قرآن
ﮒ
ﰿ
ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ
ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ
١٩ ١٩ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ
ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ٢٠ ٢٠ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ
ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ٢١ ٢١ ﮜ ﮝ
ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ٢٢ ٢٢
ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ٢٣ ٢٣
ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ٢٤ ٢٤
ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ
ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ
ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ
ﰅ ٢٥ ٢٥ ﰇ ﰈ ﰉ ﰊ ﰋ ﰌ ﰍ ﰎ ﰏ
ﰐ ﰑ ﰒ ٢٦ ٢٦ ﰔ ﰕ ﰖ ﰗ ﰘ ﰙ ﰚ
ﰛ ﰜ ﰝ ﰞ ﰟ ﰠ ﰡ ﰢ ﰣ ٢٧ ٢٧
قُلۡ أَيُّ شَيۡءٍ أَكۡبَرُ شَهَٰدَةٗۖ قُلِ ٱللَّهُۖ شَهِيدُۢ بَيۡنِي وَبَيۡنَكُمۡۚ
اللہ تعالیٰ اپنے اقرار وتصدیق اور فعل کے ذریعہ میرے حق میں گواہی دیتا ہے ،میں تم لوگوں سے جو بھی کہتا ہوں وہ مجھے اس پر برقرار رکھتا ہے... پس چونکہ اللہ تعالیٰ حکمت والا،قدرت والا ہے لہذا اس کی حکمت اور قدرت کو یہ بات زیبا اور لائق نہیں ہے کہ وہ ایسے شخص کو برقرار رکھے جو یہ دعویٰ کرتا ہو کہ اللہ نے اسے رسول بناکر بھیجا ہے حالانکہ اللہ نے اسے نہیں بھیجا۔اور اللہ نے اسے لوگوں کو اپنی طرف دعوت دینے کا حکم دیا ہے جبکہ حقیقت میں اللہ نے اسے ایسا حکم نہیں دیا ۔نیز یہ دعویٰ بھی کرتا ہو کہ جو بھی اس کی مخالفت کریگا اللہ نے اس کے لئے ایسے مخالفین کی جانوں کو، مال ودولت کو اور عورتوں کو حلال کردیا ہے۔ایسے جھوٹے دعووں کے باوجود اللہ تعالیٰ اپنی منظوری اور فعل کے ساتھ اس کی تصدیق کرے ،نیز کھلے ہوئے معجزات اور واضح آیات کے ذریعہ اس کی تائید کرے!اور مدد کرےاور جو اس کا مخالف ہودشمن ہواللہ تعالیٰ اسے ذلیل و رسوا کرے لہٰذا اللہ کی اس گواہی سے بڑھ کر کون سی گواہی ہوگی! (السعدی: ۲۵۲۔۲۵۳)
سوال: رسول اللہ ﷺ اور آپ کو جھٹلانے والوں کے درمیان اللہ کے گواہ ہونے کی کیا صورت ہے؟
وَأُوحِيَ إِلَيَّ هَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانُ لِأُنذِرَكُم بِهِۦ وَمَنۢ بَلَغَۚ
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو پہلے ان لوگوں تک پیغام حق پہنچانے کا حکم دیا جو جگہ ومقام اور رشتہ وتعلق کے اعتبار سے آپ کے قریب تر اور قریب ہوں۔ پھر یکے بعد دیگرے مختلف جماعتوں اور گروہوں تک تبلیغ کریں،یہاں تک کہ حق کو جھٹلانے والوں کو برے انجام سےڈرانے کا یہ عمل دنیا کے تمام لوگوں تک پہنچ جائے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے: (وَأُوحِيَ إِلَيَّ هَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانُ لِأُنذِرَكُم بِهِۦ وَمَنۢ بَلَغَۚ ) میری طرف یہ قرآن وحی کیا گیا ہے تاکہ اس کے ذریعہ میں تمہیں بھی ڈراؤں اور ان سب کو بھی ڈراؤں جن تک یہ پہنچے۔یعنی ہر وہ شخص اور گروہ جس تک قرآن پہنچے لہذا دنیا کا ہر وہ انسان جس تک قرآن پہنچ گیا تو محمد ﷺ نے اسے ڈرادیا ،آگاہ کردیا۔ (ابن تیمیہ:۳؍۲۰)
سوال: دینِ اسلام کی تبلیغ شرعی فریضہ ہے ۔اس فرض کو ادا کرنے کے کیامراحل اور طریقے ہوں گے؟
وَأُوحِيَ إِلَيَّ هَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانُ لِأُنذِرَكُم بِهِۦ وَمَنۢ بَلَغَۚ
تم اور تمہارے علاوہ دنیا کے تمام لوگوں میں سے جس کسی انسان تک قرآن پہنچ جائے ،اگر وہ قرآن کی تعلیمات کو نہیں اپناتا ،اس کی حلال کی ہوئی چیزوں کو حلال اور حرام کی ہوئی چیزوں کو حرام نہیں سمجھتا اور اس میں موجود تمام باتوں پر ایمان نہیں لاتاتو میں ایسے ہر شخص کوصاف صاف ڈرارہا ہوں کہ اس کی ان حرکتوں کے بدلے میں اللہ کا عذاب نازل ہوگا اور اسے اپنی کرتوت کا خمیازہ بھگتنا پڑیگا۔ (الطبری: ۱۱؍ ۲۹۰)
سوال: قرآن کو نازل کرنے کا سب سے اہم اوربڑا مقصدہے ‘‘اس پر عمل کرنا’’ اس بات کی وضاحت کیجئے.
