قرآن
ﮖ
ﱃ
ﭙ ﭚ ﭛ ٨٩ ٨٩ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ
ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ
ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ
ﭷ ﭸ ﭹ ٩٠ ٩٠ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ
ﮀ ﮁ ٩١ ٩١ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ
ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ
٩٢ ٩٢ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ
ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ
ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ٩٣ ٩٣ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ
ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ
ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ٩٤ ٩٤
ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ
٩٥ ٩٥ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ٩٦ ٩٦
ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ٩٧ ٩٧
قَالَ قَدۡ أُجِيبَت دَّعۡوَتُكُمَا
اللہ تعالیٰ نے یہاں موسیٰ اور ہارون علیہما السلام دونوں کو مخاطب کیا ہے( یعنی یہ فرمایا ہے “ تم دونوں کی دعا قبول کرلی گئی ہے’’)۔ جبکہ پہلے صرف موسیٰ علیہ السلام کی دعا کا ذکر ہے لیکن موسیٰ علیہ السلام دعا کررہے تھے اور ہارون علیہ السلام ان کی دعا پر آمین کہہ رہے تھے(یعنی دعا پر آمین کہنے والے کو بھی دعا کرنے والے میں شمار کیا گیا ہے)۔(ابن جُزی: ۱؍۳۸۷)
سوال: آیت میں اس بات کی دلیل ہے کہ دعا مانگنے والے کے ساتھ ساتھ اس کے حق میں بھی قبول ہوتی ہے جو اس دعا پر آمین کہتا ہے۔ اس کی وضاحت کیجئے.
قَالَ قَدۡ أُجِيبَت دَّعۡوَتُكُمَا فَٱسۡتَقِيمَا وَلَا تَتَّبِعَآنِّ سَبِيلَ ٱلَّذِينَ لَا يَعۡلَمُونَ ٨٩
موسیٰ اور ہارون علیہما السلام کی دعا کی قبولیت کے نتیجےمیں انہیں استقامت یعنی حق پر جمے رہنے کا حکم دیا۔چنانچہ معلوم ہوا کہ دین پر جم جانا کرم و نوازش پر شکر ادا کرنا ہے کیونکہ بندے کی دعا قبول کرلینا بندے پر اللہ کا احسان وکرم ہے اور یہ ایک ایسی عظیم نعمت ہے جو شکر کی مستحق ہے لہذا نعمت دینے والے محسن کا شکر ادا کرنے کی سب سے بہتر اور بڑی صورت یہی ہے کہ اس کی فرمانبرداری کی جائے۔
استقامت کی حقیقت ہے: معتدل،سیدھا اور درست رہنا، جو ٹیڑھ پن کی ضد ہے اور یہ لفظ زیادہ تر حق اور ہدایت سے چمٹے رہنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔
(ابن عاشور: ۱۱؍۲۷۳)
سوال: “استقامت” سے کیا مراد ہے؟اور اللہ نے موسیٰ وہارون علیہما السلام کی دعا قبول ہوجانے کی خبر کے بعد اس کا حکم کیوں دیا؟
حَتَّىٰٓ إِذَآ أَدۡرَكَهُ ٱلۡغَرَقُ قَالَ ءَامَنتُ أَنَّهُۥ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا ٱلَّذِيٓ ءَامَنَتۡ بِهِۦ بَنُوٓاْ إِسۡرَٰٓءِيلَ وَأَنَا۠ مِنَ ٱلۡمُسۡلِمِينَ ٩٠
(جب موت یا عذاب سامنے آجائے) تو اس وقت ایمان لانا بے فائدہ ہے۔تو بہ عذاب دیکھنے سے پہلے قبول ہوتی ہے۔ عذاب کو دیکھ لینے یا اس میں مبتلا ہوجانے کے بعد توبہ قبول نہیں کی جاتی۔(القرطبی: ۱۱؍۴۵)
سوال: ایمان اور توبہ کے قبول ہونے کا وقت کب ختم ہوجاتا ہے؟
حَتَّىٰٓ إِذَآ أَدۡرَكَهُ ٱلۡغَرَقُ قَالَ ءَامَنتُ أَنَّهُۥ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا ٱلَّذِيٓ ءَامَنَتۡ بِهِۦ بَنُوٓاْ إِسۡرَٰٓءِيلَ وَأَنَا۠ مِنَ ٱلۡمُسۡلِمِينَ ٩٠
جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا دستور رہا ہے کہ کافر لوگ جب مجبوری کی حالت میں پہنچ جاتے ہیں (کہ موت یا عذاب ان کے سرپر آجائے اور وہ مجبور ولاچار ہوجائیں) تو ان کا ایمان لانا بے کار ہوتا ہے۔اس لئے کہ اس حالت میں ایمان لانا دیکھ لینے اور مشاہدہ کرلینے کے بعد کا ایمان ہوگیا۔ اس شخص کے ایمان کی طرح جو قیامت آجانے کے بعد ایمان لائے۔جبکہ حقیقت میں جو ایمان فائدہ دیتا ہے وہ تو بس ایمان بالغیب ہے( یعنی بن دیکھے اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی باتوں اور خبروں پر یقین کرلینا اور مان لینا۔ )(السعدی؍۳۷۲)
سوال: فرعون کا ایمان لانا قبول کیوں نہیں ہوا؟ اور اللہ تعالیٰ بندوں سے کون سا ایمان چاہتا ہے؟
وَإِنَّ كَثِيرٗا مِّنَ ٱلنَّاسِ عَنۡ ءَايَٰتِنَا لَغَٰفِلُونَ ٩٢
یہ لوگوں کی غفلت ہی ہے کہ اللہ کی نشانیاں باربار ان کے سامنے آتی ہیں پھر بھی وہ ان سے فائدہ نہیں اٹھاتے اور کوئی سبق نہیں لیتے۔چونکہ وہ ان پر دھیان ہی نہیں دیتے۔ البتہ جو شخص صاحب عقل ہو اور اس کا دل حاضرہو تو وہ اللہ کی نشانیوں میں ایسی باتیں دیکھ لیتا ہے جو پیغمبروں کی لائی ہوئی تعلیمات اور خبروں کے صحیح ہونے کی بڑی سے بڑی دلیل ہوتی ہیں۔ (السعدی؍۳۷۳)
سوال:اکثر لوگ اللہ کی نشانیوں سے فائدہ کیوں نہیں اٹھاتے حالانکہ یہ نشانیاں ان کے سامنے کثرت سے گذرتی رہتی ہیں؟
فَمَا ٱخۡتَلَفُواْ حَتَّىٰ جَآءَهُمُ ٱلۡعِلۡمُۚ
یہی وہ روگ ہے جو صحیح دین کے ماننے والوں کو لگتی ہے۔ہوتا یہ ہے کہ جب دین ِحق کو ماننے والے شیطان کو بے بس کردیتے ہیں اور اس کے جھانسے میں آکر دین کوپوری طرح نہیں چھوڑتے۔تب وہ انہیں بھڑکاتا ہے، پھوٹ،دشمنی اور نفرت ڈالنے کی کوشش کرتا ہے پھر جب اختلاف کا بیج پڑجاتا ہے تواس کا زہریلا نتیجہ بھی سامنے آتا ہے چنانچہ اب وہ ایک دوسرے کو گمراہ ٹھہرانے لگتے ہیں، اور آپسی دشمنی کی آگ میں جھلسنے لگتے ہیں۔اس پرشیطان ملعون کی آنکھ ٹھنڈی ہوجاتی ہے ۔ حالانکہ سب کا رب ایک ہے،سب کا رسول ایک ہے، سب کا دین ایک ہے اور مفادات عامہ مشترک اور یکساں ہیں تو پھر وہ کس وجہ سے ایسے اختلافات اور جھگڑوں میں پڑجاتے ہیں جو ان کے شیرازے کو بکھیر دیتا ہے، معاملات کو درہم برہم کردیتا ہے اور ان کی یونین اور تنظیم کو ختم کردیتاہے۔اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان کی بہت سی دینی اور دنیوی مصلحتوں کا گلا گھونٹ دیا جاتا ہے۔اور اس کے سبب بہت سی دینی تعلیمات پامال ہوتی ہیں۔ (السعدی؍۳۷۳)
سوال: وہ کون سی بیماری ہے جس نے اس امت کو صحیح علم ہونے کے باوجود اپنی لپیٹ میں لے کر کمزور بنادیا؟
فَإِن كُنتَ فِي شَكّٖ مِّمَّآ أَنزَلۡنَآ إِلَيۡكَ فَسۡـَٔلِ ٱلَّذِينَ يَقۡرَءُونَ ٱلۡكِتَٰبَ مِن قَبۡلِكَۚ
آیت میں یہ تنبیہ ہے کہ جس شخص کو دین میں کوئی شک وشبہ کھٹکے تو اسےکسی اہل ِعلم کے پاس یہ مسئلہ لے جانا چاہئے جو اس کے شک اور کھٹک کو دور کردے بلکہ اس کام کو فوراً کرنا چاہئے جیسا کہ (فَسْـَٔلِ) کے “فاء ِجزائیہ”سے معلوم ہوتا ہے،اس بناپر کہ یہ “تعقیب” کا فائدہ دیتا ہے۔(تعقیب کا مطلب ہوتا ہے:پیچھے لانا،ایک کام کے بعد دوسرا کام کرنا۔)(الالوسی: ۱۱؍۲۵۲)
سوال:دل میں آنے والے شبہات کا کیا علاج ہے؟