قرآن
ﮎ
ﰺ
ﭙ ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ
ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ
ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ
ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ١٦٤ ١٦٤ ﭽ ﭾ
ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ
ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ
ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ١٦٥ ١٦٥
ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ
ﮨ ﮩ ﮪ ١٦٦ ١٦٦ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ
ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ
ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ١٦٧ ١٦٧
ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ
ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ١٦٨ ١٦٨ ﯹ ﯺ
ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ١٦٩ ١٦٩
وَٱلۡفُلۡكِ ٱلَّتِي تَجۡرِي فِي ٱلۡبَحۡرِ بِمَا يَنفَعُ ٱلنَّاسَ
کشتیوں میں اللہ کی نشانی کا پہلو یہ ہے کہ :اللہ تعالیٰ نے انہیں اس طرح لوگوں کے لئے مسخر کردیاکہ یہ پانی کی سطح پربآسانی رواں دواں رہتی اور دوڑتی ہیں اور اپنے بھاری بھرکم وزن کے باوجود اس پر ٹھہری رہتی ہیں۔ (القرطبی:۲؍۴۹۴(
سوال: سمندر میں چلنے والی کشتیوں میں اللہ کی نشانی کس طرح ہے؟بیان کیجئے.
وَتَصۡرِيفِ ٱلرِّيَٰحِ وَٱلسَّحَابِ ٱلۡمُسَخَّرِ بَيۡنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرۡضِ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يَعۡقِلُونَ ١٦٤
اور ہواؤں کے رخ بدلنے میں (نشانیاں ہیں) یعنی ہواؤں کا مختلف جہات اور سمتوں سے چلانا۔اوریہ چار سمتیں ہیں اور جو اس کے درمیان کی جہتیں ہیں۔او ر اللہ تعالیٰ کا ان ہواؤں کو مختلف صفات اور خوبیوں کے ساتھ چلانا۔چنانچہ ان میں سے کچھ ہوائیں درختوں کو بارآور اور پھل دار بنانے والی ہیں۔(ایک درخت کا شگوفہ یا بیج دوسرے درخت تک پہنچاکر عملِ بارآوری میں مدد دیتی ہیں۔) کچھ ہوائیں بانجھ (خیر وبرکت سے خالی) ہوتی ہیں۔بعض سخت ٹھنڈی اور بعض تیز آواز اور سنسناہٹ والی ہوائیں ہوتی ہیں۔کوئی ہوا اللہ کی جانب سے مدد کے لئے ہوتی ہے تو کوئی تباہی او ر ہلاکت کے لئے۔ (ابن جزی:۱؍۹۱)
سوال: مختلف قسم کی ہواؤں کو چلانے کے حوالے سے اللہ کی عظمت اور قدرت بیان کیجئے؟
وَتَصۡرِيفِ ٱلرِّيَٰحِ وَٱلسَّحَابِ ٱلۡمُسَخَّرِ بَيۡنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرۡضِ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يَعۡقِلُونَ ١٦٤
اس کی تشریح میں کہا گیا ہے کہ :ہواؤں کا پھیرنا یہ ہے کہ وہ کبھی نرم اور خوشگوار ہوتی ہیں تو کبھی تیز وتند آندھی بن جاتی ہیں۔کبھی گرم ہوجاتی ہیں تو کبھی بالکل سردہوجاتی ہیں۔ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:اللہ کے سب سے عظیم لشکر ہوا اور پانی ہیں۔ (البغوی:۱؍۱۳۲)
سوال: اللہ کی سب سے بڑی فوج کون سی ہے؟
وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَتَّخِذُ مِن دُونِ ٱللَّهِ أَندَادٗا يُحِبُّونَهُمۡ كَحُبِّ ٱللَّهِۖ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَشَدُّ حُبّٗا لِّلَّهِۗ
یہ بات اچھی طرح جان لیجئے کہ اللہ کی محبت جب دل میں رچ بس جاتی ہے تو اعضاء وجوارح پر اس کے اثرات مختلف شکلوں میں ظاہرہوتے ہیں،اور وہ یہ ہیں: اللہ کی اطاعت میں خوب محنت وکوشش کرنا،اس کے دین کی خدمت میں سرگرم رہنا،اسے راضی رکھنے کی شدید تڑپ اورخواہش کا ہونا، اس سے مناجات کرکے لطف ولذت پانا،اس کے فیصلوں پر راضی ومطمئن رہنا،اس سے ملاقات کی آرزو اور شوق رکھنا،اس کے ذکر سے دل کا سکون اور جان کا سرور پانا، غیراللہ سے اجنبیت محسوس کرنا،(برے)لوگوں سے دوربھاگنا، الگ تھلگ جگہوں پر جاکر تنہائی اختیار کرنا،دل سے دنیا (کی چاہت) کا نکل جانا، اللہ کے محبوب بندوں سے محبت کرنااور اللہ کو سب پر ترجیح دینا۔ (ابن جزی: ۱؍۹۲)
سوال: دل میں اللہ کی محبت کے مضبوط ہونے کی کیا علامت ہے؟
إِذۡ تَبَرَّأَ ٱلَّذِينَ ٱتُّبِعُواْ مِنَ ٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُواْ وَرَأَوُاْ ٱلۡعَذَابَ وَتَقَطَّعَتۡ بِهِمُ ٱلۡأَسۡبَابُ ١٦٦
مشرکین یہ گمان کربیٹھے تھے کہ ان کے بنائے ہوئے معبودوں کے پاس کچھ اختیار ہے اور وہ انہیں اللہ سے قریب کرسکتے ہیں وہ اللہ تک پہنچنے کا ذریعہ اور وسیلہ ہیں۔لیکن ان کا گمان نامراد ہوا اور ان کی محنت وکوشش ضائع ہوگئی اور ان پر کڑا عذاب واجب ہوگیااور ان کے یہ (معبود) ان سے عذاب کا معمولی حصہ بھی نہیں ہٹاسکے۔اور نہ ہی انہیں ذرہ برابر فائدہ پہنچاسکیں گے بلکہ ان کی وجہ سے تو انہیں نقصان پہنچ گیاوہ یوں کہ انہوں نے گمان کر لیاتھا کہ یہ معبودان ان کے کام آئیں گے لیکن(ہوگا یہ کہ)یہ پیشوا اپنے پیچھے چلنے والوں سے براء ت وبیزاری کااظہار کریں گے اور ان کے بیچ دنیا کے سارے تعلقات ٹوٹ جائیں گے اس لئے کہ یہ تعلقات غیر اللہ کے لئے تھے اور اللہ کے حکم کے خلاف تھے۔ (یعنی غیر شرعی تھے۔) (السعدی:۸۰)
سوال:قیامت کے دن متبوعین یعنی پیشواؤں کا اپنے پیروکاروں کے متعلق کیا موقف ہوگا؟
وَقَالَ ٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُواْ لَوۡ أَنَّ لَنَا كَرَّةٗ فَنَتَبَرَّأَ مِنۡهُمۡ كَمَا تَبَرَّءُواْ مِنَّاۗ كَذَٰلِكَ يُرِيهِمُ ٱللَّهُ أَعۡمَٰلَهُمۡ حَسَرَٰتٍ عَلَيۡهِمۡۖ وَمَا هُم بِخَٰرِجِينَ مِنَ ٱلنَّارِ ١٦٧
مشرکین اپنے جن اعمال سے فائدے اور اچھے نتیجہ کی امید لگائے بیٹھے تھے وہ ان کی امید کے بالکل خلاف حسرت وندامت میں بدل جائیں گے۔ اس وقت (بے سوچے سمجھے)اپنے پیشواؤں اور اماموں کی اتباع کرنے والے یہ تمناکریں گے کہ کاش!وہ پھر سے دنیا میں لوٹا دئے جائیں تاکہ وہ (بھی)اپنے پیشواؤں اور سرداروں سے دامن جھٹک لیں۔وہ اس طرح کہ اللہ کے ساتھ شرک نہیں کریں گے اور عمل کو اللہ کے لئے خالص کرنے پر توجہ دیں گے۔ (السعدی:۸۰)
سوال: دوسروں کے پیچھے چلنے والے کفار ومشرکین اپنے اعمال کا غلط ہونا کب تسلیم کریں گے؟
كَذَٰلِكَ يُرِيهِمُ ٱللَّهُ أَعۡمَٰلَهُمۡ حَسَرَٰتٍ عَلَيۡهِمۡۖ وَمَا هُم بِخَٰرِجِينَ مِنَ ٱلنَّارِ ١٦٧
سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں:دور سے جنت دکھائی جائیگی،چنانچہ وہ اسے اور اس میں موجود محلوں اور کوٹھیوں کو دیکھیں گے کہ اگر وہ اللہ کی اطاعت کرتے تو یہ ان کے گھر ہوتے ۔جب وہ گھر مومنوں میں تقسیم کردئے جائیں گے تو یہی وہ وقت ہوگا جب یہ (جہنمی)ندامت سے دوچار ہوں گے ۔اور(آیت میں ) ان اعمال کو ( جو جنت میں لے جانے والے تھے)ان کی طرف اس لئے منسوب کیا گیا ہے کہ ان اعمال کا انہیں حکم دیا گیا تھا ۔اور حسرت و افسوس کسی چیز کے کھوجانے پر ندامت وشرمندگی کا سب سے اونچادرجہ ہے۔ (القرطبی:۳؍۱۱)
سوال: کفار قیامت کے دن حسرت کے درجہ تک کیسے پہنچیں گے؟