قرآن
ﮒ
ﰿ
ﭙ ٩ ٩ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ
ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ١٠ ١٠ ﭩ ﭪ
ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ
١١ ١١ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ
ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ
ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ١٢ ١٢ ﮒ ﮓ
ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ١٣ ١٣ ﮞ
ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ
ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ
ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ١٤ ١٤ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ
ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ١٥ ١٥ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ
ﯫ ﯬ ﯭ ١٦ ١٦ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ
ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ
١٧ ١٧ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ ﰈ ﰉ ١٨ ١٨
قُلۡ سِيرُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ ثُمَّ ٱنظُرُواْ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلۡمُكَذِّبِينَ ١١
اگر اس (پچھلی آیت میں بیان کردہ حقیقت) کے بارے میں تمہیں کوئی شک اور شبہ محسوس ہوتا ہے تو زمین میں چلو پھرواور جھٹلانے والوں کا انجام دیکھو ۔ تو تم پاؤگے کہ ایسی قوم ہلاکت ہی سے دوچار ہوئی ہے۔اور یہ چلنا پھرنا جس کا حکم دیا گیا ہے اس سے دراصل دلوں اور جسموں، دونوں کا ایسا چلنا پھرنا مراد ہے جس سے عبرت ونصیحت حاصل ہوورنہ عبرت ونصیحت حاصل کئے بغیر صرف دیکھنا ہی دیکھنا ہو تو اس طرح چلنے پھرنے میں کچھ بھی فائدہ نہیں ہے۔ (السعدی:۲۵۱)
سوال: ہلاک کی گئی قوموں کے آثار ونشانات دیکھنے میں مسلم اور غیر مسلم کے درمیان کیا فرق ہے؟
قُل لِّمَن مَّا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ قُل لِّلَّهِۚ كَتَبَ عَلَىٰ نَفۡسِهِ ٱلرَّحۡمَةَۚ لَيَجۡمَعَنَّكُمۡ إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلۡقِيَٰمَةِ لَا رَيۡبَ فِيهِۚ ٱلَّذِينَ خَسِرُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ فَهُمۡ لَا يُؤۡمِنُونَ ١٢
جن لوگوں نے اللہ کی طرف سے پیٹھ پھیر لی ہے ۔یہ آیت اللہ کی جانب سے ان سے ہمدردی کا اظہار کرتی اور انہیں اللہ کی جانب متوجہ ہوجانے کی رغبت دلاتی ہے اور یہ خبر دیتی ہے کہ اللہ بندوں پر بڑاہی مہربان ہے ،سزادینے میں جلدی نہیں کرتااوربندے کی اِنابت وتوبہ قبول فرماتا ہے۔ (البغوی: ۲؍۱۰)
سوال: وہ مقصود بیان کیجئے جو آیت سے اللہ کی مراد ہے؟
قُل لِّمَن مَّا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ قُل لِّلَّهِۚ كَتَبَ عَلَىٰ نَفۡسِهِ ٱلرَّحۡمَةَۚ
اللہ تعالیٰ نے بندوں پر اپنی رحمت واحسان کی ٹھنڈی چھاؤں پھیلادی ہے ،انہیں اپنی مہربانی اور کرم فرمائی کے دامنِ لطف میں ڈھانپ رکھا ہے اور اپنی ذات کے لئے یہ بات لکھ کر طے کرلی ہے کہ اس کی رحمت اس کے غصہ پر غالب ہے ۔نیز اس کے نزدیک عطاکرنا محروم کرنے سے زیادہ محبوب ہے اور یقینی طور پر اللہ نے بلا تفریق تمام بندوں کے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول رکھے ہیں ۔اگر وہ خود اپنے گناہوں کے ذریعہ اپنے لئے ان دروازوں کو بند نہ کرلیں اور اللہ تعالیٰ بندوں کو اپنی رحمت کے کھلے دروازوں کی طرف بلاتا ہے اگر خود ان کی نافرمانیاں اور برائیاں اس کی تلاش و جستجو میں رکاوٹ نہ بن جائیں۔ (السعدی: ۲۵۱)
سوال: کون سی چیز ہے جو بندے کو اپنے رب سبحانہ وتعالیٰ کی رحمت سے فائدہ اٹھانے سے محروم کردیتی ہے؟
قُل لِّمَن مَّا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ قُل لِّلَّهِۚ كَتَبَ عَلَىٰ نَفۡسِهِ ٱلرَّحۡمَةَۚ
