قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے



١٨٨ ١٨٨


ﭿ
١٨٩ ١٨٩


١٩٠ ١٩٠

١٩١ ١٩١
١٩٢ ١٩٢

١٩٣ ١٩٣


١٩٤ ١٩٤

ﯿ
١٩٥ ١٩٥
175
سورۃ الأعراف آیات 0 - 188

قُل لَّآ أَمۡلِكُ لِنَفۡسِي نَفۡعٗا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَآءَ ٱللَّهُۚ

(قل لا أملك لنفسي نفعًا) ) اے نبی(ﷺ)! آپ فرما دیجئے: میرا حال تو یہ ہے کہ خود اپنی جان کا نفع بھی اپنے قبضہ اور اختیار میں نہیں رکھتا۔
مطلب یہ ہے کہ کسی نفع کو اپنے لئے حاصل کرلینا میرے بس میں نہیں ہے کہ میں خود کوئی فائدہ اور نفع اٹھاسکوں۔ (ولا ضرًّا) یعنی: کسی نقصان اور تکلیف کو دور کرنے اور ہٹانے کی قدرت بھی میں نہیں رکھتا۔ (البغوی ۲؍ ۱۷۸)
سوال: جو شخص نبی ﷺ سے اپنی حاجتیں مانگتا ہے ۔آپ کس طرح اس کی اصلاح کریں گے؟

سورۃ الأعراف آیات 0 - 188

إِنۡ أَنَا۠ إِلَّا نَذِيرٞ وَبَشِيرٞ لِّقَوۡمٖ يُؤۡمِنُونَ ١٨٨

نبی ﷺ تمام لوگوں کو ڈرانے والے اور خوشخبری دینے والے تھے لیکن آیت میں خوشخبری اور ڈراوے کو صرف مومنوں کے لئے خاص کردیا گیا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ صرف مومن بندے ہی ہیں جو نبی ﷺ کے اس کام سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ (ابن جُزی: ۱؍ ۳۳۲)
سوال: خوشخبری دینے اور ڈرانے کے عمل کو اہلِ ایمان کے ساتھ خاص کرنے کی کیا وجہ ہے؟

سورۃ الأعراف آیات 0 - 190

فَلَمَّآ أَثۡقَلَت دَّعَوَا ٱللَّهَ رَبَّهُمَا لَئِنۡ ءَاتَيۡتَنَا صَٰلِحٗا لَّنَكُونَنَّ مِنَ ٱلشَّٰكِرِينَ ١٨٩ فَلَمَّآ ءَاتَىٰهُمَا صَٰلِحٗا جَعَلَا لَهُۥ شُرَكَآءَ فِيمَآ ءَاتَىٰهُمَاۚ

(فلما آتاهما صالحًا) پھر جب اللہ نے انہیں یعنی میاں بیوی کو تندرست اور صحیح سالم بیٹا دے دیا۔
مطلب: دونوں نے اللہ سے جیسی دعا مانگی تھی اللہ نے ویسی ہی اولاد دے دی اور اولاد کے بارے میں ان پر اپنی نعمت پوری کردی ،اس میں کوئی کمی اور کسر نہیں رکھی(جعلا له شركاء فيما آتاهما) تو جس بیٹے کو اللہ نے دیا تھا وہ دونوں اس میں دوسروں کو شریک بنانے لگے۔یعنی: اولادکو پیدا کرنے میں تو اللہ اکیلا ہے ،صرف اسی نے یہ نعمت عطا کی اوروہی ہے جس نے ماں باپ کی آنکھوں کو اس سے ٹھنڈک پہنچائی ۔اب جس اللہ عزوجل نے اکیلے یہ سب کچھ کیا اورنوازا ،اولاد مل جانے کے بعد یہ ماں باپ اسی کی نعمت اور نوازش میں دوسروں کو اس کا شریک بنانے لگے ۔وہ اس طرح کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو غیر اللہ کا بندہ بنادیا۔
دوسروں کا بندہ بنانے کی ایک شکل تو یہ ہے کہ انہوں نے غیر اللہ کی طرف عبد کی نسبت کرکے بیٹے کا نام رکھ دیا جیسے عبدالحارث یعنی حارث کا بندہ ، عبدالعزّٰی یعنی عُزّٰی کا بندہ ،عبدالکعبۃ یعنی کعبہ کا بندہ ۔اور اسی قسم کے دوسرے نام۔
یا پھر ماں باپ نے یہ کیا کہ: ان پر اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کا جو کچھ احسان وکرم کیا ،اتنی نعمتیں دیں جنہیں کوئی بندہ گن نہیں سکتا۔مگر اللہ کی طرف سے بے شمار نعمتیں مل جانے کے بعد والدین نے عبادت میں دوسروں کو شریک بنالیا۔ (السعدی: ۳۱۱)
سوال: اولاد اللہ کی نعمت ہے ۔اس نعمت کی ناشکری اور ناقدری کی دوشکلیں بتائیے.