ٱنظُرۡ كَيۡفَ كَذَبُواْ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمۡۚ وَضَلَّ عَنۡهُم مَّا كَانُواْ يَفۡتَرُونَ ٢٤
(وَضَلَّ عَنۡهُم) ان سےدور ہوگئے، غائب ہوگئے۔ (مَّا كَانُواْ يَفۡتَرُون) جو کچھ وہ بتوں کے بارے میں جھوٹ تراشا کرتے تھے ۔ دراصل وہ لوگ اپنے ان بتوں سے یہ امید رکھتے تھے کہ وہ ان کی سفارش اور مدد کریں گے لیکن قیامت کےدن اُن کی ایسی تمام امیدوں پر پانی پھر جائیگا اور ان کی یہ امیدیں باطل ثابت ہوں گی۔ (البغوی: ۲؍ ۱۴)
سوال:قیامت کے دن کفار ومشرکین کا جھوٹ اور باطل کس طرح گم ہوگا؟
وَمِنۡهُم مَّن يَسۡتَمِعُ إِلَيۡكَۖ وَجَعَلۡنَا عَلَىٰ قُلُوبِهِمۡ أَكِنَّةً أَن يَفۡقَهُوهُ وَفِيٓ ءَاذَانِهِمۡ وَقۡرٗاۚ
یعنی: ان مشرکین میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جنہیں بعض اوقات ،کچھ اسباب وعوامل آپ کی باتیں سننے پر آمادہ کرتے ہیں چنانچہ وہ آپ کی بات بظاہر تو سنتے ہیں لیکن یہ سننا، حق کو جاننے اور ماننے اور اس کی اتباع کرنےکے جذبے سے خالی ہوتا ہے ۔ اسی لئے انہیں آپ کی باتیں سننے سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا کیونکہ ان کے ارادے اور نیت میں خیروحق کا حصول نہیں ہوتا۔ ( وَجَعَلۡنَا عَلَىٰ قُلُوبِهِمۡ أَكِنَّةً) یعنی : ہم نے ان کے دلوں پر پردے اوررکاوٹ ڈال دیے ہیں تاکہ وہ اللہ کے کلام کو نہ سمجھ سکیں۔اس طرح اللہ نے ایسے لوگوں سے اپنے کلام کو محفوظ کردیا۔ (السعدی: ۲۵۴).
وَجَعَلۡنَا عَلَىٰ قُلُوبِهِمۡ أَكِنَّةً أَن يَفۡقَهُوهُ وَفِيٓ ءَاذَانِهِمۡ وَقۡرٗاۚ وَإِن يَرَوۡاْ كُلَّ ءَايَةٖ لَّا يُؤۡمِنُواْ بِهَاۖ
(وَ جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ يَّفْقَهُوْهُ) اور ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال رکھے ہیں کہ وہ سمجھ ہی نہ سکیں۔
لفظ (اَكِنَّةً) کنان کی جمع ہے جس کا معنی ہے پردہ۔ اور(أَن يَفۡقَهُوهُ) کاجملہ‘‘مفعول لأجلِہ’’واقع ہے ( یعنی وہ مفعول جو فعل کی وجہ بتاتا ہے ) اور اس کی مخفی تعبیر اس طرح ہے: “كراهة اَنْ يَّفْقَهُوْهُ” جس کامطلب ہے کہ اللہ نے ان کے سمجھنے کو ناپسند کرنے کی وجہ سے ان کے دلوں پر پردے ڈال دئیےاورپوری آیت کا معنی یہ ہوا کہ جب یہ لوگ قرآن کو سنتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے اور ان کی سمجھ بوجھ کے درمیان حائل ہوجاتا ہے اور اس معنی کو ادا کرنے کے لئے (اَكِنَّةً) پردہ اور (وَقۡرٗاۚ) (ڈاٹ)کے لفظ سے تعبیر کرنا،معنی میں مبالغہ اور زیادتی کے لئے ہے ۔ (ابن جزی: ۱؍ ۲۶۶)
سوال: کافروں کا قرآن سے فائدہ نہ اٹھاپانے کا سبب بیان کیجئے؟
وَهُمۡ يَنۡهَوۡنَ عَنۡهُ وَيَنۡـَٔوۡنَ عَنۡهُۖ وَإِن يُهۡلِكُونَ إِلَّآ أَنفُسَهُمۡ وَمَا يَشۡعُرُونَ ٢٦
یعنی: ان کی کارستانی کا وبال خود انہی پر آئیگا،نیزجن لوگوں کو یہ حق سے روکتے ہیں ان کے بوجھ بھی ان کے سرہوں گے۔ (وَمَا يَشۡعُرُونَ) مگر وہ سمجھتے نہیں ہیں۔ (البغوی: ۲؍ ۱۶)
سوال:ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان اپنے گناہ کے ساتھ دوسروں کے گناہ کا بوجھ بھی اٹھاتا ہے۔ یہ کیسے ہوتا ہے؟