قرآن
ﮞ
ﱇ
ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ٥ ٥ ﭤ ﭥ ﭦ
ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ٦ ٦ ﭰ
ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ
٧ ٧ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ٨ ٨ ﮃ ﮄ
ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ٩ ٩
ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ
ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ١٠ ١٠ ﮟ ﮠ ﮡ
ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ١١ ١١ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ
ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ١٢ ١٢ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ
ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ١٣ ١٣
ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ
ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ١٤ ١٤
ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ
ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ ١٥ ١٥
فَلَعَلَّكَ بَٰخِعٞ نَّفۡسَكَ عَلَىٰٓ ءَاثَٰرِهِمۡ إِن لَّمۡ يُؤۡمِنُواْ بِهَٰذَا ٱلۡحَدِيثِ أَسَفًا ٦
اس آیت کریمہ او ر اس قسم کی دیگر آیات میں عبرت ہے۔مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے پر مامور شخص پر دعوت وتبلیغ کے ان تمام اسباب کے حصول میں کوشاں رہنا جو ہدایت کی منزل تک پہنچاتے ہیں،امکان بھر گمراہی کے راستوں کو مسدود کرنا اور اس بارے میں اللہ پر توکل کرنا فرض ہے۔ پس اگر مدعو ہدایت پر آجائیں تو بہتر ہے ورنہ داعی کو ان پر افسوس میں گھلنا نہیں چاہئے کیونکہ یہ چیز نفس کو کمزور او ر قوائے بدن کو منہدم کردیتی ہے۔اس میں کوئی فائدہ نہیں بلکہ ایسا کرنے سے وہ مقصد فوت ہوجائیگاجس پر اسے متعین کیا گیا ہے۔دعوت وتبلیغ اور اس راہ میں کوشش کے سوا دوسری چیزیں آپ کی قدرت سے باہر ہیں۔ (السعدی؍۴۷۰)
سوال:آیت میں بہت بڑا دعوتی فائدہ ہے۔اسے واضح کیجئے.
إِنَّا جَعَلۡنَا مَا عَلَى ٱلۡأَرۡضِ زِينَةٗ لَّهَا لِنَبۡلُوَهُمۡ أَيُّهُمۡ أَحۡسَنُ عَمَلٗا ٧
(إنا جعلنا ما على الأرض زينة لها) ہم نے زمین پر موجود چیزوں کو بطور زینت بنایا ہے یعنی جو زینت اختیار کرنے کے لائق ہو ں جیسے لباس، کھاناپینا،درخت اور نہریں وغیرہ (لنبلوهم أيهم أحسن عملًا) یعنی تاکہ ہم انہیں آزمائیں کہ دنیا کی زیب وزینت اختیار کرنے میں کون زہد وورع سے کام لیتا ہے۔(ابن جزی: ۱؍۵۰۲)
سوال:اللہ تعالیٰ نے زمین کو ایک بڑی حکمت کے تحت زینت کی بہت ساری چیزوں سے مزین کررکھا ہے۔وہ کیا ہیں؟
أَمۡ حَسِبۡتَ أَنَّ أَصۡحَٰبَ ٱلۡكَهۡفِ وَٱلرَّقِيمِ كَانُواْ مِنۡ ءَايَٰتِنَا عَجَبًا ٩ إِذۡ أَوَى ٱلۡفِتۡيَةُ إِلَى ٱلۡكَهۡفِ فَقَالُواْ رَبَّنَآ ءَاتِنَا مِن لَّدُنكَ رَحۡمَةٗ وَهَيِّئۡ لَنَا مِنۡ أَمۡرِنَا رَشَدٗا ١٠
جو لوگ عجیب قصوں کے امور میں مشغول ہونے کے لئے سوال کرتے ہیں،اس میں انہیں اسی بات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ ان کے لئے بہتر یہ ہے کہ وہ ان قصوں سے عبرت حاصل کریں نیزان کے اسباب ونتائج سے نصیحت پکڑیں اسی لئے اصحابِ کہف کے احوال کو اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فرمان سے شروع کیا ہے: (إذ أوى الفتية إلى الكهف فقالوا ربنا آتنا من لدنك رحمة وهيِّئ لنا من أمرنا رشدًا) (ابن عاشور: 15؍259)
سوال:قصوں کے تعلق سے مناسب یہ ہے کہ ان کے اندر پائی جانے والی عبرتوں اور نصیحتوں پر عمل کیا جائے نہ کہ ان کے عجائبات میں مشغول ہوا جائے۔ اصحاب ِکہف کے واقعہ کی روشنی میں اسے دلیل سے واضح کریں.
