قرآن
ﮓ
ﱀ
ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ
ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ
ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ
٦٩ ٦٩ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ
ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ٧٠ ٧٠
ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ
ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ
ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ
ﮣ ٧١ ٧١ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ
ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ
٧٢ ٧٢ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ
ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ
ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ
ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ٧٣ ٧٣
أُبَلِّغُكُمۡ رِسَٰلَٰتِ رَبِّي وَأَنَا۠ لَكُمۡ نَاصِحٌ أَمِينٌ ٦٨
یہ وہ صفات ہیں جن سے اللہ کے رسول وپیغمبر متصف ہوتے ہیں: پیغام رسانی، خیر خواہی، اور امانت داری ۔ (ابن کثیر: ۲؍ ۲۱۵)
سوال: وہ کون سی صفات ہیں جن سے ایک داعی کو اپنی دعوت کے کام میں آراستہ ہونا ضروری ہے ؟
وَٱذۡكُرُوٓاْ إِذۡ جَعَلَكُمۡ خُلَفَآءَ مِنۢ بَعۡدِ قَوۡمِ نُوحٖ وَزَادَكُمۡ فِي ٱلۡخَلۡقِ بَصۜۡطَةٗۖ فَٱذۡكُرُوٓاْ ءَالَآءَ ٱللَّهِ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ ٦٩
حضرت ہود علیہ السلام نے اپنی قوم کو پہلے توحید کی دعوت دی ،پھر ان پر اللہ کی نعمتوں کی یاد دہانی کی طرف منتقل ہوئے ۔ جن کے بارے میں وہ انکار نہیں کرسکتے تھے، بلکہ اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ نعمتیں صرف اللہ کی طرف سے ملی ہیں ،کیونکہ پیدا کرنا،اور حکم دینا دونوں صفتیں اسی اللہ کے لئے خاص ہیں کسی اور کے لئے نہیں ہیں۔اس یاد دہانی کا بنیادی مقصد انہیں اس نتیجہ تک پہنچانا تھا کہ وہ عبادت میں اللہ کو اکیلا جانیں ،توحید اختیار کریں۔ (ابن عاشور: ۸؍۲۰۴)
سوال: توحید کا حکم دینے کے فوری بعدنعمتوں کی یاد دہانی کیوں کرائی گئی؟
وَٱذۡكُرُوٓاْ إِذۡ جَعَلَكُمۡ خُلَفَآءَ مِنۢ بَعۡدِ قَوۡمِ نُوحٖ وَزَادَكُمۡ فِي ٱلۡخَلۡقِ بَصۜۡطَةٗۖ فَٱذۡكُرُوٓاْ ءَالَآءَ ٱللَّهِ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ ٦٩
اس یاد دہانی میں نعمت کے تعلق سے صاف صاف بتانا اور دھمکی اور ڈراوے کی جانب اشارہ کرنا ہے کہ اللہ کے عذاب نے نوح علیہ السلام کی قوم کو شرک کرنے کی وجہ سے نیست ونابود اور ہلاک وبرباد کردیا ۔لہٰذا جواُن کی اس حرکت اورکرتوت میں ان کے نقشِ قدم پر چلے گاتو قریب ہے کہ اس پر بھی
عذاب الٰہی نازل ہوجائے ۔ (ابن عاشور: ۸؍۲۰۵)
سوال: آیت کے تناظر میں اس بات کو واضح کیجئے کہ کیاکسی پورے سماج اور معاشرے کو کلی طور پرعذاب دیا جانا ممکن ہے ؟
وَٱذۡكُرُوٓاْ إِذۡ جَعَلَكُمۡ خُلَفَآءَ مِنۢ بَعۡدِ قَوۡمِ نُوحٖ
اور اللہ نے تمہیں ہلاک ہونے والی قوموں کا جانشین بنایا ،جنہوں نے رسولوں کو جھٹلایا تھا۔ اسی کے پاداش میں اللہ نے انہیں صفحۂ ہستی سے مٹادیا اور تمہیں باقی رکھا۔ تاکہ وہ تمہیں دیکھے اور آزمائے کہ تم کیسا عمل کرتے ہو؟اور دیکھواس بات سے بچتے رہنا کہ تم بھی ان لوگوں کی طرح حق کو جھٹلانے پر اڑے اور ڈٹے رہو۔ ورنہ تمہارا بھی وہی انجام ہوگا جو ان کا انجام ہوا۔ (السعدی: ۲۹۴)
سوال: حضرت ہود علیہ السلام نے اپنی قوم سے قوم نوح کا ذکر کیوں کیا؟
قَالُوٓاْ أَجِئۡتَنَا لِنَعۡبُدَ ٱللَّهَ وَحۡدَهُۥ وَنَذَرَ مَا كَانَ يَعۡبُدُ ءَابَآؤُنَا فَأۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّٰدِقِينَ ٧٠
