قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے



١٦ ١٦


ﭿ
١٧ ١٧



١٨ ١٨





١٩ ١٩

٢٠ ٢٠
295
سورۃ الكهف آیات 0 - 16

وَإِذِ ٱعۡتَزَلۡتُمُوهُمۡ وَمَا يَعۡبُدُونَ إِلَّا ٱللَّهَ

ایسا کہا جاتا ہے کہ ان نوجوانوں نے جب اپنے بادشاہ کو اللہ پر ایمان لانے کی دعوت دی تو اس نے انکار کردیا اور انہیں دھمکی بھی دی۔البتہ انہیں مہلت دے دی تاکہ یہ اپنے نئے دین کے بارے میں غور وفکر کریں لیکن وہ اس مہلت میں غوروفکر کرنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے کہ آزمائش میں پڑنے سے بہتر ہے کہ یہاں سے راہ فرار اختیار کرلی جائے۔چنانچہ ایسی ہی صورت حال میں لوگوں سے دور ہوجانا مشروع ہے البتہ دوسری حالتوں میں سماج سے دوری بالکل جائز نہیں ہے کیونکہ ایسی حالت میں آدمی سےجمعہ اور جماعت فوت ہوجائے گا۔(ابن کثیر: 3؍73)
سوال:ایک مسلمان کے لئے دین کی خاطر لوگوں سے دور چلے جانا کب جائز ہے؟

سورۃ الكهف آیات 0 - 17

وَتَرَى ٱلشَّمۡسَ إِذَا طَلَعَت تَّزَٰوَرُ عَن كَهۡفِهِمۡ ذَاتَ ٱلۡيَمِينِ وَإِذَا غَرَبَت تَّقۡرِضُهُمۡ ذَاتَ ٱلشِّمَالِ وَهُمۡ فِي فَجۡوَةٖ مِّنۡهُۚ ذَٰلِكَ مِنۡ ءَايَٰتِ ٱللَّهِۗ

آیت کا مفہوم یہ ہے کہ طلو ع وغروب کے وقت سورج کی دھوپ ان کے بدن کو نہیں چھوتی تھی کہ کہیں اس کی گرمی سے ان کے بدن نہ جلنے لگیں۔ اسی لئے کہا گیا ہے کہ یہ ان کے حق میں کرامت ہے۔ (ابن جزی: ۱؍۵۰۴)
سوال:اللہ تعالیٰ نے اصحاب ِکہف کی حفاظت کس طرح فرمائی؟

سورۃ الكهف آیات 0 - 17

مَن يَهۡدِ ٱللَّهُ فَهُوَ ٱلۡمُهۡتَدِۖ

یعنی ہدایت صرف اللہ کے ہی ہاتھ میں ہے،وہی ہدایت دینے والا ہے اور وہی سعادت ِدارین کی طرف رہنمائی کرنے والا ہے۔ (السعدی؍۴۷۲)
سوال:اگر آپ کو ہدایت چاہئے تو کس سے طلب کریں گے؟

سورۃ الكهف آیات 0 - 18

وَنُقَلِّبُهُمۡ ذَاتَ ٱلۡيَمِينِ وَذَاتَ ٱلشِّمَالِۖ

یہ انتظام بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے جسموں کی حفاظت کے لئے تھا کیونکہ یہ زمین کی خاصیت ہے کہ جو چیز اس کے ساتھ پیوست رہتی ہے یہ اسے کھاجاتی ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت تھی کہ وہ ان کو کبھی دائیں پہلو اور کبھی بائیں پہلو پر پلٹتے رہتا تھا تاکہ زمین ان کے جسموں کو خراب نہ کرے۔ اور اللہ تعالیٰ تو اس بات پر بھی قادر ہے کہ وہ ان کے پہلوؤں کو ادل بدل کئے بغیر بھی ان کے جسموں کی حفاظت کرتا مگر اللہ تعالیٰ حکیم ہے،اس نے چاہا کہ وہ تکوینی قوانین میں اپنی سنت کو جاری رکھے اور اسباب کو ان کے مسبّبات سے جوڑدے۔(السعدی؍۴۷۲)
سوال:اللہ تعالیٰ اصحاب ِکہف کے پہلو بدلے بغیر بھی ان کی حفاظت کرنے پر قادر تھا۔ پھر اس نے ایسا کیوں نہ کیا؟

سورۃ الكهف آیات 0 - 18

وَكَلۡبُهُم بَٰسِطٞ ذِرَاعَيۡهِ بِٱلۡوَصِيدِۚ

ابن عطیہ رحمہ اللہ نے فرمایا: جب کتے کا یہ حال ہے کہ اس نے نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرکے بلند مرتبہ پالیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام ِپاک میں اس کا ذکر فرمادیا۔پھر ان موحد مومنوں کے بارے میں آپ کا کیا گمان ہے جو اولیاء وصالحین سے محبت کرتے ہیں۔ (القرطبی: ۳۱؍۲۳۲)
سوال:قرآن میں اس واقعہ میں کتے کے ذکر سے ہم کیا سبق سیکھتے ہیں؟

سورۃ الكهف آیات 0 - 19

قَالُواْ رَبُّكُمۡ أَعۡلَمُ بِمَا لَبِثۡتُمۡ

جسے کسی چیز کے بارے میں شبہ ہوجائے اس میں ادب کا پہلو یہی ہے کہ اس علم کو اللہ کے حوالے کردے اور اپنی حد سے تجاوز نہ کرے۔ (السعدی؍473)
سوال:اگر کسی ایسی چیز کے بارے میں آپ سے پوچھا جائے جسے آپ نہ جانتے ہوں تو اس بارے میں شرعی ادب کیا ہے؟

سورۃ الكهف آیات 0 - 19

فَلۡيَنظُرۡ أَيُّهَآ أَزۡكَىٰ طَعَامٗا فَلۡيَأۡتِكُم بِرِزۡقٖ مِّنۡهُ

اچھی چیزیں اور لذیذ کھانے کھانا جائز ہے جبکہ ان میں اسراف نہ ہو جو کہ ممنوع ہے خاص طور سے جبکہ انسان کو اس کے سوا کوئی او ر کھانا موافق نہ آتا ہو۔
(السعدی؍473)
سوال:کیا انسان اس بات کا پابندہے کہ وہ پاکیزہ اور اچھے کھانوں سے دور رہے؟