قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے



٢١ ٢١


ﭿ

٢٢ ٢٢


٢٣ ٢٣





٢٤ ٢٤

٢٥ ٢٥
211
سورۃ يونس آیات 0 - 21

وَإِذَآ أَذَقۡنَا ٱلنَّاسَ رَحۡمَةٗ مِّنۢ بَعۡدِ ضَرَّآءَ مَسَّتۡهُمۡ إِذَا لَهُم مَّكۡرٞ فِيٓ ءَايَاتِنَاۚ

آیت میں پہلے رحمت (کا مزہ)چکھانے کی نسبت اللہ کی طرف کی گئی ہے (اور کہا گیا:ہم رحمت چکھاتے ہیں)اور اس کے بعد تکلیف پہنچنے کی نسبت (ضَرَّآءَ) کی طرف کی گئی ہے۔(حالانکہ رحمت اور تکلیف دونوں اللہ کی طرف سے ہوتی ہیں لیکن تکلیف کو اللہ کی طرف منسوب نہیں کیا گیا۔)یہ قرآن کے آداب میں سے ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں ہے جو ابراہیم علیہ السلام کے بیان میں ہے (وَ اِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِيْنِ) (سورۂ شعراء:۸۰)اور جب میں بیمار پڑتا ہوں تو وہی مجھے شفاد یتا ہے۔(شفا دینے کی نسبت اللہ کی طرف کی مگر بیماری کی نسبت اس کی طرف نہیں کی۔)قرآن میں اس قسم کی دوسری مثالیں بھی موجود ہیں، اور معلوم ہوا اللہ کی شان میں اس طرح کی باتوں میں ادب اختیار کرنا چاہئے۔چنانچہ حدیث میں ہے کہ (نبی اکرم ﷺ اپنی دعا میں کہتے تھے): “اَللّٰهُمَّ اِنَّ الْخَيْرَ بِيَدَيْكَ وَالشَّرُّ لَيْسَ اِلَيْكَ”(صحیح مسلم) اے اللہ! خیر وبھلائی تیرے ہی ہاتھوں میں ہے جبکہ شر اور برائی سے تو پاک ہے۔ (الألوسی: ۱۱؍۱۲۴)
سوال: قرآن کی آیت اور حدیث نبوی ﷺ ہمیں اللہ عزوجل کے بارے میں گفتگو کا ادب بتاتی ہیں۔اسے بیان کیجئے۔ اللہ آپ کو ہر خیر کی توفیق دے.

سورۃ يونس آیات 0 - 22

هُوَ ٱلَّذِي يُسَيِّرُكُمۡ فِي ٱلۡبَرِّ وَٱلۡبَحۡرِۖ حَتَّىٰٓ إِذَا كُنتُمۡ فِي ٱلۡفُلۡكِ وَجَرَيۡنَ بِهِم بِرِيحٖ طَيِّبَةٖ وَفَرِحُواْ بِهَا جَآءَتۡهَا رِيحٌ عَاصِفٞ وَجَآءَهُمُ ٱلۡمَوۡجُ مِن كُلِّ مَكَانٖ وَظَنُّوٓاْ أَنَّهُمۡ أُحِيطَ بِهِمۡ دَعَوُاْ ٱللَّهَ مُخۡلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ لَئِنۡ أَنجَيۡتَنَا مِنۡ هَٰذِهِۦ لَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلشَّٰكِرِينَ ٢٢

آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ مشرکین مصیبت کی گھڑی میں اللہ کے سوا کسی کو نہیں پکارتے تھے جبکہ آپ اچھی طرح واقف ہیں کہ آج لوگوں کا حال یہ ہے کہ جب خشکی پر یا سمندر میں کسی خطرناک معاملےیا سنگین مسئلہ سے دوچار ہوتے ہیں تو وہ انہیں پکارتے ہیں جو نہ نقصان پہنچاسکتے ہیں اور نہ نفع دے سکتے ہیں،جو نہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ سن سکتے ہیں،چنانچہ کچھ لوگ ایسے ہیں جومصیبت میں خضر اور الیاس علیہما السلام کو پکارتے ہیں،کچھ لوگ ہیں جو کسی امام سے فریادرسی کرتےہیں۔ان میں سے آپ کسی کو نہیں پائیں گے کہ وہ اپنی دعااور آہ وزاری میں صرف اپنے مولائے کریم اللہ کو خاص کرے اور بس اسی سے دعا والتجا کرے بلکہ ایسا لگتا ہے کہ اس کے دل میں یہ خیال تک نہیں آتا کہ اگر وہ صرف اکیلے اللہ سے دعا اور التجا کرے گا تو وہ رب اسے ان تمام خوفناک حالات سے چھٹکارا دلادیگا۔ (الالوسی: ۱۱؍۱۳۰)
سوال:بعد کے مشرکین شرک میں ان لوگوں سے آگے بڑھے ہو ئے ہیں جن کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی، غور و فکر کے مذکورہ گوشے کی روشنی میں واضح کیجئے؟

