قرآن
ﮒ
ﱀ
ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ
ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ
ﭶ ﭷ ١٥٨ ١٥٨ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ
ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ
١٥٩ ١٥٩ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ
ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ١٦٠ ١٦٠ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ
ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ
ﮯ ﮰ ١٦١ ١٦١ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ
ﯚ ﯛ ١٦٢ ١٦٢ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ
١٦٣ ١٦٣ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ
ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ
ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ١٦٤ ١٦٤ ﰈ ﰉ ﰊ
ﰋ ﰌ ﰍ ﰎ ﰏ ﰐ ﰑ ﰒ ﰓ
ﰔ ﰕ ﰖ ﰗ ﰘ ﰙ ﰚ ﰛ ﰜ ﰝ ١٦٥ ١٦٥
يَوۡمَ يَأۡتِي بَعۡضُ ءَايَٰتِ رَبِّكَ لَا يَنفَعُ نَفۡسًا إِيمَٰنُهَا لَمۡ تَكُنۡ ءَامَنَتۡ مِن قَبۡلُ أَوۡ كَسَبَتۡ فِيٓ إِيمَٰنِهَا خَيۡرٗاۗ قُلِ ٱنتَظِرُوٓاْ إِنَّا مُنتَظِرُونَ ١٥٨
علماء کرام کہتے ہیں:کسی بھی شخص کے لئے ایمان لانااس وقت بے فائدہ ہوگا جب سورج مغرب سے طلوع ہوجائیگا، کیونکہ یہ چیز لوگوں کے دلوں میں ایسا خوف اور ایسی دہشت بٹھادیگی جس سے ان کے نفس کی ہر خواہش مٹ جائیگی اور تن بدن کی ہر قوت کمزور بلکہ بے زور ہوجائیگی۔اس وقت چونکہ تمام لوگوں کو یقین ہوجائیگا کہ قیامت بالکل قریب آچکی ہے اس لئے سب کے سب ایسی حالت میں ہوں گے جیسی قریب المرگ شخص کی حالت ہوتی ہے جسے یقین ہوجاتا ہے کہ اس کا دنیا سے رخصتی کا وقت آچکا ہے۔اس حالت میں اس کے اندر کسی بھی قسم کے گناہ کا کوئی جذبہ اور کسی بھی معصیت ونافرمانی کی کوئی چاہت نہیں رہ جاتی ۔یعنی جرم کی خواہش اور کشش ان سے کٹ جاتی ہے اور ان کے جسموں کی گناہ کرنے کی صلاحیت وتوانائی بیکار ہوجاتی ہے ۔لہذا جو کوئی اس طرح کی حالت میں توبہ کریگا تو اس کی توبہ قبول نہیں ہوگی ،اسی طرح جیسے موت کے آجانے اور اس کی علامتوں کے ظاہرہوجانے کے وقت آدمی کی توبہ قبول نہیں ہوتی۔ (القرطبی: ۹؍۱۳۰)
سوال: جب سورج مغرب سے طلوع ہوجائیگا تو اس کے بعد ایمان لانا کیوں فائدہ مند نہیں ہوگا؟
يَوۡمَ يَأۡتِي بَعۡضُ ءَايَٰتِ رَبِّكَ لَا يَنفَعُ نَفۡسًا إِيمَٰنُهَا لَمۡ تَكُنۡ ءَامَنَتۡ مِن قَبۡلُ أَوۡ كَسَبَتۡ فِيٓ إِيمَٰنِهَا خَيۡرٗاۗ
اس بات کی حکمت ظاہر ہے۔وہ یہ ہے کہ ایمان تو وہی فائدہ دیتا ہے جو بالغیب یعنی بن دیکھے لایا جائے ،اور بندہ اپنے ارادے اور اختیار سے ایمان لایا ہو، مگر جب اللہ کی نشانیاں ،موت کی علامتیں سامنے آجائیں تو اب معاملہ غیب کا نہیں رہ جاتا بلکہ مشاہدے کا ہوجاتا ہے ۔ اس لئے اب ایمان لانے میں کوئی فائدہ نہیں رہ جاتا کیونکہ یہ تو بدیہی اورمجبوری کی حالت میں ایمان لانے کی مانند ہوجاتا ہے ۔جیسے کوئی آدمی پانی میں ڈوب رہا ہو یا آگ میں جل رہا ہو یا اس طرح کی کسی اور حالت میں ہو تو ایسا شخص موت کو اپنے سامنے دیکھ کر اپنے اندر سے انکار اور کفر کو نکال پھینکتا ہے اور ایمان لانے کا دم بھرتا ہے ۔(السعدی: ۲۸۱)
سوال: آیت کے تناظر میں اختصار کے ساتھ ایمان بالغیب کی اہمیت بتائیے.
أَوۡ كَسَبَتۡ فِيٓ إِيمَٰنِهَا خَيۡرٗاۗ
انسان اپنے ایمان کی بدولت ہی خیر وبھلائی حاصل کرتا ہے ،چنانچہ فرمانبرداری،نیکی اور تقویٰ کا فائدہ اور ان میں ترقی اور اضافہ اسی وقت ہوگا جب بندے کے دامن میں ایمان کی دولت ہو ۔ایمان ہوگا تبھی یہ بھلائیاں نشونماپائیں گی اور پھل اور سایہ دیں گی،لیکن جب دل ایمان کے جوہر سے خالی ہو تو ان میں سے کوئی بھی چیز بندے کے لئے فائدہ مند نہیں ہوتی۔ (السعدی: ۲۸۲)
سوال: کفار ومشرکین دنیا میں بعض اچھے اعمال کرتے ہیں ۔تو کیا آخرت میں یہ ان کے کام آئیں گے ۔ کیوں؟
إِنَّ ٱلَّذِينَ فَرَّقُواْ دِينَهُمۡ وَكَانُواْ شِيَعٗا لَّسۡتَ مِنۡهُمۡ فِي شَيۡءٍۚ
اللہ تعالیٰ کے فرمان: (إِنَّ ٱلَّذِينَ فَرَّقُواْ دِينَهُمۡ وَكَانُواْ شِيَعٗا) (بلا شبہ جن لوگوں نے اپنے دین میں تفرقہ ڈالا اور الگ الگ گروہ بن گئے )اس آیت کے تحت امام مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں:اس سے مراد اہل بدعات وشبہات ہیں ،کیونکہ وہ ایسے کاموں میں پڑ گئے جو شریعت میں بناؤٹی اور ایجاد کردہ ہیں، اور عقل وفہم کے معیارپر مشکوک اور مشتبہ ہیں۔ (ابن تیمیہ: ۳؍۱۱۷)
سوال: کیا اس آیت کے مصداق اور معنی میں اہل بدعات شامل ہیں؟
قُلۡ إِنَّنِي هَدَىٰنِي رَبِّيٓ إِلَىٰ صِرَٰطٖ مُّسۡتَقِيمٖ دِينٗا قِيَمٗا مِّلَّةَ إِبۡرَٰهِيمَ حَنِيفٗاۚ وَمَا كَانَ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ ١٦١ قُلۡ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحۡيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ ١٦٢
یہ عموم ہے۔پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے دین کے عبادات واعمال میں سب سے زیادہ شرف اور فضیلت والی عبادات کا خصوصی ذکر فرمایا ہے ،ارشاد فرمایا: (قُلۡ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي) کہہ دیجئے کہ میری نماز اور میری قربانی۔ یہ خصوصی ذکر اس لئے ہے کہ یہ دونوں عبادتیں بڑی اونچی شان اور بلند مقام رکھتی ہیں،نیز ان دونوں عبادتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتا ہے ۔دین کو اسی کے لئے خالص کرتا ہے اور اپنے دل سے ، زبان سے اوراعضاء وجوارح سے اللہ کی قربت ونزدیکی اختیار کرتا ہے ۔ چونکہ ذبح اور قربانی میں مال خرچ ہوتا ہے جو انسان کے نزدیک محبوب ترین شیء ہے اس لئےاس کا اللہ کے لئے خرچ کرنا اللہ سے محبت کی دلیل ہے ۔ (السعدی: ۲۸۲)
سوال:صلاۃاور قربانیاں پہلی آیت کے معنی میں داخل تھیں۔پھر الگ سے ان کا خصوصی ذکر کیوں کیا گیا؟
قُلۡ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحۡيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ ١٦٢
یعنی:میرا جینا اور میرا مرنا (لِلَّهِ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ) اللہ کے لئے ہی ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔
یعنی: وہی مجھے زندگی دیتاہے اور موت بھی۔ایک قول میں آیت کایہ معنی بیان کیا گیا ہے کہ: نیک عمل کے ساتھ میرا زندگی گذارنا، او ر جب موت آئے تو اللہ رب العالمین کے لئے ایمان اور یقین کے ساتھ میرا مرنا۔(البغوی: ۲؍ ۸۶)
سوال:جینا اور مرنا کس طرح صرف اللہ رب العالمین کے لئے ہوتاہے؟
إِنَّ رَبَّكَ سَرِيعُ ٱلۡعِقَابِ وَإِنَّهُۥ لَغَفُورٞ رَّحِيمُۢ ١٦٥
یہ ترغیب بھی ہے اور ڈراوا بھی کہ جو کوئی اللہ کی نافرمانی کرتا ہے اور اس کے رسولوں کی مخالفت کرتا ہے ،اس کے حق میں اللہ کا حساب کتاب اور عذاب بہت جلد ہوجائیگا۔ اس کے برخلاف جو کوئی اللہ سے دوستی اور تعلق استوار کرتا ہے اور اس کے رسولوں کی لائی ہوئی ہر خبر اور ہر مطالبے کو مانتا ہے ،تو اس کے لئے اللہ تعالیٰ بڑا ہی بخشنے والا نہایت مہربان ہوگا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو مختلف انداز وبیان کے ذریعہ اپنی طرف بلاتا ہے :کبھی شوق دلاکرجنت کے بیان کے ذریعہ اور اپنے پاس کی نعمتوں کی رغبت دلاکر بلاتا ہے، اور کبھی ڈر و خوف پیدا کرکے جہنم کی آگ کا ذکر کرکے ،اس کی بیڑیوں ،زنجیروں اور سزا وعذاب کو بتاکر نیز قیامت اور اس کی ہولناکیوں کا نقشہ کھینچ کر بندوں کو دعوت دیتا ہے، اور کبھی ان دونوں کے ذریعہ سے اپنے بندوں کو اپنی طرف دعوت دیتا اور بلاتا ہے۔ (ابن کثیر: ۲؍ ۱۹۱)
سوال:دعوت کبھی ڈرادھمکا کر ،کبھی رغبت دلاکر اور کبھی دونوں کے ذریعہ ہوتی ہے۔کیوں؟