قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

٣٢ ٣٢
٣٣ ٣٣

٣٤ ٣٤

٣٥ ٣٥
٣٦ ٣٦
٣٧ ٣٧
ﭿ ٣٨ ٣٨

٣٩ ٣٩
٤٠ ٤٠
٤١ ٤١

٤٢ ٤٢
٤٣ ٤٣
٤٤ ٤٤

٤٥ ٤٥
٤٦ ٤٦

٤٧ ٤٧
٤٨ ٤٨
٤٩ ٤٩

ﯿ ٥٠ ٥٠
٥١ ٥١
264
سورۃ الحجر آیات 0 - 33

قَالَ لَمۡ أَكُن لِّأَسۡجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقۡتَهُۥ مِن صَلۡصَٰلٖ مِّنۡ حَمَإٖ مَّسۡنُونٖ ٣٣

اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ تمام فرشتوں کے بیچ ابلیس تھا جو آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے پیچھے ہٹ گیا۔اس نے حسد،کفر،عناد اور دشمنی،تکبر وغرور اور باطل پر فخر کی بنیاد پر سجدہ کرنے اور حکم ِالٰہی کو ماننے سے انکار کردیا۔ (ابن کثیر: ۲؍۵۳۱)
سوال: حسد اور غرور آدمی کو کس حد تک لے جاسکتے ہیں؟

سورۃ الحجر آیات 36 - 37

قَالَ رَبِّ فَأَنظِرۡنِيٓ إِلَىٰ يَوۡمِ يُبۡعَثُونَ ٣٦ قَالَ فَإِنَّكَ مِنَ ٱلۡمُنظَرِينَ ٣٧

اللہ تعالیٰ کا ابلیس کی اس دعا کو قبول کرلینا اس کے حق میں کوئی عزت وکرامت نہیں تھی بلکہ یہ تو اللہ کی طرف سے اس کے اوراس کے بندوں کے لئے امتحان و آزمائش تھا تاکہ اس کے ذریعہ وہ سچا اور کھرا انسان جو اپنے مولیٰ وآقا اللہ کی اطاعت کرتاہے،اس کے دشمن ابلیس کی اطاعت نہیں کرتا،ایسا سچا بندہ اس بندے سے چھٹ جائے اور الگ ہوجائے جو ایسا نہیں ہے۔(السعدی: ۴۳۱)
سوال:اللہ تعالیٰ کی طرف سے ابلیس کی دعا کوقبول کرلینے کی کیا وجہ تھی؟

سورۃ الحجر آیات 0 - 39

قَالَ رَبِّ بِمَآ أَغۡوَيۡتَنِي لَأُزَيِّنَنَّ لَهُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَلَأُغۡوِيَنَّهُمۡ أَجۡمَعِينَ ٣٩

یہاں شیطان کا خوبصورت بنانا اور خوشنما دکھانا دوطریقوں سے ہوسکتا ہے۔یا تو گناہ کے کاموں کو آراستہ کرکے ان میں ملوث کرنا،یا پھر دنیا کی زیب وزینت اور رنگینیوں میں مشغول کرکے نیک کاموں سے غافل کردینا۔(القرطبی: ۱۲؍۲۱۲)
سوال:ان دودروازوں کا ذکر کیجئے جن سے شیطان انسانوں تک پہنچتا ہے؟

سورۃ الحجر آیات 39 - 41

قَالَ رَبِّ بِمَآ أَغۡوَيۡتَنِي لَأُزَيِّنَنَّ لَهُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَلَأُغۡوِيَنَّهُمۡ أَجۡمَعِينَ ٣٩ إِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ ٱلۡمُخۡلَصِينَ ٤٠ قَالَ هَٰذَا صِرَٰطٌ عَلَيَّ مُسۡتَقِيمٌ ٤١

یعنی:وہ لوگ جنہیں ان کے اخلاص،ایمان اور توکل کی وجہ سے تو نے چن لیا اور اپنے لئے منتخب کرلیا۔ (السعدی: ۴۳۱)
سوال:ابلیس کے بہکاوے گمراہی سے کون لوگ محفوظ ہوں گے؟

سورۃ الحجر آیات 0 - 42

إِنَّ عِبَادِي لَيۡسَ لَكَ عَلَيۡهِمۡ سُلۡطَٰنٌ إِلَّا مَنِ ٱتَّبَعَكَ مِنَ ٱلۡغَاوِينَ ٤٢

اخلاص اور ایمان والوں پر شیطان کا کوئی بس نہیں چلتا۔یہی وجہ ہے کہ شیاطین اس گھر سے دور بھاگتے ہیں جس میں سورۂ بقرہ پڑھی جاتی ہے، اسی طرح آیۃالکرسی اور سورۂ بقرہ کی آخری دوآیتوں کو پڑھنے سے اور ان کے علاوہ قرآن کی ان آیتوں اور سورتوں کو پڑھنے سے بھاگ کھڑے ہوتے ہیں،جنہیں قوارع ِقرآن (قرآن کی جھنجھوڑنے والی آیتیں یا سورتیں) کہا جاتا ہے۔ (ابن تیمیہ: ۴؍۱۳۱)
سوال:اللہ تعالیٰ نے ایک ایسے گروہ کا ذکر کیا ہے جن پر شیطان کا بس نہیں چلتا،وہ کون ہیں؟ ساتھ ہی شیطان کو بھگانے کے دوذرائع بھی بتائیے.

سورۃ الحجر آیات 0 - 49

نَبِّئۡ عِبَادِيٓ أَنِّيٓ أَنَا ٱلۡغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ ٤٩

جب بندے اس بات کو اچھی طرح جان لیں گے کہ اللہ تعالیٰ کامل رحمت والا اور کامل مغفرت والا ہے تو وہ اللہ کی رحمت پانے والے راستوں اور کاموں میں محنت اور کوشش کریں گے،خود کو گناہوں کے دلدل سے نکالیں گے اور توبہ کریں گے تاکہ اللہ کی مغفرت ومعافی کے حقدار بن سکیں۔ (السعدی: ۴۳۲)
سوال:اللہ غفور رحیم ہے۔اس بات کو جاننے اور ماننے پر بندۂ مومن کا کیا موقف اور طرز عمل ہوتاہے؟

سورۃ الحجر آیات 49 - 50

نَبِّئۡ عِبَادِيٓ أَنِّيٓ أَنَا ٱلۡغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ ٤٩ وَأَنَّ عَذَابِي هُوَ ٱلۡعَذَابُ ٱلۡأَلِيمُ ٥٠

بندۂ مومن کے لئے لائق اور مناسب یہی ہے کہ اس کا دل ہمیشہ خوف و امید اور رغبت و دہشت کے بیچ رہے جب وہ اپنے رب کی مغفرت،اس کے جود وکرم اور اس کے احسان کی طرف دیکھے تو اس سے اس کے دل میں امیداور امنگ پیدا ہوجائے اور جب وہ اپنے گناہوں اور کوتاہیوں پر نظر ڈالے، تو اس سے اس کے اندر خوف اور دہشت پیدا ہوجائے اور وہ اپنی کوتاہیوں اور گناہوں کو چھوڑدے۔ (السعدی؍۴۳۲)
سوال:دنیا کی زندگی میں مسلمان کا دل کیسا ہونا چاہئے؟