قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے



٢٦ ٢٦


٢٧ ٢٧

٢٨ ٢٨
ﭿ

٢٩ ٢٩


٣٠ ٣٠


٣١ ٣١


٣٢ ٣٢

٣٣ ٣٣
180
سورۃ الأنفال آیات 0 - 28

وَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّمَآ أَمۡوَٰلُكُمۡ وَأَوۡلَٰدُكُمۡ فِتۡنَةٞ

یعنی: تمہارے مال اور اولاد اللہ کی طرف سے تمہاری آزمائش اور امتحان ہیں ۔انہیں اس لئے تم کو عطا کیا ہے کہ یہ بات واضح ہوجائے : آیا تم ان نعمتوں پر اللہ کی شکر گذاری اور اس کی فرمانبرداری کرتے ہو یا پھر مال ودولت اور آل اولاد سے ہی اپنے دل لگا بیٹھتے ہو اور ان میں کھوکر اللہ سے غافل ہوجاتے ہو اور پھر تم اللہ کو چھوڑکر انہی کو چاہتے ہو ۔ (ابن کثیر: ۲؍ ۲۸۸)
سوال: مال ودولت اور اولاد کب نعمت ہوتے ہیں اور کب زحمت ہوتے ہیں؟

سورۃ الأنفال آیات 0 - 28

وَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّمَآ أَمۡوَٰلُكُمۡ وَأَوۡلَٰدُكُمۡ فِتۡنَةٞ وَأَنَّ ٱللَّهَ عِندَهُۥٓ أَجۡرٌ عَظِيمٞ ٢٨

اب اگر تمہارے پاس عقل ہے ،سمجھ بوجھ ہے تودنیا کی معمولی فنا ہوجانے والی اور بے دم وبے دام معمولی لذت کے مقابلے میں اللہ کے عظیم الشان فضل وکرم اور غیر معمولی احسان کو اہمیت دو۔ اس لئے کہ عقل مند آدمی چیزوں کے درمیان موازنہ کرتا ہے ،انہیں جانچتا اور تولتا ہے پھر ان چیزوں میں سے اسے اہمیت اور ترجیح دیتاہے جو ترجیح دینے کے زیادہ لائق ہوتی اور اسی چیز کو آگے رکھتا ہے جو اولیت کی زیادہ حقدار ہوتی ہے۔ (السعدی:؍ ۳۱۹)
سوال: دنیا کی زیب وزینت اور آخرت کی بخشش ونعمت کے درمیان موازنہ کرنے کے بارے میں یہ آیت بنیاد ہے ۔آیت کی روشنی میں اس بات کی وضاحت کیجئے.

سورۃ الأنفال آیات 0 - 28

وَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّمَآ أَمۡوَٰلُكُمۡ وَأَوۡلَٰدُكُمۡ فِتۡنَةٞ وَأَنَّ ٱللَّهَ عِندَهُۥٓ أَجۡرٌ عَظِيمٞ ٢٨

یہ خیانت سے بچنے کی آگاہی ہے ۔مال کی محبت آدمی کو اس میں خیانت پر ابھارتی ہے ۔وہ مالِ غنیمت میں بے ایمانی کرنے والی خیانت ہویا اس کے علاوہ دوسرے اموال میں ۔اسی لئے آیت میں اولاد سے پہلے اموال کو ذکر کیا گیا ہے ۔ اس لئے کہ یہاں اس بات کا زیادہ امکان تھا کہ مال کی چاہت خیانت کرنے پر ابھارے۔ (ابن عاشور: ۹؍۳۲۴)
سوال: آیت کریمہ میں “اولاد” سے پہلے “اموال” کو کیوں ذکر کیا گیاہے؟

سورۃ الأنفال آیات 0 - 29

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِن تَتَّقُواْ ٱللَّهَ يَجۡعَل لَّكُمۡ فُرۡقَانٗا

