قرآن
ﮒ
ﱀ
ﭚ ١٣١ ١٣١ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ
ﭣ ﭤ ﭥ ١٣٢ ١٣٢ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ
ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ
ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ١٣٣ ١٣٣
ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ١٣٤ ١٣٤ ﮄ ﮅ
ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ
ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ١٣٥ ١٣٥
ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ
ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ
ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ
ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ١٣٦ ١٣٦ ﯝ
ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ
ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ
ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ١٣٧ ١٣٧
وَلِكُلّٖ دَرَجَٰتٞ مِّمَّا عَمِلُواْۚ
اعمال کے لحاظ سے لوگوں کے الگ الگ درجات ہیں۔چنانچہ ان میں جوکم برائی کرنے والے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں زیادہ برائی کرنے والوں کے برابر نہیں کریگا،نہ پیچھے چلنے والوں کو قائد وپیشواکی طرح، اور نہ ہی سربراہ کو رعایا کی مانند درجہ دیگا۔ ہر ایک کا درجہ اس کے عمل کے مطابق ہوگا ۔جیسا کہ ثواب اور جنت پانے والوں کا معاملہ ہے کہ فائدہ میں،فلاح وکامرانی میں اور جنت کے داخلہ میں اگرچہ سارے جنتی شریک ہوں گے مگر ان کے درجات میں اتنا زیادہ فرق ہوگا جس کا علم صرف اللہ کو ہے ۔ہاں!لیکن درجات کے اس عظیم فرق اورتفاوت کے باوجودتمام اہلِ جنت اپنے آقا کی نوازشات سے خوش ہوں گے۔ (السعدی: ۲۷۴)
سوال:اہلِ جنت، درجات ومراتب میں کم زیادہ ہیں۔ اس بات کی جانکاری کا عملی فائدہ کیا ہے؟
وَرَبُّكَ ٱلۡغَنِيُّ ذُو ٱلرَّحۡمَةِۚ
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو نیک کام کرنے کا حکم دیا ہے اور برے کاموں سے منع کیا ہے ،تو یہ محض بندوں کے ساتھ رحمت وشفقت کی بناپر اور ان کی بھلائی اور مصلحت کی خاطرہے۔ ورنہ وہ اپنی ذات میں تمام مخلوقات سے بے نیاز ہے، کیونکہ نہ تو فرماں بردارلوگوں کی فرمانبرداری اس کوکچھ فائدہ پہنچاسکتی ہے، اور نہ ہی نافرمانوں کی نافرمانی اس کوکچھ نقصان پہنچا سکتی ہے ۔ (السعدی: ۲۷۴)
سوال: مذکورہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں اور فاجروں کی جزاوبدلے کا ذکر کرنے کے بعد اپنی ذات کی بے نیازی کا وصف کیوں بیان کیا ہے؟
إِن يَشَأۡ يُذۡهِبۡكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفۡ مِنۢ بَعۡدِكُم مَّا يَشَآءُ كَمَآ أَنشَأَكُم مِّن ذُرِّيَّةِ قَوۡمٍ ءَاخَرِينَ ١٣٣
جب تم یہ حقیقت اچھی طرح جانتے ہو کہ جس طرح دوسرے لوگ اس دنیا سے منتقل ہوگئے اسی طرح تمہارا بھی یہاں سے انتقال کرجانا یقینی ہے ۔ اور جس طرح تم سے پہلے کے لوگ دنیا سے کوچ کرگئے اور اسے تمہارے لئے خالی چھوڑگئے بالکل ایسے ہی تم بھی یہاں سے کوچ کرجاؤگے اور اپنے بعد آنے والوں کے لئے اسے چھوڑکر یہاں سے رخصت ہوجاؤگے، توپھر تم نے اسے اپنا دائمی ٹھکانہ کیوں بنارکھا ہے او ر كيوں اسے ہمیشہ رہنے والا گھر سمجھ لیا ہے؟ اور کیوں بھول گئے کہ یہ دنیا گذر گاہ ہے قیام گاہ نہیں؟ اور تمہارے سامنے وہ قیام گاہ ہے جس میں ساری نعمتیں جمع کردی گئی ہیں، اور انہیں ہر آفت اور نقصان سے محفوظ کردیا گیا ہے؟یہی تو وہ مقام اور گھر ہے جس کی طرف اوّلین وآخرین یعنی اگلے اور پچھلے لوگ بے تابانہ لپکتے رہے ہیں ۔پس یہ کتنی کم نصیبی اور بدقسمتی کی بات ہے کہ کوئی شخص کمتر وگھٹیا چیز پرمطمئن ہوبیٹھے۔ اور کس قدر ہمت کی کمی اور حوصلے کی پستی ہے کہ آدمی گھاٹے کا سودا پسند کرلے ! (السعدی: ۲۷۴)
