سے مراد ہے :جھلی ،پردہ،آڑ.یعنی ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا ہے جو انہیں فائدہ مند چیزوں کے دیکھنے سے روکتا ہے۔یہی(آنکھ، کان اور دل)علم اور بھلائی سے مستفید ہونے کے ذرائع اور وسائل ہیں جو اُن پر بندکردیئےگئے ہیں۔اب ان سے نہ کسی بھلائی کی توقع رکھی جاسکتی ہے، اور نہ کسی خیر کی امید کی جاسکتی ہے ۔انہیں ان ذرائع سے محروم کئے جانے، اور ان پر ایمان کے دروازے بند کئے جانے کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے کفر وانکار اور عناد ومخالفتِ حق کا راستہ اختیار کیاہے۔(السعدی:۴۲)
سوال:مہر لگانے اور پردہ ڈالنے کے لئے مذکورہ اعضاءِ جسم کو کیوں خاص کیا گیا؟
خَتَمَ ٱللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمۡ وَعَلَىٰ سَمۡعِهِمۡۖ وَعَلَىٰٓ أَبۡصَٰرِهِمۡ غِشَٰوَةٞۖ وَلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيمٞ ٧
قرآن میں متعدد مقامات پر کان کوآنکھ سے پہلے ذکر کیا گیا ہے ۔اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ کان انسان کے لئے آنکھ سے زیادہ فائدہ مند ہے ۔ کیونکہ کسی چیز کو دوسری سے پہلے ذکر کرنااس کی اہمیت کوبتاتا ہے، اور اس كي وجه يه ہے کہ کان علوم ومعارف کے حصول کا آلہ ہے جس کی بدولت عقل وفہم کو کمال حاصل ہوتا ہے،اور یہی امتیوں کے ذہنوں تک انبیائے کرام (علیہم السلام) کی دعوت کے مکمل طور پر پہنچنے کا ذریعہ ہے،بہ نسبت اس کے کہ سننے کی قوت نہ ہونے کی صورت میں آنکھوں کے واسطے سے ذہنوں تک پہنچے۔(ابن عاشور:۱؍۲۵۸)
سوال:انسان کے لئے کان اور آنکھ میں سے کون سا ذریعہ زیادہ مؤثر ہے؟
وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَقُولُ ءَامَنَّا بِٱللَّهِ وَبِٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ وَمَا هُم بِمُؤۡمِنِينَ ٨
جب سورت کی ابتدائی چار آیتوں میں مؤمنین کے اوصاف کا ذکرہوگیا،پھر بعد کی دوآیتوں میں کافروں کا حال بتادیا ،تو اب اللہ تعالیٰ نےان منافقین کا حال بیان کرنا شروع فرمایا جو ایمان کا اظہار کرتے اور کفر کو (دل میں)چھپاکر رکھتے ہیں،چونکہ ان کا معاملہ بہت سارے لوگوں پرواضح نہیں ہوتا ، اس لئے کئی صفات لاکر تفصیل سے ان کا ذکر کیا۔(ابن کثیر:۱؍۴۵)
سوال:سورۂ بقرہ کی شروع میں اللہ تعالیٰ نے چار آیتوں میں مومنوں کے احوال واوصاف بیان کئے ،دوآیتوں میں کافروں کے جب کہ منافقین کے اوصاف تیرہ آیتوں میں بیان فرمائے ۔اس کی کیا وجہ ہے؟
وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَقُولُ ءَامَنَّا بِٱللَّهِ وَبِٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ وَمَا هُم بِمُؤۡمِنِينَ ٨
اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے منافقین کی صفات سے آگاہ کیا ہے تاکہ ان کی ظاہری حالت سے مومنین دھوکہ نہ کھائیں۔ورنہ ایساہوگا کہ ان سے بچاؤ اور گریز نہیں کیا جائے گا، اور ان کو اہلِ ایمان سمجھا جائیگا ، جبکہ وہ حقیقت میں کفار ہیں۔اس صورت میں بڑا فسادوبگاڑ واقع ہوگا ، کیونکہ ان سے احتیاط اور بچاؤ نہ کرنا اور انہیں مومن سمجھنا انتہائی خطرناک ہے۔(ابن کثیر:۱؍۴۶)
سوال:مسلمانوں کا منافقین کے حالات سے واقف ہوناکتنا اہم ہے؟
فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٞ فَزَادَهُمُ ٱللَّهُ مَرَضٗاۖ وَلَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمُۢ بِمَا كَانُواْ يَكۡذِبُونَ ١٠
(فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ):(ان کے دلوں میں بيماری ہے)اور يہ بيماری ان کے دنیا سے دل لگانے اور اس سے محبت ركھنے ، اور آخرت سے غفلت برتنے اور منہ موڑلینے کی ہے۔
(فَزَادَهُمُ اللّٰهُ مَرَضًا): (تو اللہ نے انہیں بیماری میں مزید بڑھادیا)یعنی انہیں خود انہی كی ذات کے حوالے کردیا، اور ان پر دنیا کے فكر و غم اس طرح جمع کردیے کہ انهيں دین کی طرف آنے کی فرصت ہی نهيں ہے ۔
(وَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمُۢ): (اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے) فنا ہونے والی دنیا کے بدلے ہمیشہ رہنے والی آخرت میں ان کے لئے دردناک عذاب ہے ۔
جنیدبغدادی (رحمہ اللہ) نے کہا :دلوں کی بیماریاں خواہشاتِ نفس كی پيروی سے پيدا ہوتی ہیں۔ جس طرح جسماني بیماریاں جسم کے اعضاء بیمار ہونے کی وجہ سے ہوتی ہیں ۔(القرطبی:۱؍۳۰۰)
سوال:منافقین کے دلوں میں بیماری کے سرایت کرجانے کا سبب کیا ہے؟
أُوْلَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ ٱشۡتَرَوُاْ ٱلضَّلَٰلَةَ بِٱلۡهُدَىٰ فَمَا رَبِحَت تِّجَٰرَتُهُمۡ وَمَا كَانُواْ مُهۡتَدِينَ ١٦
یعنی وہ ضلالت وگمراہی میں ایسی دلچسپی رکھتے ہیں جیسے کوئی خریدار (اپنی پسند کا)سامان خریدنے میں رغبت رکھتا ہے، اور اسے خریدنے کے لئے بھاری سے بھاری قیمتیں ادا کرنے کو تیار رہتا ہے ۔
یہ ایک بہترین مثال ہے، جس ميں اللہ تعالى نے گمراهی کوجوبرائی کی انتہاء ہے سامان کے مثل قرار دیا ہے، اور ہدایت کوجوبھلائی کی انتہاء ہے اس كی قیمت کے طور پر بيان كيا ہے۔(السعدی:۴۳)
سوال:ہدایت کے بدلے گمراہی کیسے خریدی جاتی ہے؟