قرآن
ﮒ
ﰿ
ﭠ ﭡ ٢٨ ٢٨ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ
ﭫ ٢٩ ٢٩ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ
ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ
٣٠ ٣٠ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ
ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ
ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ٣١ ٣١ ﮡ ﮢ ﮣ
ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ
٣٢ ٣٢ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ
ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ٣٣ ٣٣ ﯢ ﯣ
ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ
ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ
٣٤ ٣٤ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ
ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ ﰈ ﰉ ﰊ ﰋ ﰌ ﰍ ﰎ ﰏ
ﰐ ﰑ ﰒ ﰓ ﰔ ﰕ ﰖ ﰗ ﰘ ٣٥ ٣٥
بَلۡ بَدَا لَهُم مَّا كَانُواْ يُخۡفُونَ مِن قَبۡلُۖ وَلَوۡ رُدُّواْ لَعَادُواْ لِمَا نُهُواْ عَنۡهُ وَإِنَّهُمۡ لَكَٰذِبُونَ ٢٨
بلکہ وہ یعنی کفار ومشرکین اپنے کئے ہوئے جس شرک کا انکارکررہے ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے (وَ اللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِيْنَ) ‘‘اللہ ہمارے رب کی قسم! ہم شرک کرنے والے نہیں تھے’’۔ ان کے اس انکار کی قلعی کھل جائیگی،ان کا جھوٹ بے نقاب ہوجائیگا،کیونکہ اللہ ان کے اعضاء وجوارح کو گویائی عطا کریگا، وہ بولنے لگیں گے اور خود ان کے خلاف ان کے کفر وشرک کی گواہی دیں گے۔ (القرطبی: ۸؍۳۵۴)
سوال: کفار قیامت کے دن پہلے کس چیز کو چھپانے کی کوشش کریں گے؟ اور ان کے سامنے حقیقت کیسے کھل جائیگی؟
وَمَا ٱلۡحَيَوٰةُ ٱلدُّنۡيَآ إِلَّا لَعِبٞ وَلَهۡوٞۖ وَلَلدَّارُ ٱلۡأٓخِرَةُ خَيۡرٞ لِّلَّذِينَ يَتَّقُونَۚ أَفَلَا تَعۡقِلُونَ ٣٢
رہی دنیا کی حقیقت ! تو یہ بس تن بدن کا کھیل وتماشا ہے ،دلوں کی تفریح اور بہلاوا ہے اسی لئے لوگوں کے دل اس پر فریفتہ ہوتے ہیں،انسانی نفوس اس کے عاشق وشیدا ہوتے ہیں، خواہشات اس میں اٹکی رہتی ہیں اور ارادے اس سے الجھے رہتے ہیں۔اور دنیا کے لہو ولعب میں مشغولیت ایسی ہوتی ہے جیسے بچے کھیل کود میں مگن ہوتے ہیں۔اور رہی آخرت!تو وہ(خَيۡرٞ لِّلَّذِينَ يَتَّقُونَۚ) یعنی: اپنی ذات وحقیقت اور صفات میں ،نیز باقی اور دائمی ہونے کےلحاظ سے اہل تقویٰ کے لئے کہیں بہتر ہے ۔وہاں ہرنفس کی من چاہی چیز موجود ہوگی،آنکھوں کی ٹھنڈک اور لذت کا بھرپور سامان ہوگا یعنی دل وجان کی نعمتیں اور مسرت وخوشیوں کے اسباب فراوانی سے مہیا ہوں گے لیکن لطف ولذت کے یہ انعامات ہر کسی کے نصیب میں نہیں ہوں گے۔ یہ تو صرف متقی لوگوں کے لئے ہوں گے جو اللہ کے احکامات پر عمل کرتے تھے اور اُن چیزوں سے باز رہتے تھے جن سے اللہ نے منع کیا اور روکا تھا ۔ (السعدی: ۲۵۲۔۲۵۳)
سوال: دنیا کے سامان اور آخرت کی نعمت کے درمیان دوفرق بیان کیجئے.
