قرآن
ﮗ
ﱄ
ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ٥٤ ٥٤ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ
ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ٥٥ ٥٥ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ
ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ
٥٦ ٥٦ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ
ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ
٥٧ ٥٧ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ
ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ٥٨ ٥٨ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ
ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ٥٩ ٥٩ ﯗ
ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ
ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ٦٠ ٦٠ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ
ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ
ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ ﰈ ﰉ
٦١ ٦١ ﰋ ﰌ ﰍ ﰎ ﰏ ﰐ ﰑ ﰒ ﰓ ﰔ ﰕ ﰖ
ﰗ ﰘ ﰙ ﰚ ﰛ ﰜ ﰝ ﰞ ﰟ ﰠ ٦٢ ٦٢
فَكِيدُونِي جَمِيعٗا ثُمَّ لَا تُنظِرُونِ ٥٥ إِنِّي تَوَكَّلۡتُ عَلَى ٱللَّهِ رَبِّي وَرَبِّكُمۚ مَّا مِن دَآبَّةٍ إِلَّا هُوَ ءَاخِذُۢ بِنَاصِيَتِهَآۚ إِنَّ رَبِّي عَلَىٰ صِرَٰطٖ مُّسۡتَقِيمٖ ٥٦
دشمنوں کی کثرت اور بڑی تعداد ہونے کے باوجود یہ بات کہنا،اللہ تعالیٰ کی نصرت ومدد پر ھود علیہ السلام کے کامل بھروسہ اور بھرپور اعتماد کی دلیل ہے۔ (القرطبی: ۱۱؍۱۴۳)
سوال: ھود علیہ السلام کا قول کس بات پر دلالت کرتا ہے؟
مَّا مِن دَآبَّةٍ إِلَّا هُوَ ءَاخِذُۢ بِنَاصِيَتِهَآۚ إِنَّ رَبِّي عَلَىٰ صِرَٰطٖ مُّسۡتَقِيمٖ ٥٦
یعنی: ہر جاندار جو زمین پر چلتا پھرتا ہو (إلا هو آخذ بناصيتها) اس کی پیشانی کو اللہ نے پکڑ رکھا ہے۔یعنی: اس کو جیسے اور جدھر چاہتا ہے پھیر دیتاہے،اور جس چیز سے روکنا چاہتا ہے روک دیتا ہے۔ (القرطبی: ۱۱؍۱۴۳)
سوال: آیت نے اللہ کی قدر ت کا ایک نمونہ بیان کیا ہے اور انسان کی کمزور ی بھی۔اسے واضح کیجئے.
فَإِن تَوَلَّوۡاْ فَقَدۡ أَبۡلَغۡتُكُم مَّآ أُرۡسِلۡتُ بِهِۦٓ إِلَيۡكُمۡۚ وَيَسۡتَخۡلِفُ رَبِّي قَوۡمًا غَيۡرَكُمۡ وَلَا تَضُرُّونَهُۥ شَيۡـًٔاۚ إِنَّ رَبِّي عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٍ حَفِيظٞ ٥٧
(ولا تضرونه شيئًا) اور تم اس سے پیٹھ پھیر کر اور منہ موڑکر اس کا کچھ بگاڑ نہ سکوگے۔بلکہ تم خود اپنے آپ کو نقصان میں ڈالوگے۔اس کا ایک معنی یہ بتایا گیا ہے کہ جب اللہ تمہیں ہلاک کردیگا تو تمہارے مٹ جانے سے اللہ کے پاس اس کی شان میں، اس کی سلطنت میں کوئی کمی نہیں ہوگی اس لئے کہ اللہ کے نزدیک تمہارا ہونا اور نہ ہونا دونوں برابر ہے۔ (البغوی: ۲؍۴۰۹)
سوال:کیا بندہ اللہ کی اطاعت وفرمانبرداری سے کتراکر اور منہ موڑکر اپنے رب کو کوئی نقصان پہنچاسکتاہے؟
وَلَمَّا جَآءَ أَمۡرُنَا نَجَّيۡنَا هُودٗا وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مَعَهُۥ بِرَحۡمَةٖ مِّنَّا وَنَجَّيۡنَٰهُم مِّنۡ عَذَابٍ غَلِيظٖ ٥٨
اس لئے کہ کوئی بھی شخص اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بغیر نجات نہیں پاسکتا اگرچہ اس کے نیک اعمال بہت زیادہ ہوں۔ (القرطبی: ۱۱؍۱۴۶)
سوال:کیا کوئی بندہ صرف اپنے اچھے اعمال کے ذریعہ نجات پاسکتا ہے؟
وَتِلۡكَ عَادٞۖ جَحَدُواْ بِـَٔايَٰتِ رَبِّهِمۡ وَعَصَوۡاْ رُسُلَهُۥ وَٱتَّبَعُوٓاْ أَمۡرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِيدٖ ٥٩
جس شخص نے کسی ایک سچے رسول کی مخالفت ونافرمانی کی تو لازمی طور پر یہ تمام رسولوں کی مخالفت ہوگی اس لئے کہ سارے رسول اللہ پر ایما ن اور اس کی توحید میں متفق ہیں۔ (ابن جُزَی: ۱؍۴۰۰)
سوال: اس آیت سے معلوم ہوا کہ جس کسی نے ایک رسول کو جھٹلایا تواس نے حقیقت میں تمام رسولوں کو جھٹلایا۔اس بات کو واضح کیجئے.
فَٱسۡتَغۡفِرُوهُ ثُمَّ تُوبُوٓاْ إِلَيۡهِۚ إِنَّ رَبِّي قَرِيبٞ مُّجِيبٞ ٦١
اس آیت میں اللہ کے اپنے بندوں سے قریب ہونے کا ذکر ہے جس کا تقاضہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان پر اپنا لطف وکرم کرے،ان کی دعائیں قبول فرمائے اور ان کی مرادیں پوری کردے اسی لئے اللہ تعالیٰ اسماء ِحسنیٰ میں سے (قريب) کو اپنے نام (مجيب) (دعا قبول کرنے والا،جواب دینے والا)کے ساتھ ملا کر ذکر فرماتاہے۔ (السعدی: ۳۸۵)
سوال: اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنے نام”القریب“ کو ”المجیب“ کے ساتھ ملاکر کیوں ذکر فرمایا ہے؟
قَالُواْ يَٰصَٰلِحُ قَدۡ كُنتَ فِينَا مَرۡجُوّٗا قَبۡلَ هَٰذَآۖ
یعنی: ہم نے تم سے بڑی امیدیں باندھ رکھی تھیں اور ہم سمجھتے تھے کہ تمہارے اندر سوجھ بوجھ ہے،تم ہمیں فائدہ پہنچاؤگے،قوم کا نام روشن کروگے۔یہ قوم ِثمود کی طرف سے ان کے نبی صالح علیہ السلام کے حق میں ایک کھلی ہوئی گواہی ہے کہ وہ ہمیشہ اخلاق وکردار کی خوبیوں اور عادات واطوار کی اچھائیوں کے ساتھ اپنی قوم میں مشہور تھے اوروہ اپنی قوم کے سب سے اچھے اور بھلے آدمی مانے جاتے تھے۔(السعدی: ۳۸۵)
سوال: عالم اور داعی وہ ہوتاہے جو دین اور اچھے اخلاق کا جامع ہو۔ اس بات کو آیت کی روشنی میں بیان کیجئے.