قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے


١٥ ١٥

١٦ ١٦
١٧ ١٧
١٨ ١٨

١٩ ١٩
ﭿ
٢٠ ٢٠

٢١ ٢١


٢٢ ٢٢

٢٣ ٢٣

٢٤ ٢٤


٢٥ ٢٥


ﯿ ٢٦ ٢٦
269
سورۃ النحل آیات 0 - 15

وَأَلۡقَىٰ فِي ٱلۡأَرۡضِ رَوَٰسِيَ أَن تَمِيدَ بِكُمۡ وَأَنۡهَٰرٗا وَسُبُلٗا لَّعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُونَ ١٥

اس آیت میں اسباب وذرائع کو اختیار کرنے کی بالکل واضح دلیل ہے۔ (القرطبی: ۱۲؍۳۰۵)
سوال:کیا اللہ پر بھروسہ کرنا اسباب اختیار کرنے کے خلاف ہے؟

سورۃ النحل آیات 0 - 18

وَإِن تَعُدُّواْ نِعۡمَةَ ٱللَّهِ لَا تُحۡصُوهَآۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَغَفُورٞ رَّحِيمٞ ١٨

(وإن تعدوا نعمة الله ) اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرو۔ یعنی نعمتوں کا شکر ادا کرنے سے ہٹ کر صرف ان کی گنتی کرنا چاہو (لا تحصوها)تو انہیں گن نہیں سکتے چہ جائیکہ تم ان کا شکر ادا کرسکو۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے بندوں کو سانسوں او ر لمحوں کی تعداد میں اپنی کھلی اور چھپی نعمتوں سے نوازا ہے جن میں بندوں کے لئے جانی اور انجانی ہر طرح کی نعمتیں ہیں۔اسی طرح اللہ تعالیٰ جو اپنے بندوں پر آنے والی مصیبتوں کو دور کرتا ہے وہ بھی بے حد وبے حساب ہیں(إن الله لغفور رحيم) بے شک اللہ بہت بخشنے والا بہت مہربان ہے۔ کہ وہ اپنے بہت سارے انعامات واحسانات کے باوجود تمہاری طرف سے معمولی شکر اور قدردانی پر بھی راضی ہوجاتا ہے۔(السعدی: ۴۳۷)
سوال:آیت کو اللہ تعالیٰ کے دوصفاتی نام “غفور رحیم” کے ساتھ کیوں ختم کیا گیا ہے؟

سورۃ النحل آیات 0 - 18

وَإِن تَعُدُّواْ نِعۡمَةَ ٱللَّهِ لَا تُحۡصُوهَآۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَغَفُورٞ رَّحِيمٞ ١٨

سورت کی ابتدا ء سے لے کر یہاں تک اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت کے ثبوت اور دلائل پیش کرنے کے طور پر اپنی کئی قسم کی مخلوقات کا ذکر کیا ہے اسی لئے اس کے بعد یہ بات کہی: (أفمن يخلق كمن لا يخلق أفلا تذكرون)،(ذرا سوچو!)کیا وہ اللہ جو پیدا کرتا ہے اس جیسا ہوسکتا ہے جو کچھ بھی پیدا نہیں کرسکتا۔
ان آیتوں میں بندوں پر اللہ کی کچھ نعمتوں کو گنوایا گیا ہے اسی لئے اس کے بعد یہ فرمایا: (وإن تعدوا نعمة الله لا تحصوها )اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو وہ اتنی ہیں کہ کبھی گن نہ سکو۔ پھر اس کے بعد اللہ نے یہ فرمایا: (إن الله لغفور رحيم) بلاشبہ اللہ بڑا ہی بخشنے والا بڑا رحمت والا ہے۔ یعنی: وہ اپنی نعمتوں کا شکر ادا کرنے میں تمہاری کمی اور کوتاہی کو معاف کردیتا ہے۔ (ابن جزی: ۱؍۴۶۰)
سوال:اس آیت کے آخر میں(إن الله لغفور رحيم)کہنے کی کیا وجہ ہے؟