اللہ ان کا برا کرے کہ انہوں نے سب سے بڑی واجب چیز اور سب سے زیادہ کامل چیز یعنی توحید کوایسے امورمیں شمار کیا جن کے ذریعہ ان کے باپ دادا کے رسم ورواج کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا،چنانچہ رسولوں کی دعوت یعنی اللہ وحدہ لاشریک کی توحید کے مقابل،حق سے بھٹکے ہوئے باپ دادا کے طورطریقے یعنی شرک اور بت پرستی کو ترجیح دی۔ اپنے نبی کو جھٹلایا، اور ان کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ اور یہاں تک جسارت کرڈالی کہ اپنے نبی سے کہا: (فَأۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّٰدِقِينَ) اگرتم سچے ہو تو وہ ۔عذاب۔ جس کی ہمیں دھمکی دے رہے ہو اسے لاکر دکھاؤ۔ (السعدی: ۲۹۴)
سوال: جب قوم کی سوچ سمجھ اور رسم ورواج اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی شریعت سے ٹکراتے ہوں تو ایسے میں ایک بندۂ مومن کا موقف اور طریقہ کیا ہوتا ہے؟
قَالَ قَدۡ وَقَعَ عَلَيۡكُم مِّن رَّبِّكُمۡ رِجۡسٞ وَغَضَبٌۖ أَتُجَٰدِلُونَنِي فِيٓ أَسۡمَآءٖ سَمَّيۡتُمُوهَآ أَنتُمۡ وَءَابَآؤُكُم مَّا نَزَّلَ ٱللَّهُ بِهَا مِن سُلۡطَٰنٖۚ
(قَدۡ وَقَعَ عَلَيۡكُم مِّن رَّبِّكُمۡ رِجۡسٞ وَغَضَبٌۖ) یقیناًتمہارے رب کی طرف سے تم پر عذاب اور غضب واقع ہوچکا ہے ۔
یعنی عذاب کا واقع ہونا اٹل ہے ۔ اس لئے کہ عذاب کے اسباب فراہم ہوچکے ہیں اور ہلاکت کا وقت بھی آپہنچا ہے ۔
(أَتُجَٰدِلُونَنِي فِيٓ أَسۡمَآءٖ سَمَّيۡتُمُوهَآ أَنتُمۡ وَءَابَآؤُكُم) کیا تم مجھ سے ایسے ناموں کے بارے میں جھگڑ رہے ہو جو تم نے اور تمہارے آباء واجداد نے -اپنے جی سے-رکھ لئے ہیں؟ یعنی تم کس طرح ایسی چیزوں کے تعلق سے مجھ سے جھگڑا کررہے ہو جن کی کوئی حقیقت ہی نہیں ہے ؟ اور ایسے بتوں کے بارے میں کیسے تکرار کر رہے ہوجنہیں تم لوگوں نے-اپنی طرف سے -معبود اور الٰہ کا نام دے دیا ہے ؟حالانکہ ان کے اندر الوہیت یعنی معبود ہونے کی کوئی بھی بات اور کچھ بھی خصوصیت نہیں ،ذرہ برابر بھی نہیں ۔ (السعدی: ۲۹۴)
سوال: حضرت ہود علیہ السلام قوم سے یہ بات کیسے کہہ رہے تھے کہ ان پر عذاب واقع ہوچکا۔جبکہ اس وقت تک عذاب واقع نہیں ہوا تھا؟
قَدۡ جَآءَتۡكُم بَيِّنَةٞ مِّن رَّبِّكُمۡۖ هَٰذِهِۦ نَاقَةُ ٱللَّهِ لَكُمۡ ءَايَةٗۖ فَذَرُوهَا تَأۡكُلۡ فِيٓ أَرۡضِ ٱللَّهِۖ وَلَا تَمَسُّوهَا بِسُوٓءٖ فَيَأۡخُذَكُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ ٧٣
(بَيِّنَةٞ مِّن رَّبِّكُمۡۖ) تمہارے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل اور معجزہ۔ اور اس نشانی اور معجزے سے مراد اونٹنی ہے ۔
اس اونٹنی کی اونچی شان اور شرف بیان کرنے کے لئے اسے اللہ کی طرف نسبت دی گئی ۔(یعنی نَاقَةُ اللّٰهِ“اللہ کی اونٹنی” کہا گیا۔) یا یہ نسبت اس لئے کی گئی کہ اللہ نے اسے بغیر نرومادہ کے ملاپ کے پیدا کیا۔
دراصل قوم کے لوگوں نے خود حضرت صالح علیہ السلام سے یہ خواہش اور یہ مطالبہ کیا تھا کہ وہ ان کے لئے پتھر کی چٹان سے اس اونٹنی کو نکالیں، اور یہ عہد وپیمان کیا تھا کہ اگر وہ ایسا کر دکھائیں گے تو وہ لوگ ان کی نبوت کو تسلیم کرکے ان پر ایمان لے آئیں گے ۔ تب پتھر کی چٹان پھٹ پڑی اور ان کی نگاہوں کے سامنے اس سے اونٹنی نکل آئی۔پھر اس اونٹنی نے ایک بچے کو جنم دیا۔اس واضح دلیل اور معجزے کو دیکھ کر قوم کے کچھ لوگ حضرت صالح علیہ السلام پر ایمان لے آئے، جبکہ دوسرے لوگوں نے کفر اور انکار کیا۔ (ابن جُزی: ۱؍ ۳۶۰)
سوال:اللہ نے جس کے حصے میں ہدایت نہیں لکھی ہے ،وہ بحث وتکرارکے ذریعہ سامنے والے کو صرف عاجز اور بے بس کرنا چاہتا ہے اور کچھ نہیں ۔ اس بات کو اس آیت کی مدد سے واضح کیجئے.