قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے


٢١ ٢١

٢٢ ٢٢


٢٣ ٢٣

ﭿ



٢٤ ٢٤



٢٥ ٢٥


٢٦ ٢٦
190
سورۃ التوبہ آیات 0 - 23

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَتَّخِذُوٓاْ ءَابَآءَكُمۡ وَإِخۡوَٰنَكُمۡ أَوۡلِيَآءَ إِنِ ٱسۡتَحَبُّواْ ٱلۡكُفۡرَ عَلَى ٱلۡإِيمَٰنِۚ

(لا تتخذوا آباءَكُم وَإِخوانكم) (اے مومنو!)تم اپنے باپ دادا اور اپنے بھائیوں کو نہ بناؤ۔ باپ اور بھائی تمام لوگوں میں تم سے زیادہ قریبی ہوتے ہیں۔تو ان کے علاوہ دوسرے لوگ تو اس کے زیادہ لائق اور حقدار ہیں کہ ان کو تم دوست نہ بناؤ (أولياء إن استحبوا) اگر وہ پسند کریں۔ یعنی: اگر وہ اپنی خوشی اورپسندسے اپنائیں اور اختیار کریں (الكفر على الإيمان). ایمان کے مقابلے میں کفر کو(یعنی باپ دادا اور بھائی جیسے خاص اور قریبی رشتہ دار بھی اگر کفر کو اپنی خوشی سے ایمان پر ترجیح دیتے ہیں تو انہیں اپنا دوست نہ بناؤ، جب قریبی رشتہ داروں کے ساتھ ایسا حکم ہے تو دوسرے لوگوں کو تو بدرجۂ اولیٰ دوست نہیں بنانا چاہیے۔) (السعدی:؍ ۳۳۲)
سوال:آیت میں اللہ تعالیٰ نے خاص طور پرباپ دادااور بھائیوں کو ہی کیو ں ذکر کیا ؟

سورۃ التوبہ آیات 0 - 24

قُلۡ إِن كَانَ ءَابَآؤُكُمۡ وَأَبۡنَآؤُكُمۡ وَإِخۡوَٰنُكُمۡ وَأَزۡوَٰجُكُمۡ وَعَشِيرَتُكُمۡ وَأَمۡوَٰلٌ ٱقۡتَرَفۡتُمُوهَا وَتِجَٰرَةٞ تَخۡشَوۡنَ كَسَادَهَا وَمَسَٰكِنُ تَرۡضَوۡنَهَآ أَحَبَّ إِلَيۡكُم مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَجِهَادٖ فِي سَبِيلِهِۦ فَتَرَبَّصُواْ حَتَّىٰ يَأۡتِيَ ٱللَّهُ بِأَمۡرِهِۦۗ وَٱللَّهُ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلۡفَٰسِقِينَ ٢٤

یہ ہر اس شخص کے لئے دھمکی ہے جوہجرت اور جہادکے مقابلے میں اپنے خاندان ،اہل وعیال کو یا اپنے مال ودولت کو یا اپنے گھر بار کو ترجیح دیتا ہو ۔ (ابن جزی: ۱؍ ۳۵۴)
سوال: خاندان،مال دولت اور گھر بار کی حد سے زیادہ محبت کتنی خطرناک ہے؟

سورۃ التوبہ آیات 0 - 24

قُلۡ إِن كَانَ ءَابَآؤُكُمۡ وَأَبۡنَآؤُكُمۡ وَإِخۡوَٰنُكُمۡ وَأَزۡوَٰجُكُمۡ وَعَشِيرَتُكُمۡ وَأَمۡوَٰلٌ ٱقۡتَرَفۡتُمُوهَا وَتِجَٰرَةٞ تَخۡشَوۡنَ كَسَادَهَا وَمَسَٰكِنُ تَرۡضَوۡنَهَآ أَحَبَّ إِلَيۡكُم مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَجِهَادٖ فِي سَبِيلِهِۦ فَتَرَبَّصُواْ حَتَّىٰ يَأۡتِيَ ٱللَّهُ بِأَمۡرِهِۦۗ وَٱللَّهُ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلۡفَٰسِقِينَ ٢٤

یہ آیت کریمہ اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت فرض ہے اور ہر چیز کی محبت پر مقدم ہے۔
اس محبت کی نشانی یہ ہے کہ : جب آدمی کے سامنے دوچیزیں ہوں ،ان دونوں میں سے ایک چیز ایسی ہو جسے اللہ اور اس کے رسول ﷺ پسند کرتے ہوں لیکن اس میں آدمی کے اپنے نفس کی چاہت نہ ہو ۔ اور دوسری چیز ایسی ہو جسے اس کا نفس پسند کرتا اور چاہتا ہو لیکن اس سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی پسندیدہ چیز چھوٹ جاتی ہے یا اس میں کمی آجاتی ہے ۔اب ایسی صورت میں اگر آدمی اللہ کی پسندیدہ اور محبوب چیز کو چھوڑکر اس چیز کو گلے لگاتا اور ترجیح دیتا ہے جسے اس کا نفس چاہتا ہے تو یہ اس بات کی دلیل ہوگی کہ وہ ظالم ہے،اپنے فرض کو چھوڑنے والا ہے۔ (السعدی:؍ ۳۳۲)
سوال: اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت بندے پر کب ظاہرہوتی ہے ؟

سورۃ التوبہ آیات 0 - 24

أَحَبَّ إِلَيۡكُم مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَجِهَادٖ فِي سَبِيلِهِۦ فَتَرَبَّصُواْ حَتَّىٰ يَأۡتِيَ ٱللَّهُ بِأَمۡرِهِۦۗ وَٱللَّهُ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلۡفَٰسِقِينَ ٢٤

بندوں کے بہت سے اعمال ہیں جنہیں اللہ پسند فرماتا ہے لیکن آیت میں بندوں کے ان پسندیدہ اعمال میں سے خاص طورپر جہاد کو ہی ذکر کیا گیا ہے تاکہ اس کی اہمیت اجاگر کی جائے ۔ اور اس لئے بھی کہ جہاد میں جان جانے کا ڈر ہوتا ہے ، مال خرچ ہونے کا خطرہ ہوتاہے اور یار دوستوں سے جدائی کا اندیشہ ہوتا ہے جس سے یہ گمان بہت مضبوط ہوجاتا ہے کہ لوگ اس سے پیچھے ہٹ جائیں۔خاص طور سے اس ماحول میں کہ یہ سورت غزوۂ تبوک کے بعد نازل ہوئی ، جس میں بہت سے منافقین اور کچھ مسلمان بھی پیچھے رہ گئے تھے ۔ (ابن عاشور: ۱۰؍۱۵۳)
سوال: آیت کریمہ میں جہاد کو خاص طور پر کیوں ذکر کیا گیا ہے؟

سورۃ التوبہ آیات 0 - 25

لَقَدۡ نَصَرَكُمُ ٱللَّهُ فِي مَوَاطِنَ كَثِيرَةٖ

اللہ تعالیٰ مومن بندوں کو اپنا فضل واحسان یاد دلا رہا ہے کہ اس نے اپنے رسول ﷺ کے ساتھ جنگوں میں بہت سے موقعوں پر ان کی مدد کی ہے ،یہ بھی بیان فرمایا کہ دشمنوں پر فتح و کامیابی تعداد اور جنگی سازوسامان سے نہیں ملتی ہے ،بلکہ یہ چیز اللہ کے پاس ہے ۔اس کی تائید ومدد اورفیصلے کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے ۔ (ابن کثیر: ۲؍ ۳۲۸)
سوال: نصرت یعنی فتح اور مدد کو اللہ کی طرف منسوب کرنے سے کیا فائدہ معلوم ہوتا ہے؟