سورۃ يونس آیات 0 - 22

هُوَ ٱلَّذِي يُسَيِّرُكُمۡ فِي ٱلۡبَرِّ وَٱلۡبَحۡرِۖ حَتَّىٰٓ إِذَا كُنتُمۡ فِي ٱلۡفُلۡكِ وَجَرَيۡنَ بِهِم بِرِيحٖ طَيِّبَةٖ وَفَرِحُواْ بِهَا جَآءَتۡهَا رِيحٌ عَاصِفٞ وَجَآءَهُمُ ٱلۡمَوۡجُ مِن كُلِّ مَكَانٖ وَظَنُّوٓاْ أَنَّهُمۡ أُحِيطَ بِهِمۡ دَعَوُاْ ٱللَّهَ مُخۡلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ لَئِنۡ أَنجَيۡتَنَا مِنۡ هَٰذِهِۦ لَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلشَّٰكِرِينَ ٢٢

مجبور اور بے بس آدمی کی دعا قبول کی جاتی ہے چاہے وہ کافر ہی کیوں نہ ہو اس لئے کہ وہ سارے ظاہری اسباب سے رشتہ توڑ کرصرف اس ذات ِواحد سے لو لگانا ہے جو رب الارباب ہے۔ (القرطبی: ۰۱؍۴۷۵)
سوال: کیا اللہ تعالیٰ مجبور وبے بس کافر کی دعا قبول کرتا ہے؟ اور کیوں؟

سورۃ يونس آیات 0 - 24

إِنَّمَا مَثَلُ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا كَمَآءٍ أَنزَلۡنَٰهُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ فَٱخۡتَلَطَ بِهِۦ نَبَاتُ ٱلۡأَرۡضِ مِمَّا يَأۡكُلُ ٱلنَّاسُ وَٱلۡأَنۡعَٰمُ حَتَّىٰٓ إِذَآ أَخَذَتِ ٱلۡأَرۡضُ زُخۡرُفَهَا وَٱزَّيَّنَتۡ وَظَنَّ أَهۡلُهَآ أَنَّهُمۡ قَٰدِرُونَ عَلَيۡهَآ أَتَىٰهَآ أَمۡرُنَا لَيۡلًا أَوۡ نَهَارٗا فَجَعَلۡنَٰهَا حَصِيدٗا كَأَن لَّمۡ تَغۡنَ بِٱلۡأَمۡسِۚ

دنیا اور دنیا کی نعمتوں کا یہی حال ہے کہ پہلے تو خوب فراوانی سے آتی ہیں لیکن پھر بڑی تیزی سے ہاتھ سے نکل جاتی ہیں اور ختم ہوجاتی ہیں جیسے زمین کے نباتات اور پیڑ پودوں کا حال ہوتا ہے کہ پہلے تو پھل پھول کر گھنے ہوجاتے ہیں، اور زمین کو اپنی ہریالی ، رنگینی اور رعنائی سے آراستہ کردیتے ہیں مگر اس کے بعددیکھتے ہی دیکھتے یہ لہلہاتے پودے سوکھ جاتے ہیں اور بہار خزاں میں بدل جاتی ہے ۔(البقاعی:۳؍۴۳۳)
سوال: دنیاوی زندگی کی زیب وزینت کے مرحلوں اور زمینی نباتات اور پودوں کی زیب وزینت کے مرحلوں کے درمیان مشابہت کی کیا صورت ہے؟

