قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

ﮜ

ﱆ

ﭑ ﭒ ﭓ ﭔ ﭕ ﭖ ﭗ ﭘ ﭙ ﭚ ﭛ
ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ
ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ
٣٥ ٣٥
ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ
ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ
ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ
ﮏ ﮐ ﮑ ٣٦ ٣٦
ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ
ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ٣٧ ٣٧

ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ
ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ٣٨ ٣٨

ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ
ﯠ ﯡ ﯢ ٣٩ ٣٩
ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ
ﯫ ﯬ ﯭ ٤٠ ٤٠
ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ
ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ
ﰂ ٤١ ٤١
ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ ﰈ ٤٢ ٤٢
271
سورۃ النحل آیات 0 - 36

وَلَقَدۡ بَعَثۡنَا فِي كُلِّ أُمَّةٖ رَّسُولًا أَنِ ٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ وَٱجۡتَنِبُواْ ٱلطَّٰغُوتَۖ

جب سے انسانوں میں شرک کی شروعات ہوئی۔یعنی دنیا والوں کی طرف بھیجے گئے اللہ کے پہلے رسول نوح علیہ السلام کے زمانے سے لے کر خاتم النبیین صلوات اللہ وسلامہ علیہ کے زمانے تک۔اللہ تعالیٰ لوگوں کی طرف اپنے رسولوں کو ایک ہی دعوت اور ایک ہی پیغام کے ساتھ برابر بھیجتا رہا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿بوَمَآ أَرۡسَلۡنَا مِن قَبۡلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِيٓ إِلَيۡهِ أَنَّهُۥ لَآ إِلَٰهَ إِلَّآ أَنَا۠ فَٱعۡبُدُونِ﴾ [الأنبياء: 25]، اور ہم نے آپ سے پہلے جو بھی رسول بھیجےان کی طرف یہی وحی کرتے رہے کہ یقیناً میرے سوا کوئی معبود نہیں ہے لہذا تم میری ہی عبادت کرو۔اور یہی بات یہاں اس آیت میں بھی بتائی ہے۔اب اس واضح بیان کے بعد مشرکین کایہ کہنا کیسے درست ہوسکتا ہے (لو شاء الله ما عبدنا من دونه من شيء) اگر اللہ چاہتا تو ہم اس کے علاوہ کسی چیز کی عبادت نہیں کرتے؟! (القاسمی: ۴؍۵۱۶)
سوال:نوح علیہ السلام سے لے کر نبیﷺ کے زمانے تک تمام رسولو ں کا یکے بعد دیگرے ایک ہی حکم اور دعوت لانے سے ہمیں کیا سبق ملتاہے؟

سورۃ النحل آیات 0 - 38

وَأَقۡسَمُواْ بِٱللَّهِ جَهۡدَ أَيۡمَٰنِهِمۡ لَا يَبۡعَثُ ٱللَّهُ مَن يَمُوتُۚ بَلَىٰ وَعۡدًا عَلَيۡهِ حَقّٗا وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعۡلَمُونَ ٣٨

تعجب میں ڈالنے والی بات یہ ہے کہ ایک طرف وہ خود اللہ کی قسمیں کھاکر اس کی بڑائی اور عظمت کا اظہار کررہے ہیں اور پھر اسی وقت دوسری طرف مُردوں کو دوبارہ زندہ کرنے سے اس کو عاجز ولاچار بتارہے ہیں۔(القرطبی: ۱۲؍۳۲۴)
سوال:جھٹلانے والوں کی قسموں پر تعجب کرنے کی کیا وجہ ہے؟

سورۃ النحل آیات 0 - 39

وَلِيَعۡلَمَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ أَنَّهُمۡ كَانُواْ كَٰذِبِينَ ٣٩

یہ اس وقت ہوگا جب وہ دیکھ لیں گے کہ انہوں نے جو اعمال کئے تھے وہ ان کے لئے حسرت وافسوس کا باعث بنے ہوئے ہیں اور جب رب کا فیصلہ آگیا تو جن معبودوں کو وہ اللہ کے ساتھ پکارتے اور پوجتے تھے وہ ان کے کچھ کام نہیں آئے۔جب وہ یہ منظر دیکھیں گے کہ جن معبودوں کی وہ عبادت کرتے تھے وہ خود جہنم کا ایندھن بن گئے ہیں۔ جب سورج اور چاند لپیٹ دئیے جائیں گے اور ستارے جھڑکر بکھر جائیں گے اور جو لوگ ان کی عبادت کرتے تھے،ان کے سامنے واضح ہوجائیگا کہ یہ تو خود تابعدار خادم ہیں اور ہر حالت میں اللہ کے محتاج اور فقیر ہیں۔ (السعدی: ۴۴۰)
سوال:قیامت کے دن کافرو ں کو کس طرح معلوم ہوگا کہ ان کے سردار اور پیشوا جھوٹے تھے؟

سورۃ النحل آیات 0 - 41

وَٱلَّذِينَ هَاجَرُواْ فِي ٱللَّهِ مِنۢ بَعۡدِ مَا ظُلِمُواْ لَنُبَوِّئَنَّهُمۡ فِي ٱلدُّنۡيَا حَسَنَةٗۖ وَلَأَجۡرُ ٱلۡأٓخِرَةِ أَكۡبَرُۚ لَوۡ كَانُواْ يَعۡلَمُونَ ٤١

