قرآن
ﮜ
ﱆ
ﭙ ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ
ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ٢٧ ٢٧ ﭨ ﭩ ﭪ
ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ
ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ٢٨ ٢٨ ﭿ ﮀ ﮁ
ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ٢٩ ٢٩ ﮉ ﮊ
ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ
ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ
٣٠ ٣٠ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ
ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ٣١ ٣١
ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ
ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ٣٢ ٣٢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ
ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ
ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ٣٣ ٣٣
ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ٣٤ ٣٤
قَالَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡعِلۡمَ إِنَّ ٱلۡخِزۡيَ ٱلۡيَوۡمَ وَٱلسُّوٓءَ عَلَى ٱلۡكَٰفِرِينَ ٢٧
اس آیت سے اہل ِعلم کی فضیلت معلوم ہوتی ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ وہ دنیا میں بھی حق بات بولتے ہیں اور قیامت کے دن بھی حق بات بولیں گے جب گواہ کھڑے ہوکر گواہیاں دیں گے۔اور یہ بھی معلو م ہوا کہ ان علماء کی بات اللہ کے پاس بھی قابل اعتبار ہوتی ہے اور مخلوق کے نزدیک بھی۔ (السعدی: ۴۳۹)
سوال:آیت میں بیان کی گئی اہل ِعلم کی کیا فضیلت ہے؟
ٱلَّذِينَ تَتَوَفَّىٰهُمُ ٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ ظَالِمِيٓ أَنفُسِهِمۡۖ فَأَلۡقَوُاْ ٱلسَّلَمَ مَا كُنَّا نَعۡمَلُ مِن سُوٓءِۚ بَلَىٰٓۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمُۢ بِمَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ ٢٨
یہ بات اور حالت قیامت کے بعض مقامات پر ہوگی کہ دنیا میں وہ جو اعمال کرتے رہے تھے ان کا سرے سے انکار کردیں گے۔ اس خیال سے کہ یہ چیز ان کوفائدہ دیگی مگر جب ان کے خلاف خود ان کے جسم کے اعضاء گواہی دیں گے اور ان کا سارا کچا چٹھا سامنے آجائیگا، تب وہ اپنے کئے دھرے کااقرار اور اعتراف کریں گے اس لئے وہ اس وقت تک جہنم میں داخل نہیں ہوں گے جب تک اپنے گناہوں کا اعتراف نہیں کرلیں گے۔ (السعدی؍۴۳۹)
سوال:قیامت کے دن مشرکین اپنے گناہوں کا انکار بھی کریں گے اور اعتراف بھی کریں گے۔ یہ دونوں باتیں کس طرح ہوں گی؟
فَٱدۡخُلُوٓاْ أَبۡوَٰبَ جَهَنَّمَ
ہر جہنمی جہنم کے اسی دروازے سے جہنم میں داخل ہوگا جو دروازہ اس کے عمل اور حال کے موافق اور لائق ہوگا۔ (السعدی؍۴۳۹)
سوال:جہنم کے سات دروازے ہیں،تو جہنمی لوگ ان میں سے کس دروازے سے جہنم میں داخل ہوں گے؟
فَٱدۡخُلُوٓاْ أَبۡوَٰبَ جَهَنَّمَ خَٰلِدِينَ فِيهَاۖ فَلَبِئۡسَ مَثۡوَى ٱلۡمُتَكَبِّرِينَ ٢٩
جس دن یہ لوگ مریں گے اسی دن ان کی روحیں جہنم میں ڈال دی جائیں گی جبکہ قبروں میں ان کے جسموں کو جہنم کی حرارت وتپش اور تیز گرم ہوائیں جھلساتی رہیں گی،پھر جب قیامت کا دن ہوگا تو ان کی روحیں پھر سے ان کے جسموں میں داخل ہوجائیں گی اور انہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنم میں ڈال دیا جائیگا۔ (ابن کثیر: ۲؍۵۴۸)
سوال:مرنے کے بعد کافر عذاب کے دومرحلوں سے گزرتا ہے،وہ کیا ہیں؟
وَقِيلَ لِلَّذِينَ ٱتَّقَوۡاْ مَاذَآ أَنزَلَ رَبُّكُمۡۚ قَالُواْ خَيۡرٗاۗ لِّلَّذِينَ أَحۡسَنُواْ فِي هَٰذِهِ ٱلدُّنۡيَا حَسَنَةٞۚ وَلَدَارُ ٱلۡأٓخِرَةِ خَيۡرٞۚ وَلَنِعۡمَ دَارُ ٱلۡمُتَّقِينَ ٣٠
دنیا کی بھلائی سے مراد ہے ایمان کی نعمت کے ساتھ اچھی اور خوشگوار زندگی اور دنیا کی وہ رونق اور خوبیاں جو اللہ تعالیٰ لوگوں پر نچھاور کرتا ہے۔ (ابن عاشور: ۱۴؍۱۴۲)
سوال:آیت کریمہ میں جو دنیا کی بھلائی کا ذکر آیا ہے،وہ کیا ہے؟
جَنَّٰتُ عَدۡنٖ يَدۡخُلُونَهَا تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُۖ لَهُمۡ فِيهَا مَا يَشَآءُونَۚ كَذَٰلِكَ يَجۡزِي ٱللَّهُ ٱلۡمُتَّقِينَ ٣١
بعض علماء نے بیان کیا ہے کہ اس آیت میں(فيها) کو احاطہ اور گھیراؤ کا معنی دینے کے لئے اپنے مقام سے پہلےلایا گیا ہے اور (ما) اپنے مقام اور جگہ کے قرینہ کی وجہ سے عموم کے لئے ہے چنانچہ اس عموم سے یہ پتہ چلتا ہے کہ انسان اپنی ساری چاہتوں کو صرف اور صرف جنت میں ہی پاسکے گا۔اس لئے اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ (الالوسی: ۱۴؍۵۰۰)
سوال:مومن بندہ دنیا کی بہت سی نعمتوں اور دنیاوی زینت کی تکمیل سے محروم رہ جاتا ہے تو ایسی نعمتوں اور خوبیوں کے بارے میں مومن بندہ کا نظریہ کیاہوتا ہے؟
ٱلَّذِينَ تَتَوَفَّىٰهُمُ ٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ طَيِّبِينَ
وہ پاکیزہ اور خوشحال ہوتے ہیں اس طرح کہ ان کے دل اللہ کی معرفت اور اس کی محبت سے آباد رہتے ہیں،ان کی زبانیں اللہ کے ذکر اور اس کی تعریف سے تروتازہ رہتی ہیں اور ان کے اعضاء وجوارح اللہ کی اطاعت او ر اس کی طرف توجہ میں سرشار رہتے ہیں۔ (السعدی؍۴۳۹)
سوال:مرنے کے وقت آپ اپنے نفس کو کس طرح خوشحال اور پاک بناسکتے ہیں؟