سورۃ يونس آیات 0 - 24

أَتَىٰهَآ أَمۡرُنَا لَيۡلًا أَوۡ نَهَارٗا فَجَعَلۡنَٰهَا حَصِيدٗا كَأَن لَّمۡ تَغۡنَ بِٱلۡأَمۡسِۚ

قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: (كأن لم تغن بالأمس):کا مطلب ہے:گویا وہاں کسی نعمت کا وجود ہی نہیں تھا،اور تمام چیزوں کے ختم ہوجانے کے بعد یہی حال ہوتا ہے کہ جیسے وہ موجود ہی نہیں تھیں اسی لئے حدیث میں آیا ہے: “يُوْتٰى بِأَنْعَمِ أَهْلِ الدُّنْيَا، فَيُغْمَسُ فِي النَّارِ غَمْسَةً، ثُمَّ يُقَالُ لَهٗ: هَلْ رَأَيْتَ خَيْرًا قَطُّ؟ هَلْ مَرَّ بِكَ نَعيِمٌ قَطُّ؟ فَيَقُولُ لَا، وَ يُؤْتٰى بِاَشَدِّ النَّاسِ عَذَابًا فِي الدُّنْيَا، فَيُغْمَسُ فِي النَّعِيْمِ غَمْسَةً، ثُمَّ يُقَالُ لَهٗ: هَلْ رَأَيْتَ بُؤسًا قَطُّ؟ فَيَقُولُ: لَا...” (صحيح مسلم بمعناه) یعنی قیامت کے دن(جہنمیوں میں سے)دنیا کے سب سے خوشحال اور نعمتوں میں رہنے والے شخص کو لایا جائیگااور اسے جہنم میں ایک ڈبکی دی جائیگی پھر اس سے پوچھا جائیگا: (اے ابن آدم!)کیا تونے کبھی کوئی نعمت اور بھلائی دیکھی ہے؟ تو وہ جواب دیگا:نہیں!(اللہ کی قسم!کبھی نہیں۔)اور ایک ایسے شخص کو لایا جائیگا جو(جنتیوں میں سے ہوگا اور)دنیا کی زندگی میں نہایت تنگ دست اور پریشان حال رہا ہوگا،اسے جنت میں ایک غوطہ دیا جائیگا،پھر اس سے پوچھا جائیگا کیا تو نے کبھی کسی تکلیف کا سامنا کیا ہے؟ تو وہ جواب دیگا: نہیں تو...۔ (ابن کثیر: ۲؍۳۹۵)
سوال: یہ آیت تمام گناہوں اور دنیاوی زندگی کی لذتوں سے بے رغبت بنانے والی (اور انہیں چھوڑنے پر ابھارنے والی)ہے؟اس بات کی وضاحت کیجئے.

سورۃ يونس آیات 0 - 24

كَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ ٱلۡأٓيَٰتِ لِقَوۡمٖ يَتَفَكَّرُونَ ٢٤

(آیتوں کی تفصیل غوروفکر کرنے والوں کے لئے ہے تاکہ وہ عبرت ونصیحت لیں۔)رہا وہ شخص جو غافل ہے اور منہ موڑتا ہے تو ایسے شخص کو آیتیں فائدہ نہیں پہنچاتیں اور نہ ان کا بیان۔بلکہ کوئی بھی بیان اس کے شک کو دور نہیں کرسکتا۔(السعدی؍۳۶۲)
سوال: قرآن کی بیان کی گئی مثالوں سے انسان کب فائدہ اٹھاتا ہے؟

سورۃ يونس آیات 0 - 25

وَٱللَّهُ يَدۡعُوٓاْ إِلَىٰ دَارِ ٱلسَّلَٰمِ

جب اللہ تعالیٰ نے (پچھلی آیت میں)دنیا کا اور اس کے جلدہی ختم اور فنا ہوجانے کا ذکر کیا تو اس کے بعد جنت کی رغبت دلائی ہے اور اس کی طرف دعوت دی ہے۔اللہ نے جنت کو“دارالسلام” یعنی سلامتی کے گھر کا نام دیا ہے یعنی ایسا گھر جو ہر قسم کی آفتوں،خامیوںاور مصیبتوں سے پاک ہے۔ (ابن کثیر: ۳۹۵)
سوال: جنت کو دارالسلام یعنی سلامتی کا گھر کا نام کیوں دیا گیا؟