وَمَا ٱلۡحَيَوٰةُ ٱلدُّنۡيَآ إِلَّا لَعِبٞ وَلَهۡوٞۖ وَلَلدَّارُ ٱلۡأٓخِرَةُ خَيۡرٞ لِّلَّذِينَ يَتَّقُونَۚ أَفَلَا تَعۡقِلُونَ ٣٢
دنیا کی وہ چیزیں اور کام ‘لہو ولعب میں شامل نہیں ہیں جن کا تعلق آخرت کے امور سے ہے کیونکہ ’’لعِب‘‘ یعنی کھیل، حقیقت میں اس چیز کو کہا جاتا ہے جس سے فائدہ حاصل نہ ہو ۔ اور ‘‘لہو’’ یعنی وہ چیز جس میں آدمی لگا رہے اور غافل ہوجائے ۔ لہذا جن کاموں کا مقصد ومطلوب آخرت ہو وہ ان سے خارج ہیں۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: لہو ولعب والی زندگی دراصل کافر کی زندگی ہے اس لئے کہ وہ اپنی زندگی دھوکے اور باطل میں رہ کر گذارتاہے ۔ رہی مومن کی زندگی تو وہ نیک اعمال سے جڑی ہوتی ہے لہٰذا یہ ۔اعمال صالحہ پر مشتمل زندگی۔ لہو ولعب سے خارج ہے۔ (القرطبی: ۸؍۳۶۱)
سوال: کیا دنیا کی ہر چیز لہو ولعب یعنی کھیل تماشا ہے؟
فَإِنَّهُمۡ لَا يُكَذِّبُونَكَ وَلَٰكِنَّ ٱلظَّٰلِمِينَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ يَجۡحَدُونَ ٣٣
یہاں اللہ نے ان کفار سے تکذیب یعنی جھٹلانے کی نفی کی ہے اور ‘‘جُحود’’یعنی انکارکااثبات کیا ہے ۔ اور یہ بات معلوم ہے کہ ان کا زبان سے جھٹلانا موجود تھا ۔ اس کی نفی نہیں کی گئی۔ لہذا معلوم ہوا کہ ان سے جس جھٹلانے کی نفی کی جارہی ہے وہ دل کا جھٹلانا ہے۔ (ابن تیمیہ: ۲؍ ۲۳)
سوال: آیت کریمہ میں کس تکذیب کی نفی کی گئی ہے؟
وَلَقَدۡ كُذِّبَتۡ رُسُلٞ مِّن قَبۡلِكَ فَصَبَرُواْ عَلَىٰ مَا كُذِّبُواْ وَأُوذُواْ حَتَّىٰٓ أَتَىٰهُمۡ نَصۡرُنَاۚ
(بہت سے پیغمبر نے اپنے جھٹلانے پر صبر کیا) لہٰذا جس طرح ان رسولوں نے صبر کیا ،آپ بھی صبر کیجئے ۔نتیجہ میں آپ بھی ویسے ہی فتح وکامیابی پائیں گے جس طرح وہ فتح وکامیابی سے ہمکنار ہوئے ۔ (السعدی: ۲۵۵)
سوال:پچھلے رسولوں کے واقعات اور ان کی سیرتوں کو بیان کرنے کی کیا مصلحت ہے؟
وَلَقَدۡ كُذِّبَتۡ رُسُلٞ مِّن قَبۡلِكَ فَصَبَرُواْ عَلَىٰ مَا كُذِّبُواْ وَأُوذُواْ حَتَّىٰٓ أَتَىٰهُمۡ نَصۡرُنَاۚ وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَٰتِ ٱللَّهِۚ وَلَقَدۡ جَآءَكَ مِن نَّبَإِيْ ٱلۡمُرۡسَلِينَ ٣٤
(وَلَقَدۡ جَآءَكَ مِن نَّبَإِيْ ٱلۡمُرۡسَلِينَ) اور رسولوں کی خبروں میں سے بہت سی چیزیں تو آپ تک پہنچ ہی چکی ہیں۔
اس سے مراد رسولوں کا صبر وتحمل ہے اور پھر صبر کرنے پر اللہ کی طرف سے ان تک مددکا پہنچنا ہے ۔ یہ بات بھی دراصل اللہ کے وعدے کی تاکیدہے اور صبر پر ابھارنے والی ہے ۔(ابن جزی: ۱؍ ۲۶۶)
سوال: قرآن نازل کرنے کا سب سے بڑا مقصد ‘‘اس پر عمل کرنا’’ہے۔اس بات کی وضاحت کیجئے.
وَإِن كَانَ كَبُرَ عَلَيۡكَ إِعۡرَاضُهُمۡ فَإِنِ ٱسۡتَطَعۡتَ أَن تَبۡتَغِيَ نَفَقٗا فِي ٱلۡأَرۡضِ أَوۡ سُلَّمٗا فِي ٱلسَّمَآءِ فَتَأۡتِيَهُم بِـَٔايَةٖۚ وَلَوۡ شَآءَ ٱللَّهُ لَجَمَعَهُمۡ عَلَى ٱلۡهُدَىٰۚ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلۡجَٰهِلِينَ ٣٥
‘‘اللہ نے اپنے نبی ﷺ کو حکم دیا ہے کہ یہ کفار اگر ایمان نہیں لاتے توان کے بارے میں بہت زیادہ رنج وغم میں نہ پڑیں کیونکہ آپ ان کی ہدایت پر قدرت نہیں رکھتے ’’۔(القرطبی: ۸؍۳۶۷)
سوال:جن کو دعوت دی جارہی ہے اگر وہ دعوت قبول کرنے سے روگردانی کررہے ہیں تو دعوت دینے والے کو اس پر غمزدہ ہونے سے منع کیا گیا ہے۔ اس کی کیا حکمت ومصلحت ہے؟