إِذۡ أَوَى ٱلۡفِتۡيَةُ إِلَى ٱلۡكَهۡفِ فَقَالُواْ رَبَّنَآ ءَاتِنَا مِن لَّدُنكَ رَحۡمَةٗ وَهَيِّئۡ لَنَا مِنۡ أَمۡرِنَا رَشَدٗا ١٠
اس آیت میں اس بات کی صراحت ہے کہ فتنوں کے خوف اور سخت آزمائش سے بچنے کے لئے دین کی خاطر گھربار،اہل وعیال،رشتہ داراور دوستوں کو چھوڑکر ہجرت کی جاسکتی ہے۔نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ نے دین کی خاطر اپنے وطن،گھربار،اہل وعیال اور رشتہ داروں کو چھوڑدیا تھاتاکہ کافرو ں کے فتنوں سے نجات پاسکیں۔ (القرطبی: ۱۳؍۲۱۶)
سوال: اگر مومن کو اپنے دین کا خوف ہو تو کیا وہ اپنا وطن چھوڑدے یا دین کو خطرے میں ڈال کر وہیں باقی رہے؟
إِنَّهُمۡ فِتۡيَةٌ ءَامَنُواْ بِرَبِّهِمۡ وَزِدۡنَٰهُمۡ هُدٗى ١٣
اللہ تعالیٰ نے ذکر کیا کہ وہ نوجوان تھے جو حق کو قبول کرنے اور سیدھے راستہ پر آنے میں ان بوڑھوں سے زیادہ تیز ہوتے ہیں جو دین ِباطل میں منہمک اور سرکشی میں پڑے ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی بات ماننے والے اکثر نوجوان تھے جبکہ قریش کے اکثر بوڑھے اپنے پرانے دین پر قائم رہے اور ان میں سے بہت کم ہی اسلام لائے۔(ابن کثیر: ۳؍۷۲)
سوال:دعوت الی اللہ کا بار سنبھالنے کے لئے کس عمر کے لوگ زیادہ مناسب ہوتے ہیں؟
وَرَبَطۡنَا عَلَىٰ قُلُوبِهِمۡ
یعنی صبر او ر ثبات قدمی کے ذریعہ ان کے دلوں کو مضبوط کردیا اور نور ِایمان کے ذریعہ انہیں طاقت بخشی یہاں تک کہ انہوں نے اپنے گھر بار،مقام ومرتبہ اور عیش وآسائش کی زندگی کو ترک کرکے اپنے دین کی خاطر غار میں پناہ لے لی۔(البغوی: ۳؍۱۷)
سوال:اللہ تعالیٰ نے اصحاب ِکہف کے دلوں کو کیسے مضبوط کیا؟
وَرَبَطۡنَا عَلَىٰ قُلُوبِهِمۡ
دلوں کو مضبوط کرنا ذلت و رسوائی کے برخلاف ہے، ذلت و رسوائی کہتے ہی ہیں توفیق سے محرومی کو کہ جس کی بنیاد پر ہر بندہ اپنے رب کے ذکر سے غافل ہوکر اپنے خواہشات کی پیروی کر بیٹھتا ہے اور اس کا معاملہ حد سے گزرجاتا ہے۔ جبکہ دل کو مضبوط کرنے کا مطلب اسے توفیق الہٰی سے باندھ دینا ہے تاکہ وہ اپنے رب کی ذکر میں مشغول ہوجائے، اس کی رضاجوئی کی اتباع کرے اور صرف اسی کا ہوکر رہ جائے۔(ابن قیم: 2؍157)
سوال:مذکورہ آیت کی روشنی میں دل کی مضبوطی اور رسوائی کے درمیان فرق کو واضح کیجئے؟