سورۃ الأعراف آیات 0 - 190

فَلَمَّآ أَثۡقَلَت دَّعَوَا ٱللَّهَ رَبَّهُمَا لَئِنۡ ءَاتَيۡتَنَا صَٰلِحٗا لَّنَكُونَنَّ مِنَ ٱلشَّٰكِرِينَ ١٨٩ فَلَمَّآ ءَاتَىٰهُمَا صَٰلِحٗا جَعَلَا لَهُۥ شُرَكَآءَ فِيمَآ ءَاتَىٰهُمَاۚ

پھر اللہ تعالیٰ نے ماں کے پیٹ میں ایک مقرر مدت کے دوران اولاد کو وجود بخشا ۔اس مدت میں ان کے دل بڑی امید اور آس لگائے رہے اور دعا کرتے رہے کہ اللہ تعالیٰ بچے کو ماں کے پیٹ سے درست،تندرست اور صحیح سالم حالت میں نکالے ۔ چنانچہ اللہ نے ان پر اپنی نعمت پوری کردی اور ان کی جو چاہت تھی اسے ان کے دامن میں ڈال دیا اور ان کی مراد پوری کردی۔ تو کیا ربِّ تعالیٰ اس بات کا حق نہیں رکھتا کہ لوگ اسی کی عبادت کریں ، اس کی عبادت میں کسی کو بھی شریک نہ ٹھہرائیں اور دین یعنی بندگی کو اسی کے لئے خاص کریں لیکن معاملہ اور لوگوں کی حالت اس کے بالکل الٹ ہے کہ لوگوں نے اللہ کے شریک بنائے اور وہ بھی کن کو شریک بنایا؟ان کو (ما لا يخلق شيئًا وهم يخلقون ) جن کا کسی چیز کو پیدا کرنا تودرکنار وہ تو خود پیدا کئے ہوئے ہیں!وہ نہ تو اُن کی مدد کرسکتے ہیں جو اُن کی عبادت کرتے ہیں ،ان سے دعائیں مانگتے ہیں اور نہ ہی اپنی مدد کرسکتے ہیں (ولا يستطيعون لهم نصرًا ولا أنفسهم ينصرون).(السعدی: ۳۱۱)
سوال: آیتِ کریمہ کی روشنی میں مشرکوں کی جہالت اور ان کےکفر کی مثال بیان کیجئے.

سورۃ الأعراف آیات 0 - 195

أَلَهُمۡ أَرۡجُلٞ يَمۡشُونَ بِهَآۖ أَمۡ لَهُمۡ أَيۡدٖ يَبۡطِشُونَ بِهَآۖ أَمۡ لَهُمۡ أَعۡيُنٞ يُبۡصِرُونَ بِهَآۖ أَمۡ لَهُمۡ ءَاذَانٞ يَسۡمَعُونَ بِهَاۗ قُلِ ٱدۡعُواْ شُرَكَآءَكُمۡ ثُمَّ كِيدُونِ فَلَا تُنظِرُونِ ١٩٥

پھر اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کو ڈانٹتے اور پھٹکارتے ہوئے بتایا کہ ان کی عقل اور مت ماری گئی ہے اور بہت بڑی بیوقوفی میں مبتلا ہیں چنانچہ فرمایا: (ألهم أرجل يمشون بها أم لهم أيد يبطشون بها أم لهم أعين يبصرون بها أم لهم آذان يسمعون بها) کیا ان مورتیوں کے پاؤں ہیں جن سے چلتے ہوں؟ یا ان کے ہاتھ ہیں جن سے پکڑتے ہوں؟یا ان کی آنکھیں ہیں جن سے دیکھتے ہوں؟یا ان کے کان ہیں جن سے سنتے ہوں؟یعنی: تم ان بتوں اور مورتیوں سے بہتر وافضل ہو۔پھر تم کیسے ان کو پوج رہے ہو؟کس بناپر ان کی عبادت کرتے ہو؟آیت کا مقصد مشرکین کی جہالت اور نادانی بیان کرنا ہے ۔ (القرطبی: ۹؍۴۱۶)
سوال: اس آیت کے تحت بتائیے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم مسلمانوں کومشرکین پر کس چیز کے ذریعہ فضیلت وبرتری عطا کی ہے؟

سورۃ الأعراف آیات 0 - 195

أَلَهُمۡ أَرۡجُلٞ يَمۡشُونَ بِهَآۖ أَمۡ لَهُمۡ أَيۡدٖ يَبۡطِشُونَ بِهَآۖ أَمۡ لَهُمۡ أَعۡيُنٞ يُبۡصِرُونَ بِهَآۖ أَمۡ لَهُمۡ ءَاذَانٞ يَسۡمَعُونَ بِهَاۗ قُلِ ٱدۡعُواْ شُرَكَآءَكُمۡ ثُمَّ كِيدُونِ فَلَا تُنظِرُونِ ١٩٥

آیت میں جسم کے دوسرے اعضاء کو چھوڑکر خاص طور سے پیروں ،ہاتھوں ،آنکھوں اور کانوں کا ذکر کیا گیا ہے ،اس کی وجہ یہ ہے کہ جسم کے یہی اعضاء ہیں جو علم سیکھنے ،سکھانے ،زندگی کی ضرورتوں میں دوڑدھوپ کرنے ،تکلیف میں مدد اور مقابلے میں بچاؤ کرنے کے آلات اور ذرائع ہیں ۔ (ابن عاشور: ۹؍۲۲۲)
سوال: آیت کریمہ میں صرف پیروں،ہاتھوں ،آنکھوں اور کانوں کو خاص طور سے کیوں ذکر کیا گیا ہے؟

سورۃ الأعراف آیات 0 - 195

قُلِ ٱدۡعُواْ شُرَكَآءَكُمۡ ثُمَّ كِيدُونِ فَلَا تُنظِرُونِ ١٩٥

آیت کا مطلب ہے کہ مجھے نقصان پہنچانے کے لئے اور میرے خلاف چال چلنے کے لئے تم لوگ اپنے بتوں اور معبودوں کو مدد کے لئے بلالو اور میرا جو کچھ بگاڑسکتے ہو بگاڑ لو۔ اور اس کام میں دیر کرکے مجھے مہلت مت دو۔ کیونکہ سچ اور حق بات تو یہ ہے کہ تم اور تمہارے بت اور معبود مل کر بھی میرا بال بیکا نہیں کرسکتے۔ تم میں اور ان میں مجھے نقصان پہنچانے کی قدرت ہے ہی نہیں ۔
آیت کریمہ کا مقصد مشرکین کی تردید کرنا، انہیں غلط ثابت کرنا ہے کہ مشرکین کے بنائے ہوئے معبود عاجز اور بے بس ہیں ،ان کے اندر کسی کو نقصان پہنچانے کی کوئی قدرت نہیں ہے ۔
آیت میں اس بات کی طرف اشارہ بھی ہے کہ بندوں کو صرف اللہ پر بھروسہ اور اعتماد رکھنا چاہئے ،صرف اسی اکیلے کو سہارا اور آسرا بنانا چاہئے کیونکہ اس کے علاوہ کسی کے پاس کسی چیز کی قدرت وطاقت نہیں ہے ۔ (ابن جُزی: ۱؍ ۳۳۳)
سوال:ایسا کام جسے کرنے کی قدرت اللہ کے علاوہ کسی میں نہیں۔ اس میں اللہ کے علاوہ دوسرے سے دعا مانگنا اور فریاد کرناغلط ہے۔ اس کے باطل ہونے کی کیا علامت ہے؟