قرآن
ﮚ
ﱅ
ﭙ ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ
ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ
ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ٦ ٦ ﭭ ﭮ ﭯ
ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ
ﭸ ٧ ٧ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ
ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ٨ ٨ ﮈ ﮉ ﮊ
ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ
ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ
ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ
ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ٩ ٩
ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ
ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ
ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ
ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ١٠ ١٠
إِذۡ أَنجَىٰكُم مِّنۡ ءَالِ فِرۡعَوۡنَ يَسُومُونَكُمۡ سُوٓءَ ٱلۡعَذَابِ وَيُذَبِّحُونَ أَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُونَ نِسَآءَكُمۡۚ وَفِي ذَٰلِكُم بَلَآءٞ مِّن رَّبِّكُمۡ عَظِيمٞ ٦
بلاء،امتحان کو کہتے ہیں اور یہاں بلاء سے مرادہے “شر اور برائی والی مصیبت”۔ مصیبت کو امتحان کا نام اس لئے دیا گیا ہے کہ اس میں صبر کی مقدار اور درجہ کا امتحان ہے ۔(ابن عاشور: ۱۳؍۱۹۲)
سوال: ابتلاء وآزمائش کا کیا مقصد ہے؟
وَإِذۡ تَأَذَّنَ رَبُّكُمۡ لَئِن شَكَرۡتُمۡ لَأَزِيدَنَّكُمۡۖ وَلَئِن كَفَرۡتُمۡ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٞ ٧
ربیع رحمہ اللہ کہتے ہیں: (لئن شكرتم)اگر تم شکر کروگے یعنی میرے انعام واحسان پر(لأزيدنكم) تو میں ضرور تمہیں اور زیادہ دوں گا اپنا فضل وکرم۔
اور حسن بصری رحمہ اللہ کہتے ہیں: "(لئن شكرتم) اگر تم شکر کروگے یعنی میری نعمت پر (لأزيدنكم) میں تمہیں ضرور زیادہ دوں گا یعنی اپنی اطاعت وفرمانبرداری کی توفیق۔ اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اگر تم توحید پر قائم رہے اور اطاعت کرتے رہے تو یہ طے ہے کہ میں تمہیں زیادہ سے زیادہ ثواب دوں گا۔ان سب اقوال کے معانی قریب قریب ہیں۔(القرطبی: ۱۲؍۱۰۹)
سوال:جب بندہ اللہ تعالیٰ کا شکر کرنے پر مسلسل قائم رہتا ہے تو اسے کیا فائدہ ملتا ہے؟
وَإِذۡ تَأَذَّنَ رَبُّكُمۡ لَئِن شَكَرۡتُمۡ لَأَزِيدَنَّكُمۡۖ وَلَئِن كَفَرۡتُمۡ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٞ ٧
(لئن شكرتم)اور اس بات کو تاکید کے ساتھ بیان کیا ہے اس وجہ سے کہ لوگوں کے نفس اور مزاج میں ایسی باتوں کو جھٹلانے کا مادہ ہوتا ہے۔(لأزيدنكم) تو میں یقیناً اور زیادہ دوں گا۔ یعنی اپنی نعمتوں میں مزید اضافہ کروں گا۔معلوم ہوا کہ شکر موجودہ نعمت کی حفاظت کرکے باقی رکھتا ہے اور ناموجود نعمت کوحاصل کرنے کا سبب بنتا ہے۔(البقاعی: ۴؍۱۷۲)
سوال: نعمتوں کا شکر ادا کرنے کا کیا فائدہ ہے؟
وَقَالَ مُوسَىٰٓ إِن تَكۡفُرُوٓاْ أَنتُمۡ وَمَن فِي ٱلۡأَرۡضِ جَمِيعٗا فَإِنَّ ٱللَّهَ لَغَنِيٌّ حَمِيدٌ ٨
عام طور سے ایسے ہوتا ہے کہ کوئی شخص کسی کام پر ابھارتا ہے،اور اس کام کے کرنے والے کو بدلہ دیتا ہے،یا وہ کسی کام سے منع کرتا ہے اور اس سے نہ رکنےوالے کو سزادیتا ہے تو اس میں اس کی اپنی کوئی غرض اور ضرورت ہوتی ہے جب بات ایسی ہے تو اللہ تعالیٰ نے صاف صاف بیان کردیا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اس بات سے بلند اور بالاتر ہے کہ اسے کوئی نقصان پہنچے یا فائدہ ملے۔اور حقیقت میں کفر کا نقصان اور ایمان کا فائدہ صرف بندے سے جڑا ہوا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی بات نقل کرتے ہوئے فرمایا: (وَقَالَ مُوسَى). اور موسیٰ نے کہا۔ (البقاعی: ۴؍۱۷۲)
