قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے


١٩٦ ١٩٦

١٩٧ ١٩٧

١٩٨ ١٩٨

١٩٩ ١٩٩

ﭿ ٢٠٠ ٢٠٠


٢٠١ ٢٠١

٢٠٢ ٢٠٢


٢٠٣ ٢٠٣

٢٠٤ ٢٠٤


٢٠٥ ٢٠٥

٢٠٦ ٢٠٦
176
سورۃ الأعراف آیات 0 - 196

وَهُوَ يَتَوَلَّى ٱلصَّٰلِحِينَ ١٩٦

نیک مومن بندے جب ایمان اور تقویٰ کے ذریعہ اپنے رب کودوست اور کارساز بنالیتے ہیں اور اللہ کے علاوہ دوسرے کو جو نفع ونقصان دے ہی نہیں سکتا اسے اپناکارساز نہیں بناتے تو اللہ تعالیٰ ان کا کارساز اور مددگار بن جاتا ہے ،ان کے ساتھ نرمی اور مہربانی کا برتاؤ کرتا ہے اور ہر اس کا م میں ان کی مدد کرتا ہے جس میں ان کے دین اوردنیا کی کوئی بھلائی اورفائدہ ہو اوران نیک بندوں سے ہر ناپسندیدہ چیز اور برائی کو دور کردیتا ہے۔ (السعدی: ۳۱۲)
سوال: انسان کس طرح ان لوگوں کے گروہ میں شامل ہوسکتاہے جن کی حفاظت اور نگرانی کا ذمہ دار اور کارساز اللہ تعالیٰ بن جاتاہے؟

سورۃ الأعراف آیات 0 - 199

وَأَعۡرِضۡ عَنِ ٱلۡجَٰهِلِينَ ١٩٩

اگر کوئی شخص آپ کے ساتھ جہالت اور نادانی کابرتاؤ کرے تو آپ اس کا جواب بدسلوکی اور نادانی سے نہ دیں ۔ (البغوی: ۲؍ ۱۸۴)
سوال: اگر کوئی آدمی آپ کو گالی دے ،برابھلاکہے اور ناحق آپ پر عیب لگائے تو آپ کیا کریں گے؟

سورۃ الأعراف آیات 0 - 200

وَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ ٱلشَّيۡطَٰنِ نَزۡغٞ فَٱسۡتَعِذۡ بِٱللَّهِۚ إِنَّهُۥ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ٢٠٠

“نَزْغُ الشَّیْطَان”سے مراد ہے : حق کے بارے میں شیطان کا شک پیدا کرنا وسوسہ ڈالنا اورگناہوں کا حکم دینا یاطیش اور اشتعال دلانا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ ایسی حالت میں اس کی پناہ اور حفاظت مانگو ،جیسا کہ حدیثِ رسول ﷺ میں آیا ہے کہ : ایک آدمی کوبہت سخت غصہ آگیا تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “اِنِّیْ لَأَعْلَمُ کَلِمَۃً لَوْ قَالَہَا لَذَهَبَ عَنْہُ مَا بِہٖ، تَعَوَّذْ بِاﷲِ مِنَ الشَّیطَانِ الرَّجِیْم”۔ میں ایک ایساکلمہ جانتاہوں کہ اگر یہ شخص اسے کہہ لے تو اس کا غصہ ٹھنڈا ہوجائے گا ،تم مردود شیطان سے بچنے کے لئے اللہ کی پناہ مانگویعنی “أَعُوْذُ بِاﷲِ مِنَ الشَّیطَانِ الرَّجِیْم”کہو۔ (متفق علیہ) (ابن جزی: ۱؍۵ ۳۳)
سوال: شیطان کے کچھ و سوسوں اور بہکاووں کی مثال دیجئے.

سورۃ الأعراف آیات 0 - 200

وَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ ٱلشَّيۡطَٰنِ نَزۡغٞ فَٱسۡتَعِذۡ بِٱللَّهِۚ إِنَّهُۥ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ٢٠٠

(فاستعذ بالله) اللہ کی پناہ میں آؤ۔یعنی: اللہ سے یہ طلب کرو اور مانگو کہ وہ اس شیطانی وسوسے ،اس کے بہکاوے اور اس کے اثر سے بچالے اور اپنی حفاظت میں لے لے ۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ شیطانی وسوسے کو دورکرنے اور اس کے بہکاوے میں نہ آنے کے لئے اسی کا سہارا لیں اور اسی سے پناہ مانگیں ۔ (القرطبی: ۹؍۴۲۳)
سوال:قرآن نے ہماری جو رہنمائی کی ہے اس کے مطابق مومن بندہ شیطان کے وسوسے اور بہکاوے کو کس طرح دور کرسکتا ہے؟

