قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے


٥٣ ٥٣

٥٤ ٥٤

٥٥ ٥٥

ﭿ
٥٦ ٥٦

٥٧ ٥٧


٥٨ ٥٨

٥٩ ٥٩

٦٠ ٦٠

٦١ ٦١


٦٢ ٦٢
ﯿ
٦٣ ٦٣
242
سورۃ يوسف آیات 0 - 53

وَمَآ أُبَرِّئُ نَفۡسِيٓۚ إِنَّ ٱلنَّفۡسَ لَأَمَّارَةُۢ بِٱلسُّوٓءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّيٓۚ إِنَّ رَبِّي غَفُورٞ رَّحِيمٞ ٥٣

کہتے ہیں:نفوس کی تین قسمیں ہیں اور وہ یہ ہیں:
أ۔ النفس الامّارۃ بالسوء: وہ نفس جو برائی پر خوب اکساتااور ابھارتاہےاور اکثر و بیشتر گناہوں اورنافرمانیوں کا ارتکاب کرکے خواہشوں اورشہوتوں کے پیچھے چلتارہتاہے۔
ب۔ النفس اللوّامة: خوب ملامت کرنے والا نفس اور ضمیر۔ یہ نفس ایساہوتاہے جو گناہ کرتا ہے او ر پھر توبہ بھی کرتاہے۔یعنی اس سے اچھائی اور برائی دونوں ہوتی ہیں لیکن جب برائی کربیٹھتا ہے تو توبہ کرتا اوراللہ کی طرف رجوع کرتا ہے چنانچہ اسے “لوّامہ” یعنی ملامت کرنے والا کہاجاتا ہے اس لئے کہ یہ نفس بندے کو گناہ کرنے پر جھنجھوڑتا ہے،ملامت کرتا ہے اور اس لئے بھی کہ وہ نیکی اور برائی کے بیچ پس وپیش اور کشمکش میں مبتلا ہوجاتاہے۔
ج۔ النفس المطمئنّة:یہ وہ نفس ہے جونیکیاں کرتا ہے اور بھلائیوں اور نیکیوں کو پسند کرتاہے اور یہ برائیوں اور گناہوں سے نفرت کرتاہے اور یہی چیز اس کی طبیعت،عادت اور قابلیت بن گئی ہے ۔ (ابن تیمیہ: ۴؍۴۵)
سوال:نفس کی قسمیں کون کون سی ہیں؟

سورۃ يوسف آیات 0 - 54

وَقَالَ ٱلۡمَلِكُ ٱئۡتُونِي بِهِۦٓ أَسۡتَخۡلِصۡهُ لِنَفۡسِيۖ فَلَمَّا كَلَّمَهُۥ قَالَ إِنَّكَ ٱلۡيَوۡمَ لَدَيۡنَا مَكِينٌ أَمِينٞ ٥٤

بادشاہ کے ساتھ یوسف علیہ السلام کی ہونے والی بات چیت پر بادشاہ کی یہ گفتگو مرتب ہے،جس سے معلوم ہوتاہے کہ یوسف علیہ السلام نے بادشاہ سے ایک عقلمند،دانشور اور باادب آدمی کے انداز میں گفتگو کی تھی۔ چنانچہ بادشاہ نے جب ان کے کلام کی خوبی وحسن،زبان وبیان کی فصاحت وبلاغت اور فکر و نظر میں اصالت و ابتکار دیکھا تو سمجھ لیا کہ یوسف علیہ السلام لائق اعتماد اور شاہی قربت کے مستحق ہیں ۔ (ابن عاشور: ۱۳؍۷)
سوال:بادشاہ نے یوسف علیہ السلام سے یہ بات کس وجہ سے کہی کہ: (إنك اليوم لدينا مكين أمين)آج تم ہمارے پاس مرتبہ والے،امانت دار اور قابل اعتماد ہو؟

سورۃ يوسف آیات 0 - 55

قَالَ ٱجۡعَلۡنِي عَلَىٰ خَزَآئِنِ ٱلۡأَرۡضِۖ إِنِّي حَفِيظٌ عَلِيمٞ ٥٥

جہاں تک عہدہ طلب کرنے کا معاملہ ہے تو نبی ﷺ نے اس کو مذموم اور ناپسندیدہ ٹھہرایا ہے۔
اب رہا یوسف علیہ السلام کا عہدہ مانگنا اور یہ کہنا: (اجعلني على خزائن الأرض)مجھے زمین کے خزانوں (پیداوار)پر (نگراں)مقرر کردیجئے یامملکت کے خزانوں پر مجھے بااختیار کردیجئے۔تو اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگوں کو اللہ کی طرف دعوت دینے ،ان کے درمیان عدل وانصاف کرنے،ظلم وزیادتی کا خاتمہ کرنے اور وہاں کے لوگ جن اچھے کاموں کو نہیں کرتے تھے انہیں کرنے کے لئے یوسف علیہ السلام کے سامنے بس یہی راستہ تھا۔
ساتھ ہی ساتھ یہ وجہ بھی تھی کہ وہ لوگ یوسف علیہ السلام کی حقیقت ِحال سے واقف نہیں تھے۔یعنی ان کی پیغمبرانہ صلاحیتوں سے وہ بے خبر تھے ۔ اور پھر یہ بات بھی تھی کہ یوسف علیہ السلام نے خواب کی تعبیر کے ذریعہ یہ جان لیا تھا کہ آنے والے دنوں میں لوگوں کو قحط اور خشک سالی کی کیا حالت او ر کیسی مشکل پیش آنے والی ہے۔لہذا یہ ساری باتیں اور اس طرح کی وجوہات اس فرق کو واضح کردیتی ہیں کہ کن حالات میں عہدہ مانگنا جائز اور مناسب ہے اور کب یہ منع ہے۔ (ابن تیمیہ: ۴؍۵۵۔۶۶)
سوال: یوسف علیہ السلام نے عہدہ کیسے طلب کرلیا جبکہ عہدہ مانگنا بری چیز ہے؟

سورۃ يوسف آیات 0 - 55

قَالَ ٱجۡعَلۡنِي عَلَىٰ خَزَآئِنِ ٱلۡأَرۡضِۖ إِنِّي حَفِيظٌ عَلِيمٞ ٥٥

آیت سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ انسان کے لئے خود اپنے علم وفضل اور صلاحیت کو بیان کرناجائز ہے۔
ماوردی رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ حکم مطلق طور پراپنی تمام خوبیوں کےبیان کرنے کے بارے میں نہیں ہےلیکن انسان مخصوص حالتوں میں اپنی خوبیاں بیان کرسکتا ہے جیسے اسے کسی کام، عہدہ یا منصب سے جڑنا ہو یا اس کا تعلق کسب معاش یا روزی روٹی سے ہو، اس کے علاوہ عام حالات میں خود کی تعریف کرنا ممنوع ہے کیونکہ اس میں خود ستائی ، اپنی تعریف اور دکھاوا ہے ۔چنانچہ اگر کوئی صاحب ِعلم وفضل اس سے بچے اور احتیاط کرے تو یہ اس کے علم وفضل کے شایان شان ہے ۔کیونکہ یوسف علیہ السلام نے اپنی صلاحیتوں کا اظہارضرورت کے تحت فرمایا تھا تاکہ پچھلے حالات اور کوائف کا لحاظ کرسکیں اور اپنے بچھڑے ہوئے گھر والوں کو دوبارہ اکھٹا کر سکیں۔ (القرطبی: ۱۱؍۳۸۶)
سوال: کیا انسان کے لئے خوداپنی تعریف وتوصیف کرنا جائز ہے؟

سورۃ يوسف آیات 0 - 56

وَكَذَٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوسُفَ فِي ٱلۡأَرۡضِ يَتَبَوَّأُ مِنۡهَا حَيۡثُ يَشَآءُۚ نُصِيبُ بِرَحۡمَتِنَا مَن نَّشَآءُۖ وَلَا نُضِيعُ أَجۡرَ ٱلۡمُحۡسِنِينَ ٥٦

(ولا نضيع أجر المحسنين) اور ہم نیک لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابن وہب رحمہ اللہ کہتے ہیں: محسنین سے مراد ہے صبر کرنے والے۔انہیں میں یوسف علیہ السلام ہیں کیونکہ انہوں نے کنویں میں،غلامی میں،قید خانہ کی اسیری میں ہر جگہ صبر کا پیکر بنے رہے۔اسی طرح جب ایک عورت نے انہیں گناہ کی دعوت دی تب بھی انہوں نے اللہ کی حرام کی ہوئی چیز،مالک کی خیانت اور بدکاری سے بچنے میں صبر کا اعلیٰ نمونہ پیش کیا۔ (القرطبی: ۱؍۳۹۰)
سوال: یوسف علیہ السلام نے کئی قسم کے صبر کئے۔صبر کی وہ قسمیں کیا ہیں؟

سورۃ يوسف آیات 0 - 57

وَلَأَجۡرُ ٱلۡأٓخِرَةِ خَيۡرٞ لِّلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَكَانُواْ يَتَّقُونَ ٥٧

تقویٰ کے ذریعہ بندہ حرام چیزوں کو یعنی کبیرہ گناہوں اور صغیرہ گناہوں کو چھوڑدیتاہے اور مکمل ایمان کی وجہ سے دل ان باتوں کی تصدیق کرتا ہے جن کی تصدیق کرنے او ر ماننے کا اللہ نے حکم دیا ہے۔اور دل کے اعمال اوراعضاء وجوارح (جسم)کے اعمال،چاہے وہ فرائض وواجبات ہوں یا سنن ومستحبات ایمان کامل کے تابع ہوجاتے ہیں۔(السعدی؍۴۰۱)
سوال: آخرت کی کامیابی پانے میں تقویٰ اور ایمان کی کیا اہمیت ہے؟

سورۃ يوسف آیات 0 - 62

وَقَالَ لِفِتۡيَٰنِهِ ٱجۡعَلُواْ بِضَٰعَتَهُمۡ فِي رِحَالِهِمۡ لَعَلَّهُمۡ يَعۡرِفُونَهَآ إِذَا ٱنقَلَبُوٓاْ إِلَىٰٓ أَهۡلِهِمۡ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُونَ ٦٢

اس کی تشریح میں ایک بات یہ کہی گئی ہے کہ: ان کی پونجی اور قیمت لوٹانے سے یوسف علیہ السلام کا مقصد یہ تھا کہ وہ بھائیوں کو اپنی سخاوت و کرم کا احساس دلائیں اور آئندہ اپنے اچھے سلوک اور نیکی واحسان کی پیشگی ضمانت دیں تاکہ یہ چیز انہیں دوبارہ لوٹ کر آنے پر آمادہ کرسکے۔ (لعلهم يعرفونها) بہت ممکن ہے کہ وہ لوگ اسے محسوس کرسکیں کہ ہمارے پاس ان کی کیا عزت ہے اور ہم نے ان کے ساتھ کیسی مہربانی کی ہے۔(البغوی: ۲؍۴۷۵)
سوال: بھائیوں کے ساتھ یوسف علیہ السلام کی مہربانی ، سخاوت اور انہیں دیکھنے اور ملنے کی خواہش پر روشنی ڈالئے.