سورۃ النحل آیات 0 - 19

وَٱللَّهُ يَعۡلَمُ مَا تُسِرُّونَ وَمَا تُعۡلِنُونَ ١٩

اللہ تعالیٰ خبردار کررہا ہے کہ وہ دل میں چھپے ہوئے راز،پوشیدہ خیال اور خفیہ باتوں کو بھی اسی طرح جانتا ہے جس طرح ظاہری اور کھلی باتوں کو جانتا ہے،پھر قیامت کے دن ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق بدلہ دیگا،اگر اچھا عمل رہا تو اچھا بدلہ اور اگر برا عمل رہا تو برابدلہ۔(ابن کثیر: ۲؍۵۴۶)
سوال: جو ہم چھپاتے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیں۔اللہ سب کچھ جانتا ہے۔اس بات کو جاننے سے آپ کا عملی فائدہ کیاہے؟

سورۃ النحل آیات 20 - 21

وَٱلَّذِينَ يَدۡعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ لَا يَخۡلُقُونَ شَيۡـٔٗا وَهُمۡ يُخۡلَقُونَ ٢٠ أَمۡوَٰتٌ غَيۡرُ أَحۡيَآءٖۖ وَمَا يَشۡعُرُونَ أَيَّانَ يُبۡعَثُونَ ٢١

اللہ نے پہلے انہیں “مردہ” کہا اور اس کے بعد کہا (غَيرُ أَحياءٍ)کہ وہ زندہ نہیں ہیں۔تو اس طرح تاکید کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ کچھ ایسی چیزیں جن میں زندگی نہیں ہوتی تو بسا اوقات ان کے اندر کچھ وقتی زندگی پائی جاتی ہے جیسے نطفہ۔لہذا ایسی کچھ چیزوں کو الگ کرنے کے لئے یہ ٹکڑا“زندہ نہیں ہیں”۔ لایا گیاہے تو گویا یہ کہا گیا ہے کہ انجام کار کے اعتبار سے وہ مردے ہی ہیں، وہ زندگی کے قابل نہیں۔ (الالوسی: ۱۴؍۴۸۵)
سوال:اللہ کا یہ فرمانا کہ وہ مردہ ہیں اور پھر یہ کہہ کر اس کی تاکید کرناکہ وہ زندہ نہیں ہیں۔اس کی کیا حکمت ہے؟

سورۃ النحل آیات 0 - 25

لِيَحۡمِلُوٓاْ أَوۡزَارَهُمۡ كَامِلَةٗ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ وَمِنۡ أَوۡزَارِ ٱلَّذِينَ يُضِلُّونَهُم بِغَيۡرِ عِلۡمٍۗ أَلَا سَآءَ مَا يَزِرُونَ ٢٥

بے ایمان اور تکبر کرنے والے لوگ ان لوگوں کو گمراہ کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں جو یہ نہیں جانتے کہ یہ باطل دین ومذہب والے گمراہ لوگ ہیں۔ آیت میں اس بات سے آگاہ اور متنبہ کیا گیا ہے کہ سمجھدار آدمی ان کے دام اور چال میں نہیں پھنستا۔ان کی تقلید تو بس جاہل اور بیوقوف ہی کرتے ہیں۔یہ چیز گمراہ کرنے والوں کے لئے زیادہ شرمناک اور باعث ِعار ہے، اس میں انہیں عار دلائی گئی ہے، اور مذمت کی گئی ہے کہ ان کی ذمہ داری تو یہ تھی کہ جاہلوں کی صحیح رہنمائی کرتے نہ کہ انہیں راہ ِحق سے بھٹکاتے۔ آیت سے اس بات کی دلیل پکڑی جاتی ہے کہ مقلد کے لئے ضروری ہے کہ وہ تحقیق اور جانچ پڑتال کرے کہ حق پر کون ہے اور باطل پر کون؟ ورنہ جہالت ولاعلمی اس کے لئے عذر نہیں بنے گی۔ (الالوسی: ۴۸۹-۴۹۰)
سوال: آیت کی روشنی میں جہالت اور تقلید کی برائیوں پر مختصراً روشنی ڈالئے.

سورۃ النحل آیات 0 - 26

وَأَتَىٰهُمُ ٱلۡعَذَابُ مِنۡ حَيۡثُ لَا يَشۡعُرُونَ ٢٦

ایسے موقع پراور ایسی جگہ میں ان پر اللہ کا عذاب آیا جب وہ خود کو محفوظ سمجھ رہے تھے۔ (القرطبی: ۱۲؍۳۱۴)
سوال:اللہ کا عذاب زیادہ تر محفوظ جگہوں سے آتا ہے یا ڈر کی جگہوں سے؟