قرآن
ﮒ
ﰿ
ﮒ
ﭙ ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ١ ١ ﭡ ﭢ
ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ
ﭰ ٢ ٢ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ
ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ٣ ٣ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ
ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ٤ ٤ ﮋ ﮌ ﮍ
ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ٥ ٥
ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ
ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ
ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ
ﯗ ٦ ٦ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ
ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ٧ ٧ ﯪ ﯫ ﯬ
ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ٨ ٨
ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ وَجَعَلَ ٱلظُّلُمَٰتِ وَٱلنُّورَۖ ثُمَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بِرَبِّهِمۡ يَعۡدِلُونَ ١
علماء کہتے ہیں: مشرکین کے خلاف اور ان کے علاوہ اہلِ بدعت نیز دوبارہ زندہ کئے جانے اور اٹھائے جانے کو جھٹلانے والوں کے خلاف۔سورۂ اَنعام حجت ودلیل پیش کرنے اور ان کی تردید کرنے میں اصل اور بنیاد ہے ۔چنانچہ اس چیز کا تقاضا تھا کہ یہ پوری سورت یکبارگی ،اکٹھانازل کی جائے کیونکہ یہ دلیل وحجت کی حیثیت سے ایک ہی معنی ومضمون رکھتی ہے۔ (القرطبی: ۸؍۳۱۲)
سوال: سورۂ اَنعام پوری کی پوری ایک ہی بار میں کیوں نازل ہوئی؟
ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ وَجَعَلَ ٱلظُّلُمَٰتِ وَٱلنُّورَۖ ثُمَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بِرَبِّهِمۡ يَعۡدِلُونَ ١
اللہ فرماتا ہے: اے لوگو! حمدو شکر کو خالص اسی کے لئے کروجو تمہارا اور آسمانوں اور زمین سب کا خالق ہے اور اس معاملے میں اس کے ساتھ کسی کو بھی یا کچھ بھی شریک نہ بناؤکیونکہ تمہارے ساتھ اللہ کے احسانات اور تم پر اس کے انعامات کی بدولت صرف وہی ہے جو حمدوتعریف کا مستحق ہے ،اس کے علاوہ کوئی بھی اس کا مستحق نہیں ،نہ وہ جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہواور نہ اللہ کی مخلوقات میں سے کوئی اور ہستی جنہیں تم اللہ کا شریک ٹھہراتے ہو۔ (الطبری: ۱۱؍۲۴۷)
سوال: حمدوتعریف کو صرف اللہ کے لئے خالص کرنا ہم پر کیوں فرض ہے؟
وَجَعَلَ ٱلظُّلُمَٰتِ وَٱلنُّورَۖ
اللہ تعالیٰ نے (ٱلظُّلُمَٰتِ) یعنی اندھیروں کو جمع کے لفظ سے ذکر کیا ہے اس لئے کہ اندھیروں یعنی گمراہیوں کے وسائل وذرائع بہت سے ہیں اور اس کے راستے طرح طرح کے اور الگ الگ قسموں کے ہیں۔جبکہ اندھیروں کے مقابلہ میں اجالے کو واحد ذکر فرمایا ہے ۔اس لیے کہ اللہ تک پہنچانے والا راستہ یعنی صراطِ مستقیم ایک ہی ہے ۔اس میں تعدّد نہیں اور یہ وہ راستہ ہے جوحق کو جاننے اور اس پر عمل کرنے پر مشتمل ہے۔ (السعدی:۲۵۰)
