قرآن
ﮎ
ﰹ
ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ
ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ
٨٩ ٨٩ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ
ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ
ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ
٩٠ ٩٠ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ
ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ
ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ
ﮩ ٩١ ٩١ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ
ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ٩٢ ٩٢ ﯙ
ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ
ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ
ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ
ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ٩٣ ٩٣
فَلَمَّا جَآءَهُم مَّا عَرَفُواْ كَفَرُواْ بِهِۦۚ فَلَعۡنَةُ ٱللَّهِ عَلَى ٱلۡكَٰفِرِينَ ٨٩
ان کا کفرجہالت ونادانی کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس ہٹ دھرمی کی وجہ سے تھا جو حسد کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے اور یہ انتہائی مذموم ہے کیونکہ جاہل کا عذر قبول بھی ہوسکتا ہے۔(الألوسی:۱؍۳۲۲)
سوال:یہودیوں کے کفر کا سبب کیا تھا؟
بِئۡسَمَا ٱشۡتَرَوۡاْ بِهِۦٓ أَنفُسَهُمۡ أَن يَكۡفُرُواْ بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ بَغۡيًا أَن يُنَزِّلَ ٱللَّهُ مِن فَضۡلِهِۦ عَلَىٰ مَن يَشَآءُ مِنۡ عِبَادِهِۦۖ فَبَآءُو بِغَضَبٍ عَلَىٰ غَضَبٖۚ وَلِلۡكَٰفِرِينَ عَذَابٞ مُّهِينٞ ٩٠
چونکہ ان کے کفرکا سبب ظلم اور حسد تھااور یہ اصل میں تکبر کی پیداوار ہیں اسی لئے (ان کی اس برائی کے مطابق ہی)وہ دنیا اور آخرت میں ذلت ورسوائی سے دوچارکئے گئے۔(ابن کثیر:۱؍120)
سوال:جزاء(بدلہ)عمل کی جنس سے ہوتا ہے ۔یعنی جیسی کرنی ویسی بھرنی ۔آیت کی روشنی میں اس کی وضاحت کیجئے
فَبَآءُو بِغَضَبٍ عَلَىٰ غَضَبٖۚ
اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت کی(یعنی انہیں اپنی رحمت سے دورکردیا) اور ان پر باربار غضب کا عتاب نازل کیا کیونکہ وہ بکثرت کافرانہ عمل کرتے تھے اور لگاتار شک پر شک اور شرک پر شرک کرتے رہتے تھے ۔(السعدی:۵۹)
سوال:یہود،غضب در غضب کے مستحق کیوں ٹھہرے؟
وَهُوَ ٱلۡحَقُّ مُصَدِّقٗا لِّمَا مَعَهُمۡۗ
(یہ قرآن ایسا حق ہے جو ان کے پاس موجود کتاب کی تصدیق کرتا ہے۔)تو پھر ایسا کیوں ہے کہ تم اپنے اوپر نازل شدہ کتاب پر ایمان رکھتے ہواور اسی کے ہم مثل کتاب(قرآن)کا انکار کرتے ہو؟کیایہ محض تعصب اور خواہشاتِ نفس کی پیروی نہیں ہے!(السعدی:ص؍۵۹)
سوال:قرآن نے بیان کیا ہے کہ یہودیوں کا قرآن کے انکار کا سبب محض تعصب اور خواہش پرستی ہے ۔آیت کریمہ کی روشنی میں اس کی وضاحت کیجئے.
قُلۡ فَلِمَ تَقۡتُلُونَ أَنۢبِيَآءَ ٱللَّهِ مِن قَبۡلُ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ ٩١
انبیاء کی نسبت اللہ کی طرف بڑے شرف کی بات ہے ۔ساتھ ہی یہ تنبیہ بھی ہے کہ جو کوئی اللہ کے پاس سے آئے ، اس کی تو عزت و مددکرنی چاہئے نہ کہ اسکا قتل ۔(الألوسی: ۱؍۳۲۴)
سوال:اللہ کے نام کی طرف کسی مخلوق کے نام کی نسبت سے کیا معلوم ہوتاہے؟
وَإِذۡ أَخَذۡنَا مِيثَٰقَكُمۡ وَرَفَعۡنَا فَوۡقَكُمُ ٱلطُّورَ خُذُواْ مَآ ءَاتَيۡنَٰكُم بِقُوَّةٖ وَٱسۡمَعُواْۖ
(وَرَفَعۡنَا فَوۡقَكُمُ ٱلطُّور)ہم نے تم پر طور(پہاڑ) کو اٹھایا۔
وہ عظیم پہاڑ جسے ہم نے تمہیں جہالت کی پستی میں پڑے رہنے سے روکنے اور علم کی بلندی کی طرف پہنچانے کا (تنبیہی)سامان بنادیا،اور جس نے سنا لیکن نہیں ماناتو وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے سنا ہی نہیں ۔اللہ نے فرمایا:(وَٱسۡمَعُواْۖ)(اور سن لواور مان لو)ورنہ ہم تمہیں اس (کوہِ طور)کے نیچے دفن کردیں گے۔اور یہ (طور پہاڑ کا اٹھانا) ایسے مقام پر تھا جس مقام پر دوسروں کی تادیب کے لئے ان پر درہ اور کوڑا اٹھانا ہی کافی ہوتا ہے پھر وہ علم سیکھنے کے لئے آمادہ ہوجاتے ہیں(یعنی یہود کی ہٹ دھرمی اتنی بڑھی ہوئی تھی کہ ان کی تادیب کے لئے ان کے اوپر کوڑا کے بجائے پہاڑاٹھایا گیا)۔(البقاعی:۱؍۱۹۸)
سوال:ضدی اور ہٹ دھرم کے ساتھ تادیبی کارروائی اس کی ضد اور ہٹ دھرمی کے حساب سے کی جاتی ہے ۔(مذکورہ آیتوں کی روشنی میں)یہودیوں کے ساتھ تادیبی کارروائی کس حد تک کی گئی؟
خُذُواْ مَآ ءَاتَيۡنَٰكُم بِقُوَّةٖ وَٱسۡمَعُواْۖ
یہاں‘‘سننے” سے مراد قبول کرلینا،اطاعت کرنا اور بات مان لینا ہے۔(السعدی:ص؍۵۹)
سوال:اللہ سبحانہ نے ہم سے قرآن کے لئے کس قسم کی سماعت(سننے) کا مطالبہ کیاہے؟