قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

ﰿ




ﭿ
٩١ ٩١


٩٢ ٩٢





٩٣ ٩٣


ﯿ
٩٤ ٩٤
139
سورۃ الأنعام آیات 0 - 91

وَمَا قَدَرُواْ ٱللَّهَ حَقَّ قَدۡرِهِۦٓ إِذۡ قَالُواْ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ عَلَىٰ بَشَرٖ مِّن شَيۡءٖۗ قُلۡ مَنۡ أَنزَلَ ٱلۡكِتَٰبَ ٱلَّذِي جَآءَ بِهِۦ مُوسَىٰ

(وَمَا قَدَرُواْ ٱللَّهَ حَقَّ قَدۡرِهِۦٓ ) انہوں نے اللہ کی ویسی قدر نہیں کی جیسی قدر کرنی چاہئے تھی۔مطلب: اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر جو لطف وکرم اور رحمت و مہربانی کا برتاؤ کرتاہے ،اس بارے میں ان لوگوں نے اللہ کوکما حقہ نہیں پہچانا ۔اسی لئے انہوں نے رسولوں کی بعثت اور آسمانی کتابوں کے اتارنے کا انکار کیا، اور ایسا کرنے والے اور ایسی بات کہنے والے یہود تھے۔اس کی دلیل اس کے بعد والی آیت ہے، اوردراصل انہوں نے یہ بات محض اس لئے کہی تھی کہ بڑھ چڑھ کرمحمد ﷺ کی نبوت کا انکار کریں۔ ( ابن جُزی: ۱؍ ۲۷۸)
سوال: اللہ عزوجل کی قدرجیسی ہونی چاہیے ویسی قدرکی کیا نشانی ہے؟

سورۃ الأنعام آیات 0 - 91

وَمَا قَدَرُواْ ٱللَّهَ حَقَّ قَدۡرِهِۦٓ

والبی رحمۃ اﷲ علیہ کی ایک روایت میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: یہ فرمان کافروں کے بارے میں ہے اور رہا مومن توجو اس بات کا یقین کرتاہے کہ ‘‘اللہ ہر چیز پرقادر ہے’’ تو وہ اللہ کی قدر کرتا ہے جیسی اس کی قدر ہونی چاہئے۔ (ابن تیمیہ: ۳؍ ۳۵)
سوال: حق کے مطابق کون اللہ کی قدر کرتا ہے؟

سورۃ الأنعام آیات 0 - 93

وَمَنۡ أَظۡلَمُ مِمَّنِ ٱفۡتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا أَوۡ قَالَ أُوحِيَ إِلَيَّ وَلَمۡ يُوحَ إِلَيۡهِ شَيۡءٞ

آیت میں جس بات کو “عظیم ظلم” کہا گیا ہے وہ ہے اللہ پر بہتان باندھنا اور اپنی طرف وحی کئے جانے کا جھوٹا دعویٰ کرنا، بالکل ایسے ہی ظالم وہ لوگ بھی ہیں جو دین کی صحیح سمجھ اور سنتوں سے روگردانی کرتے ہیں۔اور امت کے سلف یعنی صحابہ وتابعین جن سنتوں اور طریقوں پر عمل پیرا تھے ان سے پہلو تہی کرتے ہیں اورکہتے ہیں کہ: ‘‘ہمارے دل میں یہ بات سوجھی ہے ا ہمارے دل نے ہمیں ایسی ایسی خبر دی ہے ۔ پھر ان کے دلوں میں جو بھی باتیں آتیں اور جن افکار وخیالات کا غلبہ ہوتا انہی کے مطابق فیصلے اور عمل کرتے ہیں۔ اس طرح وہ اپنے ان خود ساختہ افکار وخیالات کو اپنا کر ان کے مقابلے میں اللہ کی شریعت کے کلی احکام واصول سے بے نیازہوجاتے ہیں۔ اورکہتے یہ ہیں کہ شریعت کے عام احکام کے ذریعہ تو صرف نادان،کم عقل اور عام لوگوں کے فیصلے کئے جائیں گے ۔رہے اولیاء کرام اور اہلِ خصوص تو یہ لوگ قرآن وسنت کی ان نصوص کے محتاج نہیں ہیں ۔ (القرطبی: ۸؍۴۵۸)
سوال: کیا دلوں میں پیدا ہونے والے خیالات اور خوابوں کو شریعت کا ایک مصدرسمجھنا ، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے میں شامل ہے؟

سورۃ الأنعام آیات 0 - 93

وَمَنۡ أَظۡلَمُ مِمَّنِ ٱفۡتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا أَوۡ قَالَ أُوحِيَ إِلَيَّ وَلَمۡ يُوحَ إِلَيۡهِ شَيۡءٞ وَمَن قَالَ سَأُنزِلُ مِثۡلَ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُۗ

آیت میں مذکور باتیں اور دعوے سب سے بڑا ظلم اس لئے ہیں کہ ان میں جھوٹ اور بہتان ہے ۔نیز ان باتوں کے نتیجہ میں دین ومذہب میں (ان کے اصولی احکام اور فروعی مسائل میں) تبدیلی اور رد وبدل ہوجاتا ہے اور پھران چیزوں کو اللہ کی طرف منسوب کرنایہ سب ایسی چیز ہے جو سب سے زیادہ فسادانگیز اور نقصان دہ ہے ۔اس لئے مذکورہ باتیں کہنے والا شخص مخلوق میں سب سے بڑا ظالم ہے۔ (السعدی: ۲۶۵)
سوال: اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے والا شخص مخلوق میں سب سے ظالم کیوں ہے؟

سورۃ الأنعام آیات 0 - 93

وَلَوۡ تَرَىٰٓ إِذِ ٱلظَّٰلِمُونَ فِي غَمَرَٰتِ ٱلۡمَوۡتِ وَٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ بَاسِطُوٓاْ أَيۡدِيهِمۡ أَخۡرِجُوٓاْ أَنفُسَكُمُۖ ٱلۡيَوۡمَ تُجۡزَوۡنَ عَذَابَ ٱلۡهُونِ بِمَا كُنتُمۡ تَقُولُونَ عَلَى ٱللَّهِ غَيۡرَ ٱلۡحَقِّ وَكُنتُمۡ عَنۡ ءَايَٰتِهِۦ تَسۡتَكۡبِرُونَ ٩٣

(وَٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ بَاسِطُوٓاْ أَيۡدِيهِمۡ) اور فرشتے اپنے ہاتھ بڑھائے ہوئے ہوتے ہیں۔ عذاب دینے اورمارنے کے لئے ۔ فرشتے اپنے ہاتھوں سے ان کے چہروں اور پیٹھوں پر چوٹ لگاتے اور مارتے ہیں ۔
اور دوسرا معنی یہ بیان کیا گیا ہے کہ: ان کی جانوں کو نکالنے کے لئے فرشتے ہاتھ بڑھاتے ہیں ۔ (أَخۡرِجُوٓاْ) لاؤ ،نکالو۔یعنی فرشتے کہتے ہیں: لاؤ ،نکال باہر کرو۔ (أَنفُسَكُمُۖ) یعنی اپنی جانوں کو اپنے جسموں سے نہ چاہتے ہوئے اور زبردستی نکال باہر کرو۔
کراہت کے ساتھ اس لئے کہ بندۂ مومن کی روح اپنے رب سے ملاقات کے لئے خوشی خوشی تیار ہوتی ہے جبکہ کافر کی روح اسے ناپسند کرتی ہے ۔
آیت کے شرطیہ جملے۔ اگر آپ دیکھتے۔ کا جوابِ شرط محذوف ہے ۔شرط اور جوابِ شرط کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ : اگر آپ ان ظالموں کو موت کے وقت مذکورہ حالت میں دیکھ لیتے تو عجیب منظر پاتے۔ (البغوی: ۲؍ ۴۷)
سوال: موت کے وقت بندۂ مومن کی روح نکلنے اور کافر کی روح نکلنے میں کیا فرق ہے؟

سورۃ الأنعام آیات 0 - 94

وَلَقَدۡ جِئۡتُمُونَا فُرَٰدَىٰ كَمَا خَلَقۡنَٰكُمۡ أَوَّلَ مَرَّةٖ وَتَرَكۡتُم مَّا خَوَّلۡنَٰكُمۡ وَرَآءَ ظُهُورِكُمۡۖ

تمام لوگ۔بشمول فرشتے،انبیاء وصالحین۔ اللہ کے بندے اور غلام ہیں ۔ اللہ تعالیٰ سب کا مالک ہے اور وہی ان سب کی عبادت کا مستحق ہے لہذا لوگوں کا اللہ کی عبادت میں شرک کرنااور اللہ کے بعض غلاموں اور بندوں کے لئے عبادت کے کاموں کو کرنا دراصل ان بندوں اور غلاموں کو خالق ومالک اور آقائے حقیقی کا مقام دیناہے چنانچہ قیامت کے روز اس سنگین جرم پر ان کی سرزنش کی جائیگی اور دھتکارا جائیگا۔ (السعدی: ۲۶۵)
سوال: مذکورہ آیت کے تناظر میں قیامت کے روز اولیاء اور صالحین کی عبادت کرنے والوں کی حسرت وندامت کا حال بیان کیجئے.

سورۃ الأنعام آیات 0 - 94

وَلَقَدۡ جِئۡتُمُونَا فُرَٰدَىٰ كَمَا خَلَقۡنَٰكُمۡ أَوَّلَ مَرَّةٖ وَتَرَكۡتُم مَّا خَوَّلۡنَٰكُمۡ وَرَآءَ ظُهُورِكُمۡۖ وَمَا نَرَىٰ مَعَكُمۡ شُفَعَآءَكُمُ ٱلَّذِينَ زَعَمۡتُمۡ أَنَّهُمۡ فِيكُمۡ شُرَكَٰٓؤُاْۚ

الجميع عبيد لله، والله مالكهم والمستحق لعبادتهم، فشركهم في العبادة وصرفها لبعض العبيد تنزيل لهم منزلة الخالق المالك، فيوبخون يوم القيامة. السعدي:265.
السؤال: من خلال الآية: بيّن حسرة من يعبدون الصالحين يوم القيامة وندامتهم.