یہ بات پکی ہے کہ جو کوئی اپنے دل میں اللہ کا ڈر اور تقویٰ بسالے گا اس طرح کہ اللہ کے احکام کو بجالائے اور اس کی منع کی ہوئی چیزوں سے باز آجائے تو نتیجے میں اسے حق اور باطل کو پہچاننے اور پرکھنے کی توفیق مل جاتی ہے ۔ (ابن کثیر: ۲؍۲۸۹)
سوال: حق اور باطل کے بیچ باریکی کے ساتھ فرق کرنے کے لئے “فرقان”یعنی قوتِ تمیز کی ضرورت ہے ۔ یہ قوت اور صلاحیت کیسے ملتی ہے؟

سورۃ الأنفال آیات 0 - 29

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِن تَتَّقُواْ ٱللَّهَ يَجۡعَل لَّكُمۡ فُرۡقَانٗا وَيُكَفِّرۡ عَنكُمۡ سَيِّـَٔاتِكُمۡ وَيَغۡفِرۡ لَكُمۡۗ وَٱللَّهُ ذُو ٱلۡفَضۡلِ ٱلۡعَظِيمِ ٢٩

(إن تتقوا الله يجعل لكم فرقانًا): اگر تم اللہ سے ڈرتے رہوتو اللہ تمہیں “فرقان” یعنی بچنے کا راستہ اور حق وباطل کو الگ کرنے کی کسوٹی عطا کردیگا۔
“فرقان” سے مراد ہے : دین کے بارے میں شک وشبہ سے نکلنے کا راستہ ۔ عکرمہ رحمہ اللہ نے اس کا یہ معنی بیان کیا ہے کہ ’’فرقان‘‘ کا مطلب ہے: نجات اور چھٹکارا۔یعنی تم کو ان چیزوں سے الگ کردیگا جن سے تم ڈرتے اور خوف کھاتے ہو ۔ ابن اسحق رحمہ اللہ نے کہا: حق اور باطل کے درمیان فرق اور فیصلہ کرنا ۔ یعنی :اللہ دونوں کو الگ الگ کردینے کی قوت اور قابلیت عطاکردے گا۔ ( البغوی: ۲؍ ۲۱۴)
سوال: “فرقان”سے کیا مراد ہے اور انسان اسے کس طرح حاصل کرسکتا ہے؟

سورۃ الأنفال آیات 0 - 33

وَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمۡ وَأَنتَ فِيهِمۡۚ وَمَا كَانَ ٱللَّهُ مُعَذِّبَهُمۡ وَهُمۡ يَسۡتَغۡفِرُونَ ٣٣

(وما كان الله معذبهم وهم يستغفرون) اور اللہ ایسا بھی کرنے والانہیں کہ انہیں عذاب میں ڈالے جب کہ وہ معافی مانگ رہے ہوں۔
یعنی :اگر لوگ ایمان لے آئیں اور معافی مانگتے رہیں تو یہ استغفارعذاب سے بچنے کا ذریعہ ہوگا۔بعض سلف کا قول ہے:ہمارے لئے عذاب سے حفاظت اور بچاؤ کی دو چیزیں تھیں ،وہ ہیں: (۱)نبی ﷺ کی ذات بابرکات کا موجود ہونا اور (۲)استغفار یعنی اللہ سے مغفرت اور معافی مانگتے رہنا ۔پھر جب نبی ﷺ کی وفات ہوگئی تو عذاب سے امان کا ایک ذریعہ چلا گیا ،صرف دوسرا باقی رہ گیا ہے ۔ (ابن جُزی: ۱؍ ۳۴۳)
سوال: اس آیت کی روشنی میں استغفار کی اہمیت بیان کیجئے.

سورۃ الأنفال آیات 0 - 33

وَمَا كَانَ ٱللَّهُ مُعَذِّبَهُمۡ وَهُمۡ يَسۡتَغۡفِرُونَ ٣٣

اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ استغفار کرنے والے کو عذاب نہیں دیتااس لئے کہ استغفار اس گناہ کو مٹا دیتا ہے جو عذاب کا سبب ہے ۔ (ابن تیمیہ: ۳؍ ۲۶۸)
سوال: اللہ تعالیٰ توبہ واستغفار کرنے والوں کو عذاب کیوں نہیں دیتا؟