سوال: اس آیت سے تمہیں کیا فائدہ حاصل ہوتا ہے؟
وَقَالَ مُوسَىٰٓ إِن تَكۡفُرُوٓاْ أَنتُمۡ وَمَن فِي ٱلۡأَرۡضِ جَمِيعٗا فَإِنَّ ٱللَّهَ لَغَنِيٌّ حَمِيدٌ ٨
اللہ کی بے نیازی کوبا اہتمام بیان کرنے کی وجہ یہ ہے کہ کافروں کی اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ وہ ایمان لاکر اللہ پر احسان کرتے ہیں، اور ان کی طرف بھیجے گئے انبیاء کرام علیہم السلام جب ان سے ایمان لانے کے لئے اصرار کرتے ہیں تو اس کے ذریعہ وہ اپنا پہلو مضبوط کرنا چاہتے ہیں، اور خود اپنی مصلحت اور فائدہ حاصل کرنے کے خواہش مند ہوتے ہیں، چنانچہ جب اللہ تعالیٰ نے پچھلی آیتوں میں شکر کرنے پر زیادہ دینے کا وعدہ کیااور کفر وناشکری پر سزاکی دھمکی دی تو ان لوگوں کے غلط فہمی میں پڑجانے کا اندیشہ پیدا ہوگیاکہ کہیں وہ اس کی وجہ یہ نہ سمجھ بیٹھیں کہ اس میں ثواب دینے والے کو ثواب دینے کا کوئی فائدہ ملتا ہے اور سزادینے پر سزاسے خود اس کو بھی کوئی نقصان ہوتا ہے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے انہیں اس شیطانی خیال سے خبردار اور ہوشیار کردیا تاکہ یہ خیال ان کے دلوں میں سرایت نہ کرجائے اورپھر یہ ہو کہ ان کے اندر اپنے ایمان و شکر اور کفر سے نکل جانے پر احسان جتانے اور فخر وناز کرنے کا جذبہ پیدا ہوجائے۔(ابن عاشور: ۱۳؍۱۹۲)
سوال:اللہ تعالیٰ مخلوق سے بے نیاز وبے پروا ہ ہے۔اس بات کو اہتمام کے ساتھ ذکر کرنے کی کیا وجہ ہے؟
جَآءَتۡهُمۡ رُسُلُهُم بِٱلۡبَيِّنَٰتِ فَرَدُّوٓاْ أَيۡدِيَهُمۡ فِيٓ أَفۡوَٰهِهِمۡ وَقَالُوٓاْ إِنَّا كَفَرۡنَا بِمَآ أُرۡسِلۡتُم بِهِۦ وَإِنَّا لَفِي شَكّٖ مِّمَّا تَدۡعُونَنَآ إِلَيۡهِ مُرِيبٖ ٩
(فردوا أيديهم في أفواههم)تو انہوں نے اپنے ہاتھ اپنے منہ میں دے دیئے۔اس کے معانی میں تین اقوال ہیں۔
پہلا قول ہے کہ:اس جملہ میں “هُمْ” کی جودوضمیریں ہیں وہ رسولوں کی قوم والوں کے لئے ہیں۔اس کا معنی یہ ہوگا کہ ان لوگوں نے رسولوں پر غصہ کے مارے اپنے ہاتھ خود اپنے اپنے منہ میں لوٹادئیے۔جیسے اللہ کا یہ قول ہے کہ: ﴿عَضُّواْ عَلَيۡكُمُ ٱلۡأَنَامِلَ مِنَ ٱلۡغَيۡظِ﴾ [آل عمران: 119]، تم پر غصہ کی وجہ سے انگلیاں چباتے ہیں۔یاپھران کا اپنے منہ میں ہاتھ لوٹانا،مذاق اڑانے اور ہنسنے کی وجہ سے ہوتا ہے جیسے کوئی ہنسی پر قابو نہ پاکر اپنے منہ کو ہاتھ سے دبالیتا ہے۔
دوسرا قول: ضمیریں،انہی قوم کے لوگوں کے لئے ہیں مگر معنی یہ ہے کہ وہ خود اپنے منہ پر اپنے ہاتھ رکھ کر انبیاء کرام کو چپ رہنے اور خاموش ہوجانے کا اشارہ کرتے ہیں۔
تیسرا قول: انہوں نے اپنے ہاتھ اپنے انبیاء کے منہ پر انہیں چپ کرانے کے لئے رکھ دئیے۔(ابن جزی: ۱؍۴۴۲)
سوال:رسولوں کے ساتھ گمراہ قوموں کے برتاؤ اور طرز عمل سے دین کے داعی کو کیا فائدہ اور سبق حاصل ہوتا ہے؟
قَالَتۡ رُسُلُهُمۡ أَفِي ٱللَّهِ شَكّٞ
کیا اللہ کے موجود ہونے میں شک ہے!اس کے وجود میں شک کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہے کیونکہ فطرتیں اس کے وجود کی گواہی دیتی ہیں اور اس بات کا اقرار پیدائشی طور پر فطرت و طبیعت میں موجود ہے لہذا اللہ کے وجود اور توحید کو ماننا اور اس کا اعتراف کرنا صحیح سالم فطرتوں کے اندر بدیہی اور یقینی چیز ہے۔ (ابن کثیر:۲؍۵۰۶)
سوال: اللہ تعالیٰ کے وجود میں شک کرنے کو رسولوں نے گھٹیا اور بے تکی بات کیوں مانا؟