ممکن ہے اس آیت کریمہ کے نازل ہونے کا سبب حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہوں۔ ان مہاجرین نے اللہ کی خاطر اپنے گھر بار اور مال واسباب کو چھوڑدیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے میں دنیا میں بھی پہلے سے بہتر گھر اور مال سے نواز دیا اس لئے کہ جو کوئی اللہ کی خاطر کسی چیز کو چھوڑدیتا ہے تو اللہ تعالیٰ بدلے میں اسے اس سے بہتر چیز عطاکردیتا ہے اور ان مہاجرین کے ساتھ ایسا ہوا بھی (لو كانوا يعلمون) کاش کہ وہ لوگ اسے جانتے۔ یعنی جو لوگ ان مہاجرین کے ساتھ ہجرت میں شریک نہیں ہوئے بلکہ پیچھے رہ گئے۔ کاش! ان کو معلوم ہوجاتا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی اطاعت کرنے والو ں اور اپنے رسولوں کی اتباع کرنے والوں کے لئے کیا کچھ اجروثواب اور انعام تیار کررکھا ہے۔ (ابن کثیر: ۲؍۵۵۱)
سوال:جو شخص اللہ کے لئے کوئی چیز چھوڑتا ہے تو اللہ اسے اس سے بہتر عطاکرتا ہے۔آیت کی روشنی میں بیان کیجئے.

سورۃ النحل آیات 0 - 41

وَٱلَّذِينَ هَاجَرُواْ فِي ٱللَّهِ مِنۢ بَعۡدِ مَا ظُلِمُواْ لَنُبَوِّئَنَّهُمۡ فِي ٱلدُّنۡيَا حَسَنَةٗۖ وَلَأَجۡرُ ٱلۡأٓخِرَةِ أَكۡبَرُۚ لَوۡ كَانُواْ يَعۡلَمُونَ ٤١

قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:آیت میں مذکور لوگ نبیﷺ کے صحابہ کرام ہیں،مکہ والوں نے ان پر ظلم وستم ڈھائے،انہیں اپنے گھروں اور وطن سے باہر نکال دیا یہاں تک کہ ان مظلوم صحابہ کی ایک جماعت حبشہ آپہنچی،پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مدینہ کو ان کے رہنے کا ٹھکانہ بنادیا چنانچہ مدینہ کو ان کے لئے دار ہجرت بنادیا اور مومنوں کو ان کا انصار ومددگار بنادیا۔ (القرطبی: ۱۲؍۶۱۵)
سوال:آج کے زمانہ میں جب آپ ان لوگوں کو دیکھتے ہیں جنہیں ستایا جارہا ہے اور ان پرظلم وستم کئے جارہے ہیں تو ایسے لوگوں کو اللہ کی کتاب کی کس آیت سے آپ تسلی دیں گے؟

سورۃ النحل آیات 0 - 42

ٱلَّذِينَ صَبَرُواْ وَعَلَىٰ رَبِّهِمۡ يَتَوَكَّلُونَ ٤٢

آیت میں صبر کا پہلو فعل ماضی سے اور توکل کا پہلو فعل مضارع (حال ومستقبل پر دلالت کرنے والے فعل)سے بیان کیا گیا ہے۔تو ماضی کے ذریعہ اشارہ ہے کہ ان کے صبر کا سلسلہ پورا ہوچکا اس لئے کہ صبر کے اسباب اور تقاضے ختم ہوگئے اور جو ہجرت واقع ہوچکی ہے اور جو ہجرت ہوسکتی ہے اس کے ذریعہ
اللہ تعالیٰ نے انہیں کشادگی عطاکردی ہے۔اس طرح یہ ماضی کے ذریعہ بیان ان کے لئے خوشخبری ہے ۔ جبکہ توکل کی بات فعل مضار ع کے ساتھ لانے میں یہ اشارہ ہے کہ اللہ پر بھروسہ کرنا ان کی عادت اور معمول ہے اس لئے کہ وہ آئندہ بھی ایسے بڑے بڑے اعمال کا سامنا کریں گے جنہیں وہ اپنے معاملات میں اللہ پر بھروسہ کرکے ہی انجام دیں گے۔یعنی وہ توکل کو باربار عمل میں لاتے رہیں گے،اسے اپنائے رہیں گے۔ اس بیان میں ان کے لئے کامیابی کی ضمانت کی خوشخبری ہے۔ (ابن عاشور: ۱۴؍۱۵۹)
سوال:آیت میں صبر کا پہلو فعل ماضی کے ذریعہ اور توکل کا پہلو فعل مضارع کے ذریعہ بیان کیا گیا ہے۔کیوں؟

سورۃ النحل آیات 0 - 42

ٱلَّذِينَ صَبَرُواْ وَعَلَىٰ رَبِّهِمۡ يَتَوَكَّلُونَ ٤٢

(وعلى ربهم يتوكلون)اور اپنے رب پر ہی بھروسہ کرتے ہیں۔ اپنے تمام معاملات میں۔ بعض اہل ِتحقیق کہتے ہیں کہ: مخلوق میں پسندیدہ اور بہترین لوگ وہ ہیں جو جب بھی کوئی مشکل یا مسئلہ پیش آئے تو صبر کریں اور کسی معاملہ میں بے بس ولاچار ہوجائیں تو توکل کریں۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: (الذين صبروا وعلى ربهم يتوكلون)جن لوگوں نے صبر کیا اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔ (القرطبی: ۱۲؍۳۲۸)
سوال:مخلوق میں سب سے بہتر اور نمایاں لوگوں کی پہچان کیا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے؟