سورۃ التوبہ آیات 0 - 25

وَيَوۡمَ حُنَيۡنٍ إِذۡ أَعۡجَبَتۡكُمۡ كَثۡرَتُكُمۡ فَلَمۡ تُغۡنِ عَنكُمۡ شَيۡـٔٗا وَضَاقَتۡ عَلَيۡكُمُ ٱلۡأَرۡضُ بِمَا رَحُبَتۡ ثُمَّ وَلَّيۡتُم مُّدۡبِرِينَ ٢٥

جنگِ حُنین کے موقع پر مسلمانوں کی تعداد بارہ ہزار(۱۲۰۰۰)تھی ۔اس پر کچھ مسلمانوں نے کہا کہ آج تعداد میں کمی کی وجہ سے ہماری شکست نہیں ہوسکتی، لہذا اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ ان کی کمزوری اور عاجزی ظاہر کردے ۔(چنانچہ حنین کے میدان میں مسلمان فوج کے اترتے ہی ہوازِن اور ثقیف قبیلوں کے دشمنوں نے اچانک تیروں کی بوچھار کردی۔ اس اچانک حملے سے مسلمان بوکھلا گئے اور ان کے پاؤں اکھڑ گئے ۔) تب اکثر مسلمان نبی کریم ﷺ کے پاس سے (اور میدانِ جنگ سے) بھاگ نکلے۔یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ اپنے خچرپر سوار بہت تھوڑے مسلمانوں کے ساتھ میدان میں رہ گئے ۔پھر نبی ﷺ نے اللہ سے مدد مانگی اور ایک مٹھی مٹی لی اور اسے کفار کے چہروں پر دے مارا،ساتھ ہی یہ کہا: “شَاهَتِ الوُجُوْہُ”دشمنوں کے چہرے بگڑ جائیں ،(نتیجہ میں کوئی بھی کافر ایسا نہیں بچا جس کی آنکھوں میں نبی ﷺ کی پھینکی ہوئی مٹی نہ پڑی ہو۔) پھر آپﷺ نے اپنے صحابہ کو آواز دی ۔تب صحابہ کرام آپ کی طرف پلٹ آئے اور آخر اللہ نے کفار کو شکست د ے دی۔ (ابن جُزی: ۱؍ ۳۵۴)
سوال: اس آیت میں عمومی طور پر پوری امت کے لئے اور خصوصی طور پر مجاہدین کے لئے تربیت کا اہم پہلو ہے۔اس کی وضاحت کیجئے.

سورۃ التوبہ آیات 0 - 25

وَيَوۡمَ حُنَيۡنٍ إِذۡ أَعۡجَبَتۡكُمۡ كَثۡرَتُكُمۡ فَلَمۡ تُغۡنِ عَنكُمۡ شَيۡٔا وَضَاقَتۡ عَلَيۡكُمُ ٱلۡأَرۡضُ بِمَا رَحُبَتۡ ثُمَّ وَلَّيۡتُم مُّدۡبِرِينَ ٢٥

بعض مسلمانوں نے کہا کہ: (آج ہماری تعداد بہت زیادہ ہے اس لئے) تعداد کی کمی سے دشمن ہم پر غالب نہیں ہوسکتا،تب اللہ نے انہیں ان کی اسی بات کے حوالے کردیا ۔اس کا نتیجہ وہی نکلا جسے ہم نے پہلے بیان کیا ہے کہ شروع میں مسلمان دب گئے ،شکست نظر آنے لگی ۔یہاں تک کہ واپس میدانِ جنگ میں دوبارہ پلٹ آئے ۔ (البغوی: ۱۰؍۱۴۹)
سوال: اپنے آپ پر اور اپنے وسائل و اسباب پر گھمنڈ کی سنگینی اور خطرناکی بیان کیجئے۔جو افراد اور جماعت پر مرتب ہوتے ہیں.