قرآن
ﮝ
ﱇ
ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ
ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ٨٨ ٨٨
ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ
ﭻ ﭼ ﭽ ٨٩ ٨٩ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ
ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ٩٠ ٩٠ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ
ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ٩١ ٩١ ﮖ ﮗ ﮘ
ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ
ﮡ ٩٢ ٩٢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ
ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ
ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ٩٣ ٩٣ ﯠ ﯡ ﯢ
ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ
ﯮ ٩٤ ٩٤ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ
ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ٩٥ ٩٥ ﯿ ﰀ ﰁ
ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ ﰈ ﰉ ﰊ ٩٦ ٩٦
إِلَّا رَحۡمَةٗ مِّن رَّبِّكَۚ إِنَّ فَضۡلَهُۥ كَانَ عَلَيۡكَ كَبِيرٗا ٨٧
آپ ﷺ پر الله كا بڑا فضل و كرم ہے کیونکہ اس نے آپﷺ کو بنی آد م کا سردار بنایااوراِس کتاب عزیز سے سرفراز کیااور مقام محمود سے نوازاہے۔ (القرطبی: ۱۳؍۱۶۹)
سوال:وہ کون سی عمدہ فضیلتیں ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو نوازا ہے؟
قُل لَّئِنِ ٱجۡتَمَعَتِ ٱلۡإِنسُ وَٱلۡجِنُّ عَلَىٰٓ أَن يَأۡتُواْ بِمِثۡلِ هَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانِ لَا يَأۡتُونَ بِمِثۡلِهِۦ وَلَوۡ كَانَ بَعۡضُهُمۡ لِبَعۡضٖ ظَهِيرٗا ٨٨
پوری مخلوق قرآن جیسا کلام لانے سے عاجزآگئی کیونکہ اس میں ایسے الٰہی علوم،واضح دلائل اور عجیب وغریب معانی پائے جاتے ہیں جنہیں لوگ نہ توجانتے تھے اور نہ ہی ان تک پہنچ سکتے ہیں۔پھر یہ ساری چیزیں کمال کو پہنچی ہوئی ہیں اور اکثر لوگوں کا کہنا ہے: وہ لوگ اس کی فصاحت،حسن ترتیب اور اس کے اعجاز کی بہت ساری صورتوں کی وجہ سے عاجز آگئے۔(ابن جزی: ۱؍۴۹۶)
سوال:آیت کی روشنی میں اعجاز قرآن کی بعض وجہیں بیان کیجئے.
قُل لَّئِنِ ٱجۡتَمَعَتِ ٱلۡإِنسُ وَٱلۡجِنُّ عَلَىٰٓ أَن يَأۡتُواْ بِمِثۡلِ هَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانِ لَا يَأۡتُونَ بِمِثۡلِهِۦ وَلَوۡ كَانَ بَعۡضُهُمۡ لِبَعۡضٖ ظَهِيرٗا ٨٨
یہ اس بات کی قطعی دلیل اور واضح برہان ہے کہ جو کچھ رسول اللہ ﷺ لے کر آئے ہیں وہ صحیح اور صداقت پر مبنی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام جنوں اور انسانوں کو معارضہ کی دعوت دی ہے کہ وہ اس جیسا قرآن بنالائیں اور اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے ان کو آگاہ بھی فرمایا کہ وہ اس جیسا قرآن نہیں لاسکتے خواہ وہ ایک دوسرے کی مدد ہی کیوں نہ کرلیں۔ او ر یہ سب کچھ اسی طرح واقع ہوا جس طرح اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔(السعدی: ۴۶۶)
