قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

ﰿ



١٠٤ ١٠٤


ﭿ ١٠٥ ١٠٥





١٠٦ ١٠٦



١٠٧ ١٠٧


ﯿ ١٠٨ ١٠٨
125
سورۃ المائدہ آیات 0 - 105

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ عَلَيۡكُمۡ أَنفُسَكُمۡۖ لَا يَضُرُّكُم مَّن ضَلَّ إِذَا ٱهۡتَدَيۡتُمۡۚ

آیت کا یہ مطلب نہیں نکلتا کہ نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کی ذمہ داری کی ادائیگی کو چھوڑدینا اوراس میں غفلت برتنا بندے کو نقصان نہیں پہنچائیگا ؛ کیونکہ بندے کی خود اپنی ‘‘ہدایت’’ اس وقت تک پوری نہیں ہوسکتی جب تک وہ اپنے اوپر عائد ہونے والے ‘‘امر بالمعروف ونہی عن المنکر’’ کے فریضے کو ادا نہ کرے۔
ہاں! جب بندہ برائی کو اپنے ہاتھ اور زبان سے روکنے میں بے بس ہو اور وہ اپنے دل سے برائی کا انکار کرے تو ایسی صورت میں دوسروں کی گمراہی اور برائی اسے کوئی نقصان نہیں پہنچائیگی۔ (السعدی: ۲۴۶)
سوال: آپ اس شخص کی تردیدکیسے کریں گے جو مذکورہ آیت سے ‘‘امر بالمعروف ونہی عن المنکر’’کو چھوڑنے کا جواز نکالے؟

سورۃ المائدہ آیات 0 - 105

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ عَلَيۡكُمۡ أَنفُسَكُمۡۖ لَا يَضُرُّكُم مَّن ضَلَّ إِذَا ٱهۡتَدَيۡتُمۡۚ

آیت کریمہ کے ظاہری الفاظ سے کسی کم فہم کو یہ وہم وگمان ہوسکتا ہے کہ نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا واجب نہیں ہے ۔ حالانکہ خود آیت میں اس بات کا صاف اشارہ موجود ہے کہ آیت کا حکم ایسے شخص کے بارے میں ہے جس نے اصلاح کے لئے اپنی پوری کوشش صرف کی ہے پھر بھی مخاطب آدمی نے اصلاح کی بات قبول نہیں کی ۔اور یہ بات اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ہے: (اِذَا اهْتَدَيْتُمْ) جب تم ہدایت پر قائم رہو۔ کیونکہ جو شخص نیکی کا حکم دینا چھوڑدے، وہ ہدایت پر باقی نہیں رہتا ۔ (الشنقیطی: ۱؍ ۴۵۹)
سوال: گمراہی کا نقصان صرف گمراہ شخص تک کب محدود رہتا ہے اور اس سے دوسروں کو نقصان کب نہیں پہنچتا؟

سورۃ المائدہ آیات 0 - 106

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ شَهَٰدَةُ بَيۡنِكُمۡ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ ٱلۡمَوۡتُ حِينَ ٱلۡوَصِيَّةِ

آدمی کی وصیت معتبر ہوگی اور اسے مانا جائیگا اگرچہ وصیت کرنے والے پر موت کی ابتدائی علامتیں ظاہر ہوچکی ہوں۔ بشرطیکہ اس کے ہوش وحواس سلامت ہوں ۔ (السعدی: ۲۴۷)
سوال: کیا قریب المرگ شخص کا وصیت کرنا جائز ہے ؟اس بات سے آپ کو کیافائدہ حاصل ہوا؟

سورۃ المائدہ آیات 0 - 106

فَأَصَٰبَتۡكُم مُّصِيبَةُ ٱلۡمَوۡتِۚ

اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں موت کو مصیبت کا نام دیا ہے اگرچہ موت انتہائی بھاری مصیبت اور بہت بڑی آفت ہے لیکن اس سے غفلت برتنا ،اس کی یاد سے منہ پھیرلینا ،اس کے بارے میں غوروفکر اور سوچ بچار سے پہلو تہی برتنا ،اس سے بے پروا اور بے فکر ہوجانا اور اس کے لئے عمل اور تیاری نہ کرنا یہ سب خود موت سے کہیں زیادہ بڑی مصیبت اور سنگین تر مسئلہ ہے ۔ حالانکہ تنہا موت کے اندر نصیحت حاصل کرنے والے کے لئے عبرت ونصیحت ہے اور غور وفکر کرنے والے کے لئے سوچ بچار کرنے کا بھرپور سامان ہے ۔ (القرطبی: ۸؍۲۶۴)
سوال: کیا موت مصیبت ہے ؟ اور اس سے بڑی اور اس سے زیادہ سخت مصیبت کیا ہے؟

سورۃ المائدہ آیات 0 - 106

تَحۡبِسُونَهُمَا مِنۢ بَعۡدِ ٱلصَّلَوٰةِ فَيُقۡسِمَانِ بِٱللَّهِ

حلفیہ گواہی کے لئے نماز کے بعد کی شرط لگانے کا فائدہ اس وقت کی عظمت کو بتانا اور اس کے ذریعہ گواہ کو ڈرانا ہے کیونکہ فرشتےاس وقت حاضر رہتے ہیں ۔
(القرطبی: ۸؍۲۶۶)
سوال: قسم اور گواہی کے لئے نماز بعدکے وقت کی شرط کیوں لگائی گئی ہے؟

سورۃ المائدہ آیات 0 - 106

فَيُقۡسِمَانِ بِٱللَّهِ إِنِ ٱرۡتَبۡتُمۡ لَا نَشۡتَرِي بِهِۦ ثَمَنٗا وَلَوۡ كَانَ ذَا قُرۡبَىٰ وَلَا نَكۡتُمُ شَهَٰدَةَ ٱللَّهِ إِنَّآ إِذٗا لَّمِنَ ٱلۡأٓثِمِينَ ١٠٦

(وَلَا نَكۡتُمُ شَهَٰدَةَ ٱللَّهِ) ہم اللہ کے لئے گواہی کو نہیں چھپائیں گے۔
یعنی وہ گواہی جسے یاد رکھنے اور ضرورت کے موقع پر اسے پیش کرنے اورادا کرنے کا اللہ نے حکم دیا ہے۔اس شہادت کی عظمتِ شان اور اہمیت جتانے کے لئے اسے اللہ کی طرف منسوب کیا گیا ہے ۔(ابن جُزی: ۱؍۲۵۵)
سوال: شہادت یعنی گواہی کی نسبت اللہ کی طرف کرنے کی کیا وجہ ہے؟

سورۃ المائدہ آیات 0 - 108

وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَٱسۡمَعُواْۗ وَٱللَّهُ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلۡفَٰسِقِينَ ١٠٨

(وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَٱسۡمَعُواْۗ)اللہ سے ڈرتے رہو اور اس کے احکام کو سنو۔
یعