قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے


٨٢ ٨٢

٨٣ ٨٣


ﭿ
٨٤ ٨٤


٨٥ ٨٥


٨٦ ٨٦


٨٧ ٨٧



ﯿ ٨٨ ٨٨
231
سورۃ هود آیات 0 - 83

مُّسَوَّمَةً عِندَ رَبِّكَۖ وَمَا هِيَ مِنَ ٱلظَّٰلِمِينَ بِبَعِيدٖ ٨٣

معنی یہ ہے کہ: اے محمد ﷺ! عذاب کے یہ پتھر آپ کی قوم کے ظالموں سے بھی دور نہیں ہیں۔قتادہ اور عکرِمہ رحمھما اللہ نے کہا:اس امت کے ظالم لوگوں سے۔ اللہ کی قسم! اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے کسی ظالم کو اس–عذاب– سے امان نہیں دی۔ (القرطبی: ۱۱؍۱۸۹)
سوال:کیا اللہ کے یہ عذاب ان پچھلی قوموں کے ساتھ ہی خاص تھے یا پھر یہ ظالموں پر کسی بھی زمانہ میں نازل ہوسکتے ہیں؟

سورۃ هود آیات 0 - 84

وَلَا تَنقُصُواْ ٱلۡمِكۡيَالَ وَٱلۡمِيزَانَۖ إِنِّيٓ أَرَىٰكُم بِخَيۡرٖ

قوم ِشعیب اپنے کفر کے ساتھ حق كو پورا كرنے میں کمی کرنے والی اور ڈنڈی مارنے والی تھی۔
ان کے پاس جو شخص غلہ بیچنے کے لئے آتا تو اس سے خریدنے میں وزن بڑھاکر لیتے،جس حد تک ان کے بس میں ہوتا پورا پورا لیتے اور ظلم وزیادتی کرتے۔ لیکن جب کوئی شخص ان سے غلہ خریدنے آتا تو بیچنے کے وقت کم کرکے تولتے اور جتنا بس چلتا اس کا حق دینے میں بخیلی اور کاٹ کسر کرتے۔ (القرطبی: ۱۱؍۱۹۱)
سوال:روزی روٹی اور زندگی کی گذر بسر کی چیزوں میں لوگوں پر ظلم وزیادتی کا خطرہ بیان کیجئے اور بتائیے کہ یہ چیز کس طرح تباہی کا سبب بنتی ہے؟

سورۃ هود آیات 0 - 86

بَقِيَّتُ ٱللَّهِ خَيۡرٞ لَّكُمۡ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَۚ وَمَآ أَنَا۠ عَلَيۡكُم بِحَفِيظٖ ٨٦

یعنی:جب تم انصاف کے ساتھ لوگوں کے حقوق پورے پورے ادا کردو تو اس کے بعد جو بھی اللہ تعالیٰ تمہارے پاس باقی رکھے گا وہ زیادہ برکت والا اور اچھے نتیجہ والا ہوگا بہ نسبت اس مال کے جسے تم نے ظلم وجبر کے ساتھ ڈنڈی مار کر اپنے پاس زیادہ سے زیادہ بٹور رکھا ہے۔ (القرطبی: ۱۱؍۱۹۲)
سوال:مال کے زیادہ ہونے کا لحاظ ہونا چاہئے یا اس کی برکت کا؟ آیت کی روشنی میں اس بات کی وضاحت کیجئے.

سورۃ هود آیات 0 - 87

قَالُواْ يَٰشُعَيۡبُ أَصَلَوٰتُكَ تَأۡمُرُكَ أَن نَّتۡرُكَ مَا يَعۡبُدُ ءَابَآؤُنَآ أَوۡ أَن نَّفۡعَلَ فِيٓ أَمۡوَٰلِنَا مَا نَشَٰٓؤُاْۖ إِنَّكَ لَأَنتَ ٱلۡحَلِيمُ ٱلرَّشِيدُ ٨٧

