قرآن
ﮓ
ﱀ
ﭠ ﭡ ﭢ ١٢ ١٢ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ
ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ١٣ ١٣ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ
١٤ ١٤ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ١٥ ١٥ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ
ﮂ ﮃ ١٦ ١٦ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ
ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ١٧ ١٧ ﮖ
ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ
ﮢ ١٨ ١٨ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ
ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ١٩ ١٩ ﯖ
ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ
ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ
ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ٢٠ ٢٠ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ٢١ ٢١
ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ
ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ ﰈ ﰉ ﰊ
ﰋ ﰌ ﰍ ﰎ ﰏ ﰐ ﰑ ﰒ ﰓ ٢٢ ٢٢
قَالَ مَا مَنَعَكَ أَلَّا تَسۡجُدَ إِذۡ أَمَرۡتُكَۖ قَالَ أَنَا۠ خَيۡرٞ مِّنۡهُ خَلَقۡتَنِي مِن نَّارٖ وَخَلَقۡتَهُۥ مِن طِينٖ ١٢
(قَالَ أَنَا۠ خَيۡرٞ مِّنۡهُ) ابلیس نے کہا:میں آدم سے بہتر ہوں۔ یہ وہ علت و سبب ہے،جسے ابلیس نے سجدہ نہ کرنے کی بنیاد بنایا،جبکہ اس کا سیدھا مطلب اللہ تعالیٰ کی ذات پر اعتراض ہے کہ اس کے خیال میں اللہ نے فاضل یعنی اونچے درجہ والے کو مفضول یعنی کمتر درجہ والے کو سجدہ کرنے کا حکم دے دیا۔اور اس اعتراض کی بناپر ابلیس کافر ہوگیا، کیونکہ اس کا کفر “کفرِ جُحود” یعنی اللہ کا انکار کرنے والا کفر نہیں تھا ۔ (ابن جُزی: ۱؍ ۲۹۷)
سوال: کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان اپنی عقل فہم کے غرور میں اس درجہ تک پہنچ جاتا ہے کہ اللہ کی شریعت پر اعتراض کربیٹھتا ہے ۔اس رویے اور عمل کے نتیجے میں وہ کفر کربیٹھتا ہے۔آیت کی روشنی میں اس کی وضاحت کیجئے.
قَالَ مَا مَنَعَكَ أَلَّا تَسۡجُدَ إِذۡ أَمَرۡتُكَۖ قَالَ أَنَا۠ خَيۡرٞ مِّنۡهُ خَلَقۡتَنِي مِن نَّارٖ وَخَلَقۡتَهُۥ مِن طِينٖ ١٢
ابلیس کے اس قول میں پیش کی گئی حجت ودلیل کہ: (أَنَا۠ خَيۡرٞ مِّنۡهُ خَلَقۡتَنِي مِن نَّارٖ وَخَلَقۡتَهُۥ مِن طِينٖ) میں آدم سے بہتر ہوں کہ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے ۔ یہ غلط دلیل تھی اس لئے کہ اس نے نص یعنی حکم الٰہی کے مقابلے میں قیاس کو پیش کیا تھا ۔( ابن تیمیہ: ۳؍ ۱۸۳)
سوال: ابلیس کی دلیل باطل کیوں تھی؟
خَلَقۡتَنِي مِن نَّارٖ وَخَلَقۡتَهُۥ مِن طِينٖ ١٢
ابلیس نے آگ کے عنصر کو مٹی اور گارے کے عنصر سے بہتر وبرتر ٹھہراکر غلط بات کہی، کیونکہ مٹی کے عنصر میں عاجزی اور جھکنے کی خاصیت ہے ،سکون اور ٹھہراؤ ہے ،صبر وبردباری اور وقار کی خوبی ہے ۔نیز اسی مٹی سے زمین کی برکتیں اور نعمتیں حاصل ہوتی ہیں۔ جیسے پیڑ اوردرخت ، طرح طرح کے پودے اور نباتات جو مختلف حصوں میں الگ الگ جنس اور قسم کے ہوتے ہیں ۔جبکہ آگ کا معاملہ اس کے برخلاف ہے ،اس میں ہلکاپن ہے ، جوش اور طیش ہے، یعنی بھڑکنے کی صفت اور جلا دینے کی خاصیت ہے ۔ (السعدی: ۲۸۴)
سوال: ابلیس نے آگ کے عنصر کو مٹی کے عنصر پربرتری دے کر غلطی کی ۔اُس کی اِس خطا اور غلطی کی وجہ کیا تھی؟
قَالَ فَٱهۡبِطۡ مِنۡهَا فَمَا يَكُونُ لَكَ أَن تَتَكَبَّرَ فِيهَا فَٱخۡرُجۡ إِنَّكَ مِنَ ٱلصَّٰغِرِينَ ١٣
( فَمَا يَكُونُ لَكَ أَن تَتَكَبَّرَ فِيهَا) تجھے یہ حق حاصل نہیں کہ تو آسمان یا جنت میں رہ کر تکبر کرے، کیونکہ یہاں وہ فرشتے بستے ہیں جن کا شیوہ عاجزی و انکساری ہے۔
(فَٱخۡرُجۡ إِنَّكَ مِنَ ٱلصَّٰغِرِينَ) سو یہاں سے نکل جا! یقیناًتو ذلیل لوگوں میں سے ہے۔
مراد ہے : ذلیل ترین لوگوں میں سے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جو شخص اپنے مالک ومولیٰ کی نافرمانی کرتا ہے وہ ذلیل ہے ۔ (القرطبی: ۹؍۱۶۹)
سوال: اللہ کے مقرب بندوں کی کیا صفت ہے اور اس سے دور رہنے والوں کی پہچان کیا ہے؟
فَٱخۡرُجۡ إِنَّكَ مِنَ ٱلصَّٰغِرِينَ ١٣
(فَٱخۡرُجۡ إِنَّكَ مِنَ ٱلصَّٰغِرِينَ) سو نکل جا! تو ان لوگوں میں سے ہے جن کی عزت ووقعت نہیں۔ یعنی ذلیل ورسوا اور حقیر وبے حیثیت لوگوں میں سے ہے۔
ابلیس کے ساتھ یہ معاملہ اس کی منشااور ارادے کے بالکل الٹ تھا ۔اس کی چاہت تھی بڑائی اور تکبر۔ لہذا اس چاہت کی سزا اس کی ضد یعنی ذلت کی شکل میں دے دی گئی۔ (ابن کثیر: ۲؍ ۱۹۵)
سوال: ابلیس کا انجام ذلت اور بے عزتی کیوں ہوا؟
ثُمَّ لَأٓتِيَنَّهُم مِّنۢ بَيۡنِ أَيۡدِيهِمۡ وَمِنۡ خَلۡفِهِمۡ وَعَنۡ أَيۡمَٰنِهِمۡ وَعَن شَمَآئِلِهِمۡۖ وَلَا تَجِدُ أَكۡثَرَهُمۡ شَٰكِرِينَ ١٧
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ابلیس کی جو بات نقل کی ہے کہ : ( ثُمَّ لَأٓتِيَنَّهُم مِّنۢ بَيۡنِ أَيۡدِيهِمۡ وَمِنۡ خَلۡفِهِمۡ وَعَنۡ أَيۡمَٰنِهِمۡ وَعَن شَمَآئِلِهِمۡۖ وَلَا تَجِدُ أَكۡثَرَهُمۡ شَٰكِرِينَ )پھر میں بہکانے اوربھٹکانے کے لئے ضرور ان کے پاس آؤنگا:ان کے سامنے سے ،پیچھے سے ،داہنے سے اور بائیں جانب سے بھی ۔ اور تو ان میں سے زیادہ تر لوگوں کو شکر گذار نہیں پائیگا۔
اس قول کے بارے میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اور عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ : ابلیس نے یہاں“مِنْ فَوْقِہِمْ” (یعنی ان کے اوپر سے بھی آؤں گا) نہیں کہا۔اس لئے کہ اسے معلوم تھا کہ ان کے اوپر اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ (ابن تیمیہ: ۳؍۱۴۰)
سوال: اللہ تعالیٰ نے ابلیس کا جو قول نقل کیا ہے اس میں “مِنْ فَوْقِہِمْ” یعنی ان کے اوپر کی جانب سے کیوں نہیں کہا؟
فَوَسۡوَسَ لَهُمَا ٱلشَّيۡطَٰنُ لِيُبۡدِيَ لَهُمَا مَا وُۥرِيَ عَنۡهُمَا مِن سَوۡءَٰتِهِمَا
(مِنْ سَوۡءَٰتِهِمَا ) یعنی“مِنْ عَوْرَاتِهِمَا” جس کا معنی ہے: ان کی شرم گاہیں۔ شر م گاہ کو “عَورَۃ ” اور “سَوْأَۃ” کا نام اس لئے دیا گیا ہے کیونکہ آدمی کو اس کا کھلنا اور ظاہر ہونا برا لگتا ہے ۔
اس بات سے معلوم ہوا کہ شرم گاہ کا کھلا رکھنابرا اور قبیح ہے۔(القرطبی: ۹؍۱۷۵)
سوال:شرم گاہ کو “عَورَۃ ” اور“سَوْأَۃ” کا نام دینا کس چیز پر دلالت کرتا ہے؟