قرآن
ﮜ
ﱆ
ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ٧٣ ٧٣ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ
ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ٧٤ ٧٤ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ
ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ
ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ
ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ٧٥ ٧٥ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ
ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ
ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ
ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ٧٦ ٧٦ ﮫ ﮬ
ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ
ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ٧٧ ٧٧
ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ
ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ
ﯰ ٧٨ ٧٨ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ
ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ٧٩ ٧٩
فَلَا تَضۡرِبُواْ لِلَّهِ ٱلۡأَمۡثَالَۚ إِنَّ ٱللَّهَ يَعۡلَمُ وَأَنتُمۡ لَا تَعۡلَمُونَ ٧٤
تم لوگ جو شرک کررہے ہو،اللہ اس کی قباحت اور برائی کو جانتا ہے جبکہ تم نہیں جانتے۔ اگر تم اسے جانتے تو اس برائی کو کرنے کی کبھی جرأت نہیں کرتے۔معلوم ہوا کہ یہ جملہ اس ممانعت“ اللہ کے لئے مثالیں بیان نہ کرو” کی وجہ بیان کررہا ہے۔یا آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام چیزوں کی حقیقت جانتا ہے لیکن تم نہیں جانتے اس لئے ضروری ہے کہ تم اللہ کے واضح حکم کے سامنے اپنی رائے اور قیاس کو چھوڑدیا کرو ۔(القاسمی: ۴؍۵۳۴)
سوال: (إن الله يعلم وأنتم لا تعلمون) بیشک اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔اس فرمان سے آیت کو ختم کرنے کی کیا وجہ ہے؟
فَلَا تَضۡرِبُواْ لِلَّهِ ٱلۡأَمۡثَالَۚ إِنَّ ٱللَّهَ يَعۡلَمُ وَأَنتُمۡ لَا تَعۡلَمُونَ ٧٤
اللہ کے لئے مثال بیان کرنا اس وجہ سے شرک ہوا کہ مشرکین نے اپنے بتوں کے لئے الہٰی صفات کو ثابت مانا اور انہیں اللہ سے تشبیہ دی۔(ابن عاشور: ۱۴؍۲۲۳)
سوال:مشرکین جو بتوں کی پوجاکرتے تھے اس میں ان کی غلطی او ر نادانی کی اصل وجہ کیا تھی؟
ضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلًا عَبۡدٗا مَّمۡلُوكٗا لَّا يَقۡدِرُ عَلَىٰ شَيۡءٖ وَمَن رَّزَقۡنَٰهُ مِنَّا رِزۡقًا حَسَنٗا فَهُوَ يُنفِقُ مِنۡهُ سِرّٗا وَجَهۡرًاۖ هَلۡ يَسۡتَوُۥنَۚ ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِۚ بَلۡ أَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ ٧٥
ان کے بت روزی دینے سے عاجز اور بے بس ہیں۔ان کی بے بسی کی اس حالت کو ایسے غلام کی حالت سے تشبیہ دی ہے جو خود اپنی ذات کے بارے میں کچھ کرنے کی قدرت نہیں رکھتا نہ وہ کچھ مال کا مالک ہے ۔(ابن عاشور: ۱۴؍۲۲۳)
سوال:بت،مزارات اور قبریں خود کو فائدہ پہنچانے سے عاجز ہیں تو پھر دوسروں کو کیسے فائدہ پہنچاسکتے ہیں؟آیت کو سامنے رکھ کر اس کی وضاحت کیجئے.
ضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلًا عَبۡدٗا مَّمۡلُوكٗا لَّا يَقۡدِرُ عَلَىٰ شَيۡءٖ وَمَن رَّزَقۡنَٰهُ مِنَّا رِزۡقًا حَسَنٗا فَهُوَ يُنفِقُ مِنۡهُ سِرّٗا وَجَهۡرًاۖ هَلۡ يَسۡتَوُۥنَۚ ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِۚ بَلۡ أَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ ٧٥
یہ اللہ تعالیٰ اور بتوں کے لئے ایک بہترین مثال ہے کہ بت اور مورتیاں ایسے زرخرید غلام کی طرح ہیں جو کسی چیز پر کوئی بس اور قدرت نہیں رکھتا اور اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ ساری کائنات بس اسی کی ہے او ر ہر کسی کا رزق اسی کے ہاتھ میں ہے،وہ ان میں جیسے چاہتا ہے تصرف کرتاہے۔جب معاملہ یہ ہے تو پھر اس مختار کل اور قادر ِمطلق ذات اور ان بے جان وبے بس مورتیوں کے بیچ برابری کیسے کی جاسکتی ہے!؟ (ابن جزی: ۱؍۴۳۲)
سوال:شرک عقل کے خلاف ہے۔ آیت کی روشنی میں اس حقیقت کو بیان کیجئے.
وَجَعَلَ لَكُمُ ٱلسَّمۡعَ وَٱلۡأَبۡصَٰرَ وَٱلۡأَفۡـِٔدَةَ
اللہ نے ان تین اعضاء کے شرف اور ان کی اہمیت وفضیلت کی وجہ سے خاص طور پران کاذکر کیا ہے اور اس لئے بھی کہ یہی تینوں ہر علم کی کنجی ہیں چنانچہ انسان تک جو بھی علم پہنچتا ہے وہ انہی تین راستوں میں سے کسی کے ذریعہ پہنچتا ہے۔ (السعدی؍۴۴۵)
سوال:آیت میں خاص طور سے کان،آنکھ اور دل انہی تین اعضاء کا ذکر کیوں کیا گیا ہے؟
أَلَمۡ يَرَوۡاْ إِلَى ٱلطَّيۡرِ مُسَخَّرَٰتٖ فِي جَوِّ ٱلسَّمَآءِ مَا يُمۡسِكُهُنَّ إِلَّا ٱللَّهُۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يُؤۡمِنُونَ ٧٩
یہاں “آیات”کو جمع کے لفظ سے ذکر کیا گیا ہے اس لئے کہ پرندوں میں کئی طرح کی نشانیاں اور دلیلیں ہیں جیسے ان کا فضائی مخلوق ہونا،پرندوں کے جسمانی ڈھانچوں کی ایسی بناوٹ اور ساخت جو ہوا میں ان کے اڑنے کے لئے بالکل مناسب اور موزوں ہے۔پرندوں کے اندر ایسی صلاحیت پیدا کرنا اور ان کے اندر یہ شعور واحساس ڈال دینا کہ وہ فضا میں ہوا کے دوش پر اڑتے رہیں اور ارادے کے بغیر زمین پر نہ گریں۔ (ابن عاشور: ۱۴؍۲۳۶)
سوال: آیت کریمہ میں لفظ “آیات”جمع کے ساتھ کیوں آیا ہے؟
إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يُؤۡمِنُونَ
ایمان والے لوگ ہی اللہ کی آیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان آیتوں کو جس بات کی نشانی اور دلیل بتایا گیا ہے اس پر غو روفکر کرتے ہیں۔رہے دوسرے لوگ،تو وہ ان آیتوں کوبس کھیل،تماشے اور غفلت وبے حسی کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ (السعدی: ۴۴۵)
سوال:آیات کونیہ (کائنات میں اللہ کی نشانیاں) سے فائدہ اٹھانے میں مومنوں کو خاص کیوں کیا گیا؟