یہ بات ان لوگوں نے کبر و نخوت والے انداز میں کہی تھی، جب کہ معاملہ اس کے برعکس تھا، ویسا نہیں تھا جیسا ان کا گمان تھا، بلکہ سچی بات وہی تھی جو ان کی زبان سے نکلی تھی کہ: اس کی نماز اسے اس بات کا حکم دیتی ہے کہ وہ انہیں ان معبودوں کی عبادت کرنے سے روکے جن کی عبادت ان کے گمراہ آباء و اجداد کرتے تھے اور اپنے مالوں میں من مانی کرنا بھی چھوڑ دیں کیوں کہ نماز فحش اور برائی سے روکتی ہے، اور غیر اللہ کی عبادت سے بڑا فحش اور برائی کیا ہوسکتی ہے؟! اور ناپ تول کے ذریعہ لوگوں کا حق مار لینے اور اسے ہڑپ لینے سے برا کیا ہوسکتا ہے؟!وہ بہت ہی باوقار اورنیک چلن تھے۔
سوال:آیت کے اندر نماز کاایک مقصد ذکر کیا گیا ہے، اسے بیان کیجیے؟

سورۃ هود آیات 0 - 87

قَالُواْ يَٰشُعَيۡبُ أَصَلَوٰتُكَ تَأۡمُرُكَ أَن نَّتۡرُكَ مَا يَعۡبُدُ ءَابَآؤُنَآ أَوۡ أَن نَّفۡعَلَ فِيٓ أَمۡوَٰلِنَا مَا نَشَٰٓؤُاْۖ إِنَّكَ لَأَنتَ ٱلۡحَلِيمُ ٱلرَّشِيدُ ٨٧

چونکہ نماز وہ سب سے خاص عمل تھا جو قوم کی عادت او ر معمول کے خلاف تھااس لئے شعیب علیہ السلام کی پہنچائی گئی تعلیمات میں نماز کی طرف ہی اشارہ کرکے اسے اپنی عادت ومعمول کی مخالفت کرنے والاعمل قرار دیا۔(ابن عاشور: ۱۲؍۱۴۱)
سوال:انبیاء کرام علیہم السلام نماز سے اس طرح جڑ ے رہتے تھے کہ وہ زندگی کے سارے کاموں پر اثر ڈالنے والی عبادت بن جاتی تھی۔اس بات کو بیان کیجئے.

سورۃ هود آیات 0 - 88

وَمَآ أُرِيدُ أَنۡ أُخَالِفَكُمۡ إِلَىٰ مَآ أَنۡهَىٰكُمۡ عَنۡهُۚ إِنۡ أُرِيدُ إِلَّا ٱلۡإِصۡلَٰحَ مَا ٱسۡتَطَعۡتُۚ

یعنی: یہ نہیں ہوسکتا کہ میں تم کو کسی کام سے منع کروں اور خود اسی کا ارتکاب کروں۔ایسے ہی یہ بھی نہیں ہوسکتا کہ میں تم کو کسی کام كو کرنے کا حکم دوں اور خود اسے نہ کروں اور چھوڑدوں۔ (اِنْ اُرِيْدُ اِلَّا الْاِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ)میں تو جہاں تک ہوسکے اصلاح چاہتا ہوں۔ یعنی: میں بس بھلائی کرنا چاہتا ہوں۔ مطلب: یہ چاہتا ہوں کہ تم حق وانصاف پر چل کر اپنی دنیا سنوارلو۔(القرطبی: ۱۱؍۱۹۸)
سوال:آیت نے واضح طور پر اصلاح اور سدھار کو بیان کیا ہے۔یہ کام کس چیز سے پورا ہوسکتا ہے؟

سورۃ هود آیات 0 - 88

إِنۡ أُرِيدُ إِلَّا ٱلۡإِصۡلَٰحَ مَا ٱسۡتَطَعۡتُۚ وَمَا تَوۡفِيقِيٓ إِلَّا بِٱللَّهِۚ

(إن أريد إلا الإصلاح ما استطعت)میں اس کے سوا کچھ نہیں چاہتا کہ جہاں تک میرے بس میں ہے اصلاح ِحال کی کوشش کروں۔ چونکہ اس بات میں ایک طرح سے اپنے نفس کا تزکیہ تھا۔ اس لئے آگے یہ کہہ کر اس خیال کود ورکردیا: (وما توفيقي إلا بالله)اور مجھے توفیق ملنا تو بس اللہ کے فضل سے ہے۔ بھلائیکرنے اور برائی سے بچنے کی توفیق مجھے صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملتی ہے،اس میں میری اپنی طاقت وقوت نہیں ہے۔(السعدی: ۳۸۷)
سوال: شعیب علیہ السلام نے جب قوم کو یہ خبر دی کہ وہ اصلاح چاہتے ہیں تو اس کے فوراً بعد یہ کیوں کہا:(وما توفيقي إلا بالله)كہ مجھے توفیق ملنا تو اللہ ہی کے فضل سے ہے؟