سوال: (ٱلظُّلُمَٰتِ) (اندھیرے)کو جمع کے لفظ کے ساتھ اور (ٱلنُّورَۖ)(روشنی ) کو واحد لانے کی کیا وجہ ہے؟
هُوَ ٱلَّذِي خَلَقَكُم مِّن طِينٖ ثُمَّ قَضَىٰٓ أَجَلٗاۖ وَأَجَلٞ مُّسَمًّى عِندَهُۥۖ ثُمَّ أَنتُمۡ تَمۡتَرُونَ ٢
اللہ تعالیٰ نے دنیا اور زندگی کے خاتمہ کی مدت کے لئے (مُسَمًّى عِنْدَهٗ) یعنی اس کے پاس مقرر اور متعین کی صفت استعمال فرمائی ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے قیامت کا علم اپنے لئے مخصوص کرلیا ہے۔ (ابن عطیہ:۲؍ ۲۶۷)
سوال:اَجل یعنی مدت ومیعاد کو (مُسَمًّى عِنْدَهٗ) یعنی اللہ کے پاس مقرر ہونے کے ساتھ کیوں ذکر کیا گیا ہے؟
وَمَا تَأۡتِيهِم مِّنۡ ءَايَةٖ مِّنۡ ءَايَٰتِ رَبِّهِمۡ إِلَّا كَانُواْ عَنۡهَا مُعۡرِضِينَ ٤
اعراض یعنی منہ موڑنااور روگردانی کرنا یہ ہے کہ :آسمانوں،زمین اور ان کے بیچ کی چیزوں کو پیدا کرنے،ان کی بناوٹ اور اسی قسم کی دوسری نشانیوں میں غور وفکر کرنا چھوڑدیا جائے ،جن سے اللہ عزوجل کی توحید پر دلیل پکڑناواجب ہے۔(البغوی: ۲؍ ۱۰۰)
سوال: اللہ کی نشانیوں سے اعراض کیسے ہوتا ہے؟
أَلَمۡ يَرَوۡاْ كَمۡ أَهۡلَكۡنَا مِن قَبۡلِهِم مِّن قَرۡنٖ مَّكَّنَّٰهُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ مَا لَمۡ نُمَكِّن لَّكُمۡ وَأَرۡسَلۡنَا ٱلسَّمَآءَ عَلَيۡهِم مِّدۡرَارٗا وَجَعَلۡنَا ٱلۡأَنۡهَٰرَ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهِمۡ فَأَهۡلَكۡنَٰهُم بِذُنُوبِهِمۡ وَأَنشَأۡنَا مِنۢ بَعۡدِهِمۡ قَرۡنًا ءَاخَرِينَ ٦
اے لوگو!تم اس بات سے ڈرتے رہوکہ ہلاکت زدہ لوگوں کی طرح تم پر بھی ہلاکت آپہنچے کیونکہ تم ان کے مقابلے میں اللہ کے نزدیک زیادہ عزت وقوت والے نہیں ہو جبکہ وہ رسول جنہیں تم نے جھٹلادیا ہے ‘اُن کے رسول کے مقابلے میں اللہ کے پاس زیادہ شرف ومرتبے والے ہیں ۔لہٰذا اگر اللہ کا لطف وکرم اور احسان نہ ہو توتم ان کے مقابلے میں عذاب او ر جلد سزادئیے جانے کے زیادہ حقدار ہو۔ (ابن کثیر: ۲؍ ۱۱۷)
سوال: ان بستیوں اور شہروں کے بارے میں اللہ کی سنت کیا ہے جن کا شر خیر سے بڑھ جائے؟
فَأَهۡلَكۡنَٰهُم بِذُنُوبِهِمۡ وَأَنشَأۡنَا مِنۢ بَعۡدِهِمۡ قَرۡنًا ءَاخَرِينَ ٦
رب کے اس ارشاد کا مطلب ہے کہ:ہم نے انہیں خوب فراوانی کے ساتھ نعمتیں عطافرمائیں مگر انہوں نے نعمتوں کی ناقدری کی ۔(فَأَهۡلَكۡنَٰهُم بِذُنُوبِهِمۡ)پس ہم نے ان کے گناہوں کی وجہ سے انہیں ہلاک کردیا۔معلوم ہوا کہ گناہ ، اللہ کی سزا اور انتقام کا اور نعمتوں کے چھِن جانے کا سبب ہیں۔ (وَأَنشَأۡنَا مِنۢ بَعۡدِهِمۡ قَرۡنًا ءَاخَرِينَ) اور ان کے بعد ہم نے دوسری قومیں پیدا کردیں۔لہذا ان لوگوں کو بھی ہلاکت اور برے انجام سے ڈرتے رہنا چاہئے۔ (القرطبی: ۸؍۳۲۶)
سوال: اللہ تعالیٰ کا عذاب آنے کا کیا سبب ہے؟