سورۃ الأعراف آیات 0 - 201

إِنَّ ٱلَّذِينَ ٱتَّقَوۡاْ إِذَا مَسَّهُمۡ طَٰٓئِفٞ مِّنَ ٱلشَّيۡطَٰنِ تَذَكَّرُواْ فَإِذَا هُم مُّبۡصِرُونَ ٢٠١

نیک بندوں کو جب کوئی شیطانی وسوسہ اور خیال چھو بھی جاتا ہے تو وہ چونک اٹھتے ہیں ،بوکھلا جاتے ہیں۔یعنی: وہ لوگ اپنے ذہن پر زور دے کریاد کرتے ، سوچتے اور غور کرتے ہیں یہ دیکھنے اور سمجھنے کے لئے کہ کہاں اور کس موقع پر ہم سے گناہ سرزد ہوئے ہیں۔ سُدّی رحمہ اللہ نے فرمایا: متقی و پرہیزگار بندوں سے جب بھی کوئی غلطی سرزد ہوتی ہے تو وہ فوراً توبہ کرتے ہیں۔ (البغوی: ۲؍ ۱۸۵)
سوال: مومن بندہ جب کسی گناہ میں پڑجاتا ہے تو اس کی کیا حالت ہوتی ہے؟

سورۃ الأعراف آیات 0 - 201

إِنَّ ٱلَّذِينَ ٱتَّقَوۡاْ إِذَا مَسَّهُمۡ طَٰٓئِفٞ مِّنَ ٱلشَّيۡطَٰنِ تَذَكَّرُواْ فَإِذَا هُم مُّبۡصِرُونَ ٢٠١

سعید بن جُبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں:آیت میں وہ شخص مراد ہے جو غصے میں بھر جائے مگر سخت غصے کی اس حالت میں اسے اللہ تعالیٰ یاد آجاتا ہے تب وہ اپنا غصہ پی جاتا ہے ۔امام لیث، مجاہد رحمہ اللہ کا قول روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ :یہ وہ شخص ہے جو گناہ کا ارادہ کرتا ہے مگراچانک اسے اللہ کی یاد آتی ہے اور وہ گناہ سے باز آجاتا ہے ۔ (ابن تیمیہ:۳؍۲۳۹)
سوال: وہ کون لوگ ہیں کہ جب انہیں کوئی شیطانی وسوسہ اور خیال آلیتا ہے تو وہ چونک پڑتے ہیں اور پھر ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں؟

سورۃ الأعراف آیات 0 - 205

وَٱذۡكُر رَّبَّكَ فِي نَفۡسِكَ تَضَرُّعٗا وَخِيفَةٗ وَدُونَ ٱلۡجَهۡرِ مِنَ ٱلۡقَوۡلِ بِٱلۡغُدُوِّ وَٱلۡأٓصَالِ وَلَا تَكُن مِّنَ ٱلۡغَٰفِلِينَ ٢٠٥

یہ آیت میں ذکر کئے گئے چند اہم آداب ہیں جن کا لحاظ ویسے ہی رکھنا چاہئے جیسا کہ لحاظ رکھنے کا حق ہے ۔
آدابِ ذکر یہ ہیں: رات اور دن کی ہر گھڑی اور ہر وقت میں زیادہ سے زیادہ اللہ کا ذکر کیا جائے ۔خاص طور سے دن کے دونوں کنارے یعنی صبح اورشام کے وقت ۔ذکر اور دعاخلوص اورخشوع وخضوع کے ساتھ ہو (اس میں عاجزی ہو )اللہ کے سامنے لاچار اور بے کس بن کر ذلت وپستی اختیارکی جائے ۔ کوئی شور وغل نہ کرے بلکہ پرسکون اور خاموش رہے ۔ذکر اور دعا کرنے والے بندے کا دل اور اس کی زبان ایک دوسرے کے موافق اور ساتھ ساتھ ہوں ۔ادب واحترام اور وقار ہو ۔دعااور ذکرکی طرف پوری توجہ رہے ۔نیز اس کے ساتھ دل کو حاضر رکھے ۔اسے غافل نہ ہونے دے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ ایسی دعا کو قبول نہیں کرتا جسے مانگنے والا غافل اور بے پروا ہو ۔ (السعدی: ۳۱۴)
سوال: آیت نے ذکر اور دعا کے قبول ہونے کے اسباب میں سے ایک اہم سبب کی طرف رہنمائی کی ہے ،وہ اہم سبب کیا ہے؟