یہاں یہ خبر دینا کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب کا مالک ومختار اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ ایک سوال پیدا کرتا ہے، وہ یہ کہ جب سب کچھ اسی کا ہے تو جو لوگ خود اس کی ملکیت کی بعض چیزوں اور بعض مخلوق کو اس کے ساتھ شریک کرتے ہیں تواللہ تعالیٰ انہیں عذاب دینے میں جلدی کیوں نہیں کرتا ؟ چنانچہ کافر شخص اعتراض کرتے ہوئے کہتا ہے: اگرتمہاری بات۔کہ سب کچھ اللہ کا ہی ہے اور ہم کفروشرک کررہے ہیں ۔سچ ہوتی تو اللہ ہمیں فوری عذاب دیتاجبکہ مومن بندہ یہ خیال کرسکتا ہے کہ ان دشمنان حق کو سزا دینے میں بڑی دیر ہورہی ہے ۔ایساکیوں؟چنانچہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان:(كَتَبَ عَلَىٰ نَفۡسِهِ ٱلرَّحۡمَةَۚ ) اللہ نے اپنے آپ پر رحمت کو لازم کرلیا ہے۔یہ کافر اور مومن دونوں کا جواب ہے کہ مجرمین کو جلد عذاب نہ دینا ، دراصل اللہ کی رحمت ومہربانی ہے۔ لہذا اس میں ایک تو کامل رحمت ہے :یہ اللہ کے نیک بندوں کے ساتھ کی جانے والی مسلسل رحمت ہے۔اور ایک عارضی اور وقتی رحمت ہے جو گنہگاروں اور گمراہ لوگوں کے لئے مہلت اور ڈھیل دینے کی رحمت ہے۔ (ابن عاشور: ۷؍۱۵۱)
سوال: (كَتَبَ عَلَىٰ نَفۡسِهِ ٱلرَّحۡمَةَۚ )اللہ نے اپنے اوپر رحمت کو لازم فرمالیا ہے۔کی اپنے ماقبل جملہ سے کیامناسبت ہے؟
وَلَهُۥ مَا سَكَنَ فِي ٱلَّيۡلِ وَٱلنَّهَارِۚ وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡعَلِيمُ ١٣
یہاں‘‘سکون’’ کو خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے اس لئے کہ ساکت و پرسکون مخلوقات میں اللہ کی نعمتیں زیادہ ہوتی ہیں ۔ (البغوی: ۲؍ ۱۱)
سوال: اللہ تعالیٰ نے مذکورہ آیت میں‘‘ سکون’’ کو بطور خاص کیوں ذکر فرمایا ہے؟
قُلۡ إِنِّيٓ أُمِرۡتُ أَنۡ أَكُونَ أَوَّلَ مَنۡ أَسۡلَمَۖ وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ ١٤
آیت میں لفظ (أَوَّلَ) کو اسلام میں زیادہ مضبوط ہونے، جما ہوااورپائیدار ہونے کے معنی میں لینا درست ہے کیونکہ ہر عمل میں (أَوَّلَ) وہی ہوتا ہے جو اس کام کی سب سے زیادہ خواہش و رغبت رکھتا ہواور اس کا دل اس سے اٹکاہوا ہو لہٰذا اول ہونے کا لازمی تقاضا ہے کہ آدمی کے اندر شوق ورغبت ہو اور عمل میں پختہ اورمضبوط ہو جیسے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کا قول نقل فرمایا ہے کہ : (وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِيْنَ) (سورۂ اعراف: ۱۴۳) یعنی میں مومنوں میں سب سے پہلے ایمان لانے والا ہوں۔کیونکہ موسیٰ علیہ السلام کا پہلا مومن ہونا تو معلوم بات تھی ۔پھر یہاں (أَوَّلَ) سے ان کی مراد یہ تھی کہ اب اللہ کی تجلّی سے بے ہوش ہوجانے کے بعد میں ایمان میں تمام لوگوں سے زیادہ مضبوط ہوگیا ہوں۔ (ابن عاشور: ۷؍۱۵۸)
سوال: یہاں آیت میں ‘‘اولیت ’’سے کیا مراد ہے اور اس سے آپ کو کیا فائدہ حاصل ہورہا ہے؟
وَإِن يَمۡسَسۡكَ ٱللَّهُ بِضُرّٖ فَلَا كَاشِفَ لَهُۥٓ إِلَّا هُوَۖ وَإِن يَمۡسَسۡكَ بِخَيۡرٖ فَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ ١٧
یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے فرمان:(وَإِن يَمۡسَسۡكَ بِخَيۡر)اگر اللہ تمہیں کوئی بھلائی پہنچائے۔کے فوراًبعد(فَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ)تو وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔کہہ کر اس بات کی جانب اشارہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کسی بندے کو اپنے فضل وکرم سے نوازنا چاہے تو کسی کی طاقت ومجال نہیں کہ اللہ کے ارادے کے برخلاف ان نوازشات کو اس سے روک سکے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے خود اس بات کی صراحت اپنے اس قول میں کردی ہے : (وَ اِنْ يُّرِدْكَ بِخَيْرٍ فَلَا رَآدَّ لِفَضْلِهٖ) (سورۂ یونس: ۱۰۷) اور اگر وہ تمہیں کوئی خیر وبھلائی پہنچانا چاہے تو اس کے فضل کو کوئی ٹالنے والا نہیں۔ (الشنقیطی: ۱؍ ۴۷۵)
سوال: اس آیت کو (فَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ) کے فرمان کے ساتھ ختم کرنے کی کیا مناسبت ہے؟