سوال:آیت کریمہ محمد ﷺکی سچائی پر کس طرح دلالت کرتی ہے؟
قُل لَّئِنِ ٱجۡتَمَعَتِ ٱلۡإِنسُ وَٱلۡجِنُّ عَلَىٰٓ أَن يَأۡتُواْ بِمِثۡلِ هَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانِ لَا يَأۡتُونَ بِمِثۡلِهِۦ وَلَوۡ كَانَ بَعۡضُهُمۡ لِبَعۡضٖ ظَهِيرٗا ٨٨
قرآن اپنے حسن ترتیب،نظم وضبط اور غیب کی خبریں بتانے میں معجزہ ہے،نیز بلاغت وفصاحت کے انتہائی بلند مقام پر پہنچا ہوا ہے جو مخلوق کے کلام کے بالکل مشابہ نہیں ہے کیونکہ قرآن مخلوق نہیں ہے اگر وہ مخلوق ہوتا تو وہ لوگ اس جیسا ضرور بنالاتے۔(البغوی: ۲؍۷۱۴)
سوال:وضاحت کیجئے کہ قرآن میں کتنی طرح کا اعجازپایا جاتا ہے؟
وَقَالُواْ لَن نُّؤۡمِنَ لَكَ حَتَّىٰ تَفۡجُرَ لَنَا مِنَ ٱلۡأَرۡضِ يَنۢبُوعًا ٩٠
یہ اللہ تعالیٰ کے لئے بہت ہی آسان ہے اگر چاہتا تو کردیتا اور ان کی تمام مانگیں اور طلب پوری کردیتا لیکن اللہ جانتا ہے کہ وہ پھر بھی ہدایت پر نہیں آئیں گے۔(ابن کثیر: ۳؍۶۳)
سوال:اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے مطالبات کو پورا کیوں نہیں کیا؟
أَوۡ تُسۡقِطَ ٱلسَّمَآءَ كَمَا زَعَمۡتَ عَلَيۡنَا كِسَفًا
یعنی جو آپ نے وعدہ کیا ہے کہ قیامت کے دن آسمان پھٹ کر گرجائیگا اور وہ چاروں طرف سے لٹک جائیگا تو اپنا یہ وعدہ جلدی دنیا میں ہی پورا کردیجئے اور آسمان کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے گرادیجئے۔لیکن رحمت اور توبہ کے نبی ﷺ جو سارے عالم کے لئے رحمت بناکر بھیجے گئے تھے آپ نے اللہ سے ان کے لئے مہلت مانگ لی اور ان کی بات مؤخر کردی کہ ہوسکتا ہے اللہ تعالیٰ ان کی پشتوں سے ایسی نسل پیدا کردے جو صرف اللہ کی عبادت کریں،اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور حقیقت میں ایسا ہی ہواکیونکہ انہی کی نسل میں ایسے لوگ پیدا ہوئے جو بعد میں اسلام لائے اوراسلام پر قائم و دائم رہے۔(ابن کثیر:۳؍۶۳)
سوال:نبی ﷺ نے اپنے رب سے ان ہٹ دھرموں پر آسمان کے ٹکڑے گرنے کی دعا کیوں نہ کی،جب کہ خود انہوں نے آ پ سے اس کا مطالبہ کیا تھا؟
قُل لَّوۡ كَانَ فِي ٱلۡأَرۡضِ مَلَٰٓئِكَةٞ يَمۡشُونَ مُطۡمَئِنِّينَ لَنَزَّلۡنَا عَلَيۡهِم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ مَلَكٗا رَّسُولٗا ٩٥
(قل لو كان في الأرض ملائكة يمشون مطمئنين) یعنی یہ فرشتے زمین میں وطن بناکر مقیم ہوتے (لنزلنا عليهم من السماء ملكًا رسولًا) یعنی میں انہی کی جنس سے رسول بھیجتا کیونکہ دوسری جنس کے مقابلہ میں دل اپنی جنس کی طرف زیادہ مائل ہوتاہے۔(البغوی: ۲؍۷۱۷)
سوال:اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء انسانوں کی ہی جنس میں سے کیو ں بھیجے،فرشتوں میں سے کیوں نہیں بھیجے؟