قرآن
ﮓ
ﱁ
ﭙ ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ١٤٤ ١٤٤ ﭠ
ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ
ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ
ﭳ ﭴ ١٤٥ ١٤٥ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ
ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ
ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ
ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ
ﮘ ﮙ ﮚ ١٤٦ ١٤٦ ﮜ ﮝ ﮞ
ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ
ﮩ ١٤٧ ١٤٧ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ
ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ
ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ١٤٨ ١٤٨
ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ
ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ١٤٩ ١٤٩
قَالَ يَٰمُوسَىٰٓ إِنِّي ٱصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى ٱلنَّاسِ
آیت میں اللہ تعالیٰ بیان فرمارہا ہے کہ اس نے موسیٰ علیہ السلام کومخاطب فرمایاکہ : اس نے انہیں ان کے زمانے کے لوگوں میں اپنی رسالت وپیغمبری اور اپنی راست گفتگوکے لئے چن لیا تھا اور اس میں کوئی شک نہیں کہ محمد ﷺ اگلی پچھلی تمام اولادِ آدم کے سردار ہیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو یہ اعزازاور خصوصیت عطا فرمائی کہ آپ کو خاتم الانبیاء والمرسلین یعنی آخری نبی بنایا ، جن کی شریعت قیامت تک جاری رہے گی اور ان کے متبعین تمام انبیاء علیہم السلام کے متبعین سے زیادہ تعداد میں ہوں گے ۔ (ابن کثیر: ۲؍ ۲۳۶)
سوال: کیا آیت موسیٰ علیہ السلام کو ہمارے نبی ﷺ سے زیادہ فضیلت والا بتاتی ہے؟
قَالَ يَٰمُوسَىٰٓ إِنِّي ٱصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى ٱلنَّاسِ بِرِسَٰلَٰتِي وَبِكَلَٰمِي
موسیٰ علیہ السلام کوجب اللہ تعالیٰ نے اپنے دیدار سے محروم رکھا(کہ تم ابھی دنیا میں اپنے وجود اور نظرکی کمزوری کی وجہ سے دیدارِ الٰہی کی طاقت نہیں رکھتے ۔ جب پہاڑ رب کی تجلی کی تاب نہیں لاسکتا تو آپ اس سے بھی کمزور ہیں ۔ اس طرح موسیٰ علیہ السلام کی طلب پوری نہیں ہوئی)۔جبکہ موسیٰ علیہ السلام اس کے مشتاق اور خواہش مند تھے ۔تو اللہ تعالیٰ نے انہیں بہت سی بھلائیوں اور فضیلتوں سے نواز دیا ۔ (السعدی: ۳۰۲)
سوال: “اللہ تعالیٰ جب اپنے کسی سچے بندے کو ایک خیر سے محروم رکھتا ہے تو اس کے بدلے میں دوسرا خیر عطا کردیتاہے” ۔اس آیت سے یہ قاعدہ آپ کس طرح نکالیں گے؟
فَخُذۡهَا بِقُوَّةٖ وَأۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَأۡخُذُواْ بِأَحۡسَنِهَاۚ سَأُوْرِيكُمۡ دَارَ ٱلۡفَٰسِقِينَ ١٤٥
انہیں مضبوطی سے پکڑ لو۔یعنی: پوری کوشش اورمحنت کے ساتھ ان پرعمل کرو۔اس کایہ معنی بھی بیان کیا گیا ہے کہ دل کی مضبوطی اورصحیح عزم وارادے کے ساتھ پکڑ لو اس لئے کہ اللہ کے احکام کو اگر کمزور نیت کے ساتھ عمل میں لایا جائیگا تو اس کے نتیجے میں عمل بھی کمزور اور ناقص ہوجائیگا۔ (البغوی: ۲؍ ۱۵۲)
سوال: اللہ کی وحی کو لینے اوراس پر عمل کرنے کے تعلق سے ہمیں کس بات کا حکم دیا گیا ہے؟
فَخُذۡهَا بِقُوَّةٖ وَأۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَأۡخُذُواْ بِأَحۡسَنِهَاۚ سَأُوْرِيكُمۡ دَارَ ٱلۡفَٰسِقِينَ ١٤٥
یہ فرمان: “اللہ کے احکامات میں جو احسن یعنی زیادہ اچھا ہے اس پر عمل کرو”۔ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو بھی شریعت اور احکام اتارے ہیں ان میں کچھ احکامات بہتر اور اچھے ہیں اور دوسرے بہترین اور بہت اچھے ہیں ۔ (ابن تیمیہ: ۳؍۱۹۸)
سوال: وحی الٰہی کی پیروی کرتے ہوئے اللہ کا تقرب حاصل کرنے کے مختلف درجات ہیں ۔ آیت کریمہ کی مدد سے اس بات کی وضاحت کیجئے.
سَأَصۡرِفُ عَنۡ ءَايَٰتِيَ ٱلَّذِينَ يَتَكَبَّرُونَ فِي ٱلۡأَرۡضِ بِغَيۡرِ ٱلۡحَقِّ وَإِن يَرَوۡاْ كُلَّ ءَايَةٖ لَّا يُؤۡمِنُواْ بِهَا وَإِن يَرَوۡاْ سَبِيلَ ٱلرُّشۡدِ لَا يَتَّخِذُوهُ سَبِيلٗا وَإِن يَرَوۡاْ سَبِيلَ ٱلۡغَيِّ يَتَّخِذُوهُ سَبِيلٗاۚ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:“آیت میں اللہ کی مراد یہ ہے کہ: جو لوگ میرے بندوں پر سرکشی کرتے ہیں اور ا ن سے ناحق غرور وتکبر سے پیش آتے ہیں ،نیز میرے اولیاء یعنی مومنوں سے لڑتے ہیں تاکہ وہ مجھ پر ایمان لانے سے باز آجائیں ” تو اللہ تعالیٰ یہ بتارہا ہے کہ ان لوگوں کو میں اپنی آیتوں کو قبول کرنے سے اور انہیں ماننے سے پھیر دوں گا ۔حق کی مخالفت کرنے اور دشمنی رکھنے کی وجہ سے انہیں ہدایت سے محرومی کی سزادی گئی ۔جیسا کہ یہی بات اللہ کے اس فرمان میں ہے :﴿فَلَمَّا زَاغُوٓاْ أَزَاغَ ٱللَّهُ قُلُوبَهُمۡ﴾ [الصف: 5] سوجب انہوں نے کجروی اور ٹیڑھاپن اختیار کیا تو اللہ نے ان کے دلوں کو اور ٹیڑھا کر دیا۔ (البغوی: ۲؍ ۱۵۲)
سوال: سرکش اور متکبر لوگوں کی سب سے سخت سزا کیا ہے؟
سَأَصۡرِفُ عَنۡ ءَايَٰتِيَ ٱلَّذِينَ يَتَكَبَّرُونَ فِي ٱلۡأَرۡضِ بِغَيۡرِ ٱلۡحَقِّ
بعض سلف کا قول ہے کہ : شرمانے اور اکڑنے والا علم کی دولت نہیں پاتا۔
سلف میں سے کسی اور کا قول ہے کہ :“جو شخص چند لمحات کے لئے سیکھنے کی ذلت اٹھانے کو برداشت نہیں کرتا ،وہ ہمیشہ کے لئے جہالت کی ذلت میں پڑا رہتا ہے ’’۔ (ابن کثیر: ۲؍ ۲۳۷)
سوال: آیت میں طالب علم سے متعلق چندآداب کا تذکرہ ہے ۔ان میں سے کچھ کو بیان کیجئے.
سَأَصۡرِفُ عَنۡ ءَايَٰتِيَ ٱلَّذِينَ يَتَكَبَّرُونَ فِي ٱلۡأَرۡضِ بِغَيۡرِ ٱلۡحَقِّ
قرآن مجیدمیں ظاہری طور پر اللہ کا کلام لکھاہوا ہوتا ہے ۔جب اسے صرف وہی بدن چھوسکتے ہیں جو پاک وصاف ہو ں تو ان الفاظ کے معنی اور مطالب جو قرآن کا باطن ہے اسے صرف پاکباز دل ہی چھوسکتے ہیں ۔ رہے گندے اور ناپاک دل تو وہ قرآن کے حقائق اور مطالب کو نہیں سمجھ پاتے۔اوریہ بالکل صحیح ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشا د ہے: (سأصرف عن آياتي الذين يتكبرون في الأرض بغير الحق) جو لوگ ناحق زمین میں اکڑتے اتراتے ہیں ،انہیں میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا۔
بعض سلف نے آیت کایہ مطلب بیان کیا ہے : اللہ تعالیٰ فرمارہا ہے کہ:میں ایسے لوگوں کو قرآن کی فہم وسمجھ سے محروم کردوں گا۔ (ابن تیمیہ: ۳؍ ۱۹۸)
سوال:تکبر کا ایک خطرناک پہلو یہ ہے کہ یہ قرآن کریم کو سمجھنے سے محروم کردیتا ہے ۔ اس بات کو بیان کیجئے.