سوال: پچھلی قوموں اور امتوں کے ختم ہوجانے اور ان کے بعد دوسری قوموں کے ان کا جانشین بن جانے میں عقل والے کے لئے کیا سبق ہے؟
فَقَالُواْ هَٰذَا لِلَّهِ بِزَعۡمِهِمۡ وَهَٰذَا لِشُرَكَآئِنَاۖ فَمَا كَانَ لِشُرَكَآئِهِمۡ فَلَا يَصِلُ إِلَى ٱللَّهِۖ وَمَا كَانَ لِلَّهِ فَهُوَ يَصِلُ إِلَىٰ شُرَكَآئِهِمۡۗ سَآءَ مَا يَحۡكُمُونَ ١٣٦
شیاطین کواللہ کے شریک کا نام دیا گیا ہے ۔اس لئے کہ ان کافروں نے اللہ کی نافرمانی میں ان کی اطاعت کی تھی۔ اس طرح ان لوگوں نے اطاعت کے فرض ہونے میں شیاطین کو اللہ کے ساتھ ملادیاتھا۔ (القرطبی: ۹؍۳۹۳)
سوال: اللہ تعالیٰ نے شیاطین کو شرکاء کا نام کیوں دیا؟
وَكَذَٰلِكَ زَيَّنَ لِكَثِيرٖ مِّنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ قَتۡلَ أَوۡلَٰدِهِمۡ شُرَكَآؤُهُمۡ لِيُرۡدُوهُمۡ وَلِيَلۡبِسُواْ عَلَيۡهِمۡ دِينَهُمۡۖ
عمل یعنی قتل کو شریکوں کی طرف منسوب کیا ہے حالانکہ انہوں نے بذات خود یہ کام نہیں کیا تھا ۔دراصل اس کی وجہ یہ ہے کہ ان شریکوں نے فعلِ قتل کو خوشنما بناکر ان لوگوں کو اس کے ارتکاب پر ابھارا اور آمادہ کیا ۔چنانچہ یہ ۔دعوت قتل۔خود قتل کرنے کے مترادف ہے ۔ (القرطبی: ۹؍۳۹۳)
سوال: جو شخص برائی کو خوشنما بنائے ،اس پر ابھارے اور اس کی دعوت دے ۔کیا وہ اس برائی کے کرنے والے کی طرح مانا جائیگا؟
وَكَذَٰلِكَ زَيَّنَ لِكَثِيرٖ مِّنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ قَتۡلَ أَوۡلَٰدِهِمۡ شُرَكَآؤُهُمۡ لِيُرۡدُوهُمۡ وَلِيَلۡبِسُواْ عَلَيۡهِمۡ دِينَهُمۡۖ وَلَوۡ شَآءَ ٱللَّهُ مَا فَعَلُوهُۖ فَذَرۡهُمۡ وَمَا يَفۡتَرُونَ ١٣٧
مشرکین اپنی اولاد کوزمین میں زندہ دفن کردیتےتھے، اور اپنے بتوں کا تقرب پانے کے لئے بھی اپنی اولاد کوجان سے مار دیتے تھے ۔ اور یہاں آیت میں شرکاء (شریکوں) سے مراد شیاطین ہیں، یا پھر بتوں کی نگرانی کرنے والے پجاری اور مجاور مراد ہیں ۔
(لِيُرۡدُوهُمۡ) کا معنی ہے تاکہ وہ انہیں ہلاک کردیں۔یہ کلمہ ‘‘الردی ’’ سے بنا ہے جس کا معنی ہلاکت ہوتا ہے ۔ (ابن جُزی: ۱؍ ۲۸۷)
سوال:مذکورہ آیت کے تناظرمیں اللہ تعالیٰ کا کچھ فضل وکرم بیان کیجئے جو اس نے ہم پر اپنے اس دینِ اسلام کے ذریعہ کیا ہے؟
وَكَذَٰلِكَ زَيَّنَ لِكَثِيرٖ مِّنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ قَتۡلَ أَوۡلَٰدِهِمۡ شُرَكَآؤُهُمۡ لِيُرۡدُوهُمۡ وَلِيَلۡبِسُواْ عَلَيۡهِمۡ دِينَهُمۡۖ وَلَوۡ شَآءَ ٱللَّهُ مَا فَعَلُوهُۖ فَذَرۡهُمۡ وَمَا يَفۡتَرُونَ ١٣٧
یہاں شرکاء یعنی شریکوں سے مراد شیاطین ہیں جو اولاد کو قتل کرنے کا حکم دیتے ہیں،اس پر اکساتے ہیں اور لوگوں کی نگاہوں میں اسے خوشنما بناتے ہیں ۔اسی طرح انسانوں میں سے وہ لوگ بھی مراد ہیں جو اس گھناؤنے عمل پر لوگوں کو ابھارتے رہے ہیں اور اس عمل کو ایک زمانے سے دوسرے زمانے میں منتقل کرتے رہے ہیں ۔کیونکہ یہ سب کے سب اس عمل کی برائی میں شریک ہیں، اور آخرت میں اس کے نتائج میں بھی برابر کے حصے دار ہیں۔ (ابن عطیہ: ۲؍ ۳۴۹)
سوال: آدمی شیطان کا شریک کار کب بن جاتا ہے؟