قرآن
ﮚ
ﱅ
ﭛ ﭜ ﭝ ٢٥ ٢٥ ﭟ ﭠ ﭡ
ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ
ﭫ ٢٦ ٢٦ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ
ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ
ﭿ ﮀ ٢٧ ٢٧ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ
ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ٢٨ ٢٨ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ
ﮔ ٢٩ ٢٩ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ
ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ٣٠ ٣٠ ﮤ ﮥ ﮦ
ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ
ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ٣١ ٣١ ﯛ ﯜ
ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ
ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ
ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ٣٢ ٣٢ ﯷ ﯸ
ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ٣٣ ٣٣
تُؤۡتِيٓ أُكُلَهَا كُلَّ حِينِۢ بِإِذۡنِ رَبِّهَاۗ
ایمان کی مثال درخت سے بیان کرنے کی حکمت یہ ہے:جب تک تین چیزیں نہ ہوں کوئی درخت درخت نہیں ہوسکتا،وہ ہیں: مضبوط جڑ، پائیدار تنا، اوراونچی شاخیں۔ٹھیک اسی طرح ایمان بھی تین چیزوں کے بغیر پورا نہیں ہوتا وہ تین چیزیں ہیں: دل سے تصدیق کرنا، زبان سے کہنا اور اقرارکرنا، اعضاء ِبدن سے عمل کرنا۔ (البغوی: ۲؍۶۵۵)
سوال:بندے کے ایمان کی مثال درخت سے کیوں بیان کی گئی ہے؟
يُثَبِّتُ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ بِٱلۡقَوۡلِ ٱلثَّابِتِ فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا
اللہ تعالیٰ مومن بندوں کو دنیا میں اس طرح ثابت قدم اور حق پر جمائے رکھتا ہے کہ دنیوی زندگی میں جب ان کے سامنے شبہات یعنی شک میں ڈالنے والی باتیں اور اعتراضات آتے ہیں تو اللہ تعالیٰ انہیں یقین کی توفیق اور ہدایت دیتا ہے اور جب نفس کی خواہشات اور شہوات کا حملہ ہوتاہے تو اللہ تعالیٰ انہیں ایسی مضبوط قوت ارادی دے دیتا ہے جس کی بدولت وہ نفس کی خواہش اور منشاکے مقابلہ میں اللہ کی پسندیدہ چیزوں کو ترجیح دیتے ہیں اور نفس کی خواہش کو کچل دیتے ہیں۔اس طرح اللہ تعالیٰ شبہات اور شہوات کے شر اور فتنہ سے بچاکر مومنوں کو ایمان پر قائم اور ثابت قدم رکھتا ہے۔ (السعدی؍۴۲۵)
سوال: دنیا کی زندگی میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندے کو ثابت قدم رکھنے کی چند شکلیں بیان کیجیے.
يُثَبِّتُ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ بِٱلۡقَوۡلِ ٱلثَّابِتِ فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا وَفِي ٱلۡأٓخِرَةِۖ
آخرت میں اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو اس طرح ثابت قدمی دیتاہے کہ موت کے وقت انہیں دین اسلام پر ثابت قدم اور جمائے رکھتا ہے اور حسن ِخاتمہ یعنی اچھی موت دیتا ہے۔اسی طرح قبر میں جب دوفرشتے سوال کرتے ہیں تواس وقت انہیں صحیح جواب دینے کی توفیق دیتاہے۔ (السعدی؍۴۲۶)
سوال:اللہ تعالیٰ کی طرف سے آخرت میں بندے کو ثابت قدم رکھنے کی چند شکلیں بیان کیجئے.
وَيُضِلُّ ٱللَّهُ ٱلظَّٰلِمِينَۚ وَيَفۡعَلُ ٱللَّهُ مَا يَشَآءُ ٢٧
یعنی: کافروں کو قبروں میں ان کے بچاؤکی دلیل اور حجت سے گمراہ کردیتا ہے چنانچہ وہ صحیح جواب سے بھٹک جاتے ہیں۔ جیساوہ دنیا میں کفر کرکے بھٹک گئے تھے اس لئےاللہ تعالیٰ انہیں کلمۂحق کہنے کی توفیق نہیں دیتا ہے چنانچہ جب قبروں میں ان سے سوال پوچھے جاتے ہیں تو وہ کہتے ہیں:ہم نہیں جانتے۔اس پر دونوں فرشتے کہتے ہیں: نہ تونے جانا اور نہ پڑھا۔پھر اسے لوہے کے ہتھوڑوں سے مارا جاتا ہے۔ (القرطبی: ۱۲؍۱۴۰)
سوال: قبروں میں کافروں کو گمراہ کرنے کی کیا شکل ہوگی؟
أَلَمۡ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ بَدَّلُواْ نِعۡمَتَ ٱللَّهِ كُفۡرٗا وَأَحَلُّواْ قَوۡمَهُمۡ دَارَ ٱلۡبَوَارِ ٢٨
جوکوئی دنیا کے حالات کا جائزہ لیگا اور تاریخ کا تحقیقی مطالعہ کریگا،اس کے سامنے یہ بات واضح ہوجائیگی کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کے لوگوں کو ایسی کوئی نعمت نہیں دی ہے جو رسول کو بھیجنے کے انعام سے بڑھ کر ہو۔اور جن لوگوں نے اللہ کے رسول ﷺاور ان کی رسالت کو ٹھکرادیا انہی کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: (ألم تر إلى الذين بدلوا نعمة الله كفرًا وأحلوا قومهم دار البوار)کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے اللہ کی نعمت کو کفر سے بدل ڈالا اور اپنی قوم کو ہلاکت کے گھر میں پہنچادیا۔ (ابن تیمیہ: ۴؍۱۱۷-۱۱۶)
سوال:اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کی رسالت سے بڑھ کر ہمیں کوئی نعمت نہیں دی ہے اسے بیان کیجئے.
قُلۡ تَمَتَّعُواْ فَإِنَّ مَصِيرَكُمۡ إِلَى ٱلنَّارِ ٣٠
(قل تمتعوا): فرما دیجئے:مزے اڑالو۔ یہ ان کے لئے دھمکی ہے اور اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ دنیا کی جن لذتوں میں ہیں اور لطف اٹھارہے ہیں وہ بہت تھوڑی ہیں کیونکہ وہ ختم ہوجانے والی ہیں۔ (القرطبی: ۱۲؍۱۴۲)
سوال:دنیا کی زینت اور خوبصورتی کو “متاع” یعنی سامان اور تھوڑے فائدے کی چیز کیوں کہا گیاہے؟
قُل لِّعِبَادِيَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ يُقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَ
نماز قائم کرنے سے مراد یہ ہے کہ اس کے وقت کی،اس کے احکام وحدود کی،اس کے رکوع،سجود اور خشوع کی پابندی اور حفاظت کی جائے۔(ابن کثیر: ۲؍519)
سوال:اقامت صلاۃ یعنی نماز قائم کرنے سے کیا مراد ہے؟