قرآن
ﮙ
ﱅ
ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ
ﭫ ﭬ ﭭ ١٤ ١٤ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ
ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ١٥ ١٥ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ
ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ
ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ
ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ
ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ١٦ ١٦ ﮮ
ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ
ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ
ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ
ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ
ﯽ ١٧ ١٧ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ
ﰇ ﰈ ﰉ ﰊ ﰋ ﰌ ﰍ ﰎ ﰏ ﰐ ﰑ ﰒ ﰓ
ﰔ ﰕ ﰖ ﰗ ﰘ ﰙ ﰚ ﰛ ﰜ ١٨ ١٨
وَٱلَّذِينَ يَدۡعُونَ مِن دُونِهِۦ لَا يَسۡتَجِيبُونَ لَهُم بِشَيۡءٍ إِلَّا كَبَٰسِطِ كَفَّيۡهِ إِلَى ٱلۡمَآءِ لِيَبۡلُغَ فَاهُ وَمَا هُوَ بِبَٰلِغِهِۦۚ وَمَا دُعَآءُ ٱلۡكَٰفِرِينَ إِلَّا فِي ضَلَٰلٖ ١٤
جو کوئی اللہ کے سوا کسی بھی معبود کو پکارتا ہے تو اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی پیاسا پانی کو دیکھ کر دورسے ہی اسے اپنے منہ کے پاس بلائے،وہ اس پانی کو پانے اور پینے کے لئے اس کی طرف اپنا ہاتھ پھیلاکراشارہ کرتا رہے اور زبان سے بھی بول نہ سکے،تو ظاہر ہے پانی اس تک کبھی نہیں پہنچے گا اس لئے کہ پانی نہ تو کسی کی پکار سن سکتا ہے اور نہ اس تک پہنچنے کی قدرت رکھتا ہے۔ (القرطبی: ۱۲؍۴۳-۴۲)
سوال: اس مثال کا مطلب بتائیے جو اللہ تعالیٰ نے مشرک انسان کی حالت کے لئے بیان فرمائی ہے؟
وَمَا دُعَآءُ ٱلۡكَٰفِرِينَ إِلَّا فِي ضَلَٰلٖ ١٤
کافروں کی دعاء وپکار بے سود و گمراہی ہےکیونکہ وہ اللہ کے علاوہ جن چیزوں اور جن لوگوں کو پکارتے ہیں وہ سب باطل اور ناحق ہیں،نتیجہ میں ان کی ساری عبادتیں اور دعائیں باطل اور بیکار ہوگئیں اس لئے کہ جب غایت ومقصد ہی باطل ہو تو اس کا ذریعہ خودبخود باطل ہوجاتا ہے۔(السعدی؍ ۴۱۵)
سوال:کافروں کی پکارودعا کیوں سراسر گمراہی ہے ؟اور صحیح یا غلط ہونے کے اعتبار سے ذریعہ اور وسیلہ کا مقصد سے کیا تعلق ہے؟
وَلِلَّهِۤ يَسۡجُدُۤ مَن فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ طَوۡعٗا وَكَرۡهٗا وَظِلَٰلُهُم بِٱلۡغُدُوِّ وَٱلۡأٓصَالِ۩ ١٥
ہر چیز او ر ہر مخلوق اللہ کو سجدہ کرتی ہے۔ ہر چیز کے سجدہ کرنے کا انداز اور طریقہ اس کے حسب حال ہوتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿وَإِن مِّن شَيۡءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمۡدِهِۦ وَلَٰكِن لَّا تَفۡقَهُونَ تَسۡبِيحَهُمۡ﴾ [الإسراء: 44]. اور کوئی بھی چیز ایسی نہیں ہے جو حمد کے ساتھ اللہ کی تسبیح نہ کررہی ہو،ہاں مگر تم ان کی تسبیح کو سمجھ نہیں پاتے۔ (السعدی؍۴۱۵)
سوال: آسمانوں اور زمینوں میں موجود ساری مخلوقات کس طرح اللہ کوسجدہ کرتی ہیں؟
وَلِلَّهِۤ يَسۡجُدُۤ مَن فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ طَوۡعٗا وَكَرۡهٗا وَظِلَٰلُهُم بِٱلۡغُدُوِّ وَٱلۡأٓصَالِ۩ ١٥
اس آیت کو پڑھنے پر سجدہ کیا جاتا ہے۔اس کی ایک حکمت یہ ہے کہ بندۂ مسلم اپنے اس سجدہ کے ذریعہ خود کو ان مخلوقات کی جماعت میں شامل کرالے جو خوشی کے ساتھ اللہ کو سجدہ کرتی ہیں اور یہ سجدہ اللہ کی بندگی کا عملی اعتراف ہے۔ (ابن عاشور: ۱۳؍۱۱۲)
سوال: اس آیت کو پڑھنے پر سجدۂ تلاوت کرنے کی حکمت بیان کیجئے.
أَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٗ فَسَالَتۡ أَوۡدِيَةُۢ بِقَدَرِهَا فَٱحۡتَمَلَ ٱلسَّيۡلُ زَبَدٗا رَّابِيٗاۖ وَمِمَّا يُوقِدُونَ عَلَيۡهِ فِي ٱلنَّارِ ٱبۡتِغَآءَ حِلۡيَةٍ أَوۡ مَتَٰعٖ زَبَدٞ مِّثۡلُهُۥۚ كَذَٰلِكَ يَضۡرِبُ ٱللَّهُ ٱلۡحَقَّ وَٱلۡبَٰطِلَۚ
علم کو آسمان سے برسنے والے پانی سے تشبیہ دی گئی ہے اس لئے کہ علم کے ذریعہ دلوں کو زندگی ملتی ہے جیسے پانی سے جسموں کو زندگی ملتی ہے۔ پھر دلوں کو وادیوں سے تشبیہ دی گئی ہے اس لئے کہ یہی علم کی جگہیں ہیں جس طرح وادیاں پانی کی جگہیں ہوتی ہیں چنانچہ ایک دل ایسا ہوتا ہے جس میں بہت زیادہ علم سمایا ہوتا ہے جیسے ایک وادی ہوتی ہے جس میں بہت زیادہ پانی بھرا ہوتاہے جبکہ ایک دل ایسا ہوتاہے جس میں بہت کم علم ہوتا ہے جیسے کسی وادی میں تھوڑاسا پانی ہوتا ہے۔(ابن تیمیہ: ۴؍۸۶)
سوال: اپنے دامن میں علم کو سمیٹنے اور جمع کرنے کے اعتبار سے دلوں کی صلاحیتیں الگ الگ ہوتی ہیں۔آیت کی روشنی میں اس حقیقت کو بیان کیجئے.
فَأَمَّا ٱلزَّبَدُ فَيَذۡهَبُ جُفَآءٗۖ وَأَمَّا مَا يَنفَعُ ٱلنَّاسَ فَيَمۡكُثُ فِي ٱلۡأَرۡضِۚ كَذَٰلِكَ يَضۡرِبُ ٱللَّهُ ٱلۡأَمۡثَالَ ١٧
حق اور باطل کی مثال بیان کی گئی ہے چنانچہ کفر کو اس جھاگ اور خس وخاشاک سے تشبیہ دی گئی جو پانی کی سطح کے اوپر آجاتا ہے اور چھایا رہتاہے لیکن جلد ہی اس جھاگ کا زور ٹوٹ جاتا ہے اوروادیوں کے کناروں پر جاٹکتا ہے اور پھر ہوائیں اسے بکھیر دیتی ہیں۔ بالکل اسی طرح کفر بالآخر مٹ جاتا اور کمزور وبے حیثیت ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں مثالوں کو حق کے ثابت اور باقی رہنے اور باطل کے ناکام اور کمزور ہوجانے کے بارے میں بیان فرمایا ہے اور ان کے ذریعہ بتایا ہے کہ حق باقی رہتا ہے اور باطل مٹ جاتا ہے۔ بھلے ہی وہ بعض حالات میں بلند ہوجائے مگر بالآخر اسے پانی کے جھاگ اور دھاتوں کے میل کچیل کی طرح ٹوٹنا اور بکھرنا ہی ہوتا ہے۔ (القرطبی: ۱۲؍۵۱-۴۸)
سوال:قرآن نے حق اور باطل دونوں کے انجام کی کس طرح تصویر کھینچی ہے؟
وَٱلَّذِينَ لَمۡ يَسۡتَجِيبُواْ لَهُۥ لَوۡ أَنَّ لَهُم مَّا فِي ٱلۡأَرۡضِ جَمِيعٗا وَمِثۡلَهُۥ مَعَهُۥ لَٱفۡتَدَوۡاْ بِهِۦٓۚ أُوْلَٰٓئِكَ لَهُمۡ سُوٓءُ ٱلۡحِسَابِ وَمَأۡوَىٰهُمۡ جَهَنَّمُۖ وَبِئۡسَ ٱلۡمِهَادُ ١٨
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کہتے ہیں:(سوء الحساب) براحساب یہ ہے کہ آدمی کے تمام گناہوں کا حساب لیا جائے،اس کا کوئی بھی گناہ بخشا اور چھوڑا نہ جائے۔(البغوی:۲؍۵۲۳)
سوال:قیامت کے دن برا حساب کس طرح ہوگا؟