قرآن
ﮓ
ﱁ
ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ
ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ
١٢٣ ١٢٣ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ
ﭷ ١٢٤ ١٢٤ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ١٢٥ ١٢٥ ﭿ ﮀ ﮁ
ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ
ﮎ ﮏ ١٢٦ ١٢٦ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ
ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ
ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ١٢٧ ١٢٧
ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ
ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ١٢٨ ١٢٨
ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ
ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ
ﯰ ﯱ ﯲ ١٢٩ ١٢٩ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ
ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ١٣٠ ١٣٠
إِنَّ هَٰذَا لَمَكۡرٞ مَّكَرۡتُمُوهُ فِي ٱلۡمَدِينَةِ
سچ تو یہی تھا کہ موسیٰ علیہ السلام ان جادوگروں میں سے کسی کو جانتے پہچانتے نہیں تھے ،نہ ان میں سے کسی کو دیکھا تھا اور نہ ہی کسی سے ملے تھے ۔اس حقیقت کو فرعون بھی اچھی طرح جانتا تھا پھر بھی یہ بات کہی کہ ‘‘ یہ ایک سازش ہے جسے تم لوگوں نے مل جل کررچا اور شہر میں انجام دیا”۔اس بات کو کہنے سے فرعون کا منشا یہی تھا کہ سچائی پر پردہ ڈال دے اور اپنی سلطنت کے بے وقوف لوگوں اور جاہلوں کو دھوکے اور فریب میں ڈال دے ،جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿فَٱسۡتَخَفَّ قَوۡمَهُۥ فَأَطَاعُوهُ﴾ [الزخرف: 54]اس طرح اس نے اپنی قو م کو الو بنا لیااور وہ اس کی بات مان گئے ۔کیونکہ جس قوم نے فرعون کی یہ بات مان لی:﴿فَقَالَ أَنَا۠ رَبُّكُمُ ٱلۡأَعۡلَىٰ﴾ [النازعات: 24] فرعون نے– کہا : میں ہی تمہارا سب سے بڑا اور برتر رب ہوں۔ یقیناًانسانوں میں اس قوم سے زیادہ جاہل اور بہکا ہوا گمراہ کوئی نہیں ہوسکتا۔ (ابن کثیر: ۲؍۲۲۸)
سوال: فرعون نے کہا: (إِنَّ هَٰذَا لَمَكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوهُ فِي ٱلۡمَدِينَةِ)“یہ تم لوگوں کی چال اور سازش ہے جو تم لوگوں نے شہر میں کی ہے”۔اس بات کو کہنے سے اس کا کیا مقصدتھا؟
قَالُوٓاْ إِنَّآ إِلَىٰ رَبِّنَا مُنقَلِبُونَ ١٢٥
اللہ کا عذاب،تیرے عذاب سے بہت زیادہ سخت ہے اور آج تو ہمیں جس چیز کی طرف بلارہا ہے اور زبردستی ہم سے جادوکا جو عمل کروایا ہے ‘اس پر اللہ کی عبرتناک سزا تیری سزا سے بہت زیادہ بڑی اور بھاری ہے لہذا ہم آج تیرے عذاب کو برداشت کرلیں گے تاکہ اللہ کے عذاب سے بچ جائیں۔ (ابن کثیر: ۲؍ ۲۲۸)
سوال: کس قسم کے تقابلی نتیجے سے جادوگروں کو ایمان قبول کرنے اور اللہ کے دین پر جمے رہنے کی ہمت ملی؟
وَمَا تَنقِمُ مِنَّآ إِلَّآ أَنۡ ءَامَنَّا بِـَٔايَٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَاۚ
عطاء رحمہ اللہ نے آیت میں ایمان لے آنے والے جادوگروں کے قول کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا کہ: (اے فرعون!)تیرے پاس ہمارا کوئی قصور اور گناہ نہیں ہے جس کی تو ہمیں سزا دے (إلا أن آمنا بآيات ربنا) سوائے اس کے کہ ہم اپنے رب کی نشانیوں پر ایمان لائے ہیں۔ (البغوی: ۲؍۱۳۸)
سوال: کس گناہ کے بدلے متکبر وسرکش لوگ ایمان والوں سے دشمنی رکھتے ہیں؟
رَبَّنَآ أَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرٗا
یعنی“عظیم صبر” ۔ جیسا کہ صبرکے لفظ کو نکِرہ لانے سے معلوم ہوتا ہے ۔ (نکرہ :اسم عام کو کہتے ہیں ۔عربی گرامر کے مطابق آیت کے سیاق میں “صبرا” کے نکرہ استعمال ہونے سے اس میں ‘‘بڑا ہونے” کا معنی آجاتا ہے۔) کیونکہ یہ بہت بڑی آزمائش اور کڑا امتحان تھا جس کا نتیجہ اور انجام تھا جان سے ہاتھ دھو بیٹھنا۔ اس لئے ایسے کڑے حالات میں بہت زیادہ صبر وضبط کی ضرورت تھی تاکہ دل مضبوط ہو،مومن اپنے ایمان پر مطمئن رہے اور اس کے دل ودماغ سے بے چینی اور گھبراہٹ ختم ہوجائے ۔ (السعدی: ۳۰۰)
سوال: جادوگروں نے ایمان لانے کے بعد اللہ سے یہ دعا کیوں مانگی کہ ہم پر صبر کا فیضان فرما؟
رَبَّنَآ أَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرٗا وَتَوَفَّنَا مُسۡلِمِينَ ١٢٦
فرعون ہمیں جس سزا سے دھمکارہا ہے ( رب !) تو اسے برداشت کرلینے اور جھیل لینے کی ہمیں طاقت دے۔چونکہ فرعون کی دھمکی ایسی تھی جسے برداشت کرنا انسانوں کے بس سے باہر تھا ۔اس لئے نومسلم جادوگروں نے اللہ سے یہ دعا مانگی کہ ان کے دلوں میں خوب صبر پیدا کردے۔جو عام طور پر پائے جانے والے صبر سے اونچے درجہ کاہو اور لوگوں میں جانے پہچانے معمول کے صبر سے بڑھ کر ہو ۔ اس لئے کہ ‘‘اِفرَاغ” (جس کا فعلِ امردُعا “أَفْرِغْ” آیت میں استعمال ہوا ہے ) کا معنی ہوتا ہے کہ برتن میں جو کچھ ہے سب کا سب انڈیل دینا۔ ان نومسلم جادوگروں نے اپنے لئے اسلام کی حالت میں وفات پانے کی دعا بھی کی ۔یہ دعا اس بات کا کھلا اظہار کررہی تھی اوراطلاع دے رہی تھی کہ اب وہ دنیا کی زندگی میں کوئی رغبت اور دلچسپی رکھتے ہیں اور نہ فرعون کی دھمکیوں کی پرواہ ہے اور ان کی خواہش ومقصد اس امید کے سوا کچھ نہیں کہ آخرت میں نجات مل جائے اور اللہ کے پاس موجود انعامات پاکر کامیاب ہوجائیں ۔نومسلم جادوگروں کے اس عزم وہمت کو دیکھ کر فرعون کوناکامی ونامرادی کا سامنا کرنا پڑااور اس کی دھمکی بے کار اوربے اثر گئی ۔ (ابن عاشور: ۹؍۵۶)
سوال: جب ایمان دل میں پیوست ہوجاتا ہے تو آخرت دنیا سے اہم ہوجاتی ہے آیت کی روشنی میں اس کی وضاحت کیجئے؟
قَالَ عَسَىٰ رَبُّكُمۡ أَن يُهۡلِكَ عَدُوَّكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَيَنظُرَ كَيۡفَ تَعۡمَلُونَ ١٢٩
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہاں (عَسَىٰ) فعلِ رجاء (جس کا معنی ہے :امید کرنا،قریب ہونا) استعمال کیا ہے ۔ جزم ویقین کا معنی دینے والافعل استعمال نہیں کیا ۔اس کا مقصد اللہ کے سامنے ادب وتہذیب اپنانا تھا ۔ساتھ ہی یہ مقصد بھی تھا کہ لوگوں کو اس بات سے بچایاجائے کہ وہ اپنے اعمال پر ہی بھروسہ نہ کرلیں تاکہ وہ نیکی اور تقوے میں آگے بڑھتے رہیں اور اللہ کی رضامندی اور مدد حاصل کرنے کی کوششوں میں لگے رہیں ۔ (ابن عاشور: ۹؍۶۲)
سوال: موسیٰ علیہ السلام نے آیت کریمہ کے بیان میں یقین کی بجائے امید اور رجاء کے فعل “عَسَىٰ” کو کیوں اختیار کیا؟
وَلَقَدۡ أَخَذۡنَآ ءَالَ فِرۡعَوۡنَ بِٱلسِّنِينَ وَنَقۡصٖ مِّنَ ٱلثَّمَرَٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّرُونَ ١٣٠
(بِٱلسِّنِينَ) یعنی خشک سالی،سوکھے اور قحط میں ۔اہل عرب کہتے ہیں: “مَسَّتْہُمُ السَّنَۃُ” انہیں سال لاحق ہوا، یا سال نے پکڑ لیاتو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ : وہ خشک سالی میں اور تنگی وسختی والے سال میں مبتلا ہوگئے ۔
ایک قول یہ بھی ہے کہ : (بِٱلسِّنِينَ) سے مراد ہے ایک سال کے بعد دوسرے سال مسلسل کئی برسوں کی قحط سالیاں او ر مختلف آفتو ں اور بلاؤں کے ذریعہ غلوں اور پیداوار کو تباہ کرکے پھلوں اور فصلوں میں نقصان اور کمی کے شکار ہوگئے ۔
قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ : “رہی قحط سالیاں تو یہ دیہاتوں میں رہنے والوں کے لئے تھیں اور جہاں تک پھلوں میں کمی کا تعلق ہے تو وہ شہروں میں بسنے والوں کے لئے تھی۔
(لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّرُونَ) تاکہ وہ سبق حاصل کریں۔ یہ اس لئے کہ سختی اور تنگی دلوں کو نرم کرتی ہے اور اللہ عزوجل کے دامن رحمت میں موجود نعمتوں کا شوق اور چاہت پیدا کرتی ہے۔ (البغوی: ۲؍ ۱۳۹)
سوال:بندوں پر مصیبتوں اورسختیوں کے آنے کی کیا حکمت ہے؟