قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے


٩٦ ٩٦

٩٧ ٩٧

٩٨ ٩٨

ﭿ
٩٩ ٩٩




١٠٠ ١٠٠



١٠١ ١٠١

ﯿ
١٠٢ ١٠٢
١٠٣ ١٠٣
247
سورۃ يوسف آیات 0 - 97

قَالُواْ يَٰٓأَبَانَا ٱسۡتَغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوبَنَآ إِنَّا كُنَّا خَٰطِـِٔينَ ٩٧

جب انہوں نے اپنے والد یعقوب علیہ السلام سے اپنے گناہوں کی بخشش اور معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تو گناہ کا اعتراف کرکے اس کی وجہ بھی بیان کردی اس لئے کہ اعتراف جرم توبہ کی ایک شرط ہے۔ (البقاعی: ۴؍۹۷)
سوال:کیا گناہ کا اعتراف کرنا سچی توبہ کی شرطوں میں شامل ہے؟

سورۃ يوسف آیات 0 - 98

قَالَ سَوۡفَ أَسۡتَغۡفِرُ لَكُمۡ رَبِّيٓۖ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلۡغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ ٩٨

یہاں یعقوب علیہ السلام نے بیٹوں کی توجہ اس بات کی طرف دلائی کہ ان کا گناہ معمولی نہیں، بہت بڑا ہے مگر اللہ بھی بڑی عظمت اور بڑائی والا ہے،ساتھ ہی یہ بھی بتادیا کہ وہ آئندہ وقتوں میں ان کے لئے بار بارمعافی طلب کرتے رہیں گے۔(ابن عاشور:۱۳؍۵۴)
سوال: یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں سے یہ وعدہ کیوں کیا کہ وہ مستقبل میں ان کے لئے معافی مانگیں گے؟

سورۃ يوسف آیات 0 - 100

وَقَدۡ أَحۡسَنَ بِيٓ إِذۡ أَخۡرَجَنِي مِنَ ٱلسِّجۡنِ

یوسف علیہ السلام نے اس موقع پر یہ نہیں کہا کہ مجھے کنویں سے نکالا۔اس کی دووجہیں ہیں:
1۔کنویں کا ذکر کرنے میں ان کے بھائیوں کی بے عزتی اور بدنامی ہوتی اور ان کی بری حرکتوں کی انہیں یاد دلائی جاتی اس لئے بھائیوں کا احترام کرتے ہوئے انہوں نے کنویں کا ذکر نہیں کیا۔
2۔ یوسف علیہ السلام کنویں سے نکل کر غلامی کی حالت میں چلے گئے تھے جبکہ قید خانہ سے نکل کر حکومت اور مسند اقتدار پر پہنچ گئے تھے۔ آخری حالت زیادہ نعمت والی تھی اس لئے اس حالت کا ذکر فرمایا۔ (ابن جزی: ۱؍۴۲۷)
سوال: یوسف علیہ السلام نےاس مقام پر کنویں سے نکالے جانے کی نعمت اور احسان کا ذکر کیوں نہیں کیا؟

سورۃ يوسف آیات 0 - 100

مِنۢ بَعۡدِ أَن نَّزَغَ ٱلشَّيۡطَٰنُ بَيۡنِي وَبَيۡنَ إِخۡوَتِيٓ

یہ یوسف علیہ السلام کی نرمی اور خوش کلامی کا نمونہ ہے کہ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ شیطان نے میرے بھائیوں کو بہکا دیا بلکہ اس انداز اور الفاظ میں بات کہی جیسے غلطی اور جہالت دونوں جانب سے سرزد ہوئی تھی ۔ (السعدی: ؍۴۰۵)
سوال: شیطانی بہکاوے کا شکار صرف یوسف علیہ السلام کے بھائی ہوئے تھے پھر یوسف علیہ السلام نے اپنی اور بھائیوں دونوں کی طرف اس بہکاوے کی نسبت کیوں کی؟

سورۃ يوسف آیات 0 - 101

أَنتَ وَلِيِّۦ فِي ٱلدُّنۡيَا وَٱلۡأٓخِرَةِۖ تَوَفَّنِي مُسۡلِمٗا وَأَلۡحِقۡنِي بِٱلصَّٰلِحِينَ ١٠١

(أنت وليِّي) تو ہی میرا کارساز اور سرپرست ہے۔یعنی باطنی اور ظاہری طور پر میرے سب سے زیادہ قریب ہے (في الدنيا والآخرة) یعنی تیرے سوا کوئی بھی میرا ولی اور کارساز نہیں، اور ولی اپنے مولیٰ یعنی غلام اور قریبی کے ساتھ وہی سلوک کرتا ہے جو سب سے اچھا اور بہتر ہوتا ہے لہذا تو نے دنیا میں میرے ساتھ جو احسان اور بھلائی کی ہے اس سے بڑھ کر آخرت میں مجھ پر احسان وکرم کرنا۔(البقاعی: ۴؍۱۰۰)
سوال:اللہ تعالیٰ کے اولیاء میں شامل ہونے پر بندے کو کیافائدہ ملتا ہے؟

سورۃ يوسف آیات 0 - 101

رَبِّ قَدۡ ءَاتَيۡتَنِي مِنَ ٱلۡمُلۡكِ وَعَلَّمۡتَنِي مِن تَأۡوِيلِ ٱلۡأَحَادِيثِۚ فَاطِرَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ أَنتَ وَلِيِّۦ فِي ٱلدُّنۡيَا وَٱلۡأٓخِرَةِۖ تَوَفَّنِي مُسۡلِمٗا وَأَلۡحِقۡنِي بِٱلصَّٰلِحِينَ ١٠١

(توفني مسلمًا)تو اسلام پر میرا خاتمہ کر۔ یوسف علیہ السلام نے جب اپنے اوپر اللہ کے انعامات کو گنایا تو یہ دعا فرمائی کہ جب ان کی موت کا وقت آجائے تو اللہ تعالیٰ انہیں اسلام پر وفات دے کر اپنی نعمتوں کو پورا کردے۔ (ابن جزی:۱؍۴۲۷)
سوال:دنیا کی نعمتوں کا مل جانا آخرت کی نعمتوں کوچاہنے اور طلب کرنے سے غافل نہیں کرتا۔آیت کی روشنی میں اس بات کی وضاحت کیجئے

سورۃ يوسف آیات 0 - 101

تَوَفَّنِي مُسۡلِمٗا وَأَلۡحِقۡنِي بِٱلصَّٰلِحِينَ ١٠١

یوسف علیہ السلام نے دعا کرتے ہوئے فرمایا: (توفني مسلمًا وألحقني بالصالحين) تو اسلام پر میرا خاتمہ کر اور مجھے نیک لوگوں میں شامل کردے۔ اس کے معانی میں دواقوال ہیں،دونوں میں سے صحیح قول یہ ہے کہ یوسف علیہ السلام نے اس دعا میں موت کا سوال یا اس کی تمنا نہیں کی تھی بلکہ ان کا سوال تو بس یہ تھا کہ جب ان کی موت ہوتو اسلام پر ہو۔انہوں نے موت کی حالت کا سوال کیا تھا، موت کا نہیں جیسا کہ اللہ کا حکم بھی ہے۔ (ابن تیمیہ: ۴؍۶۷)
سوال:کیا یوسف علیہ السلام نے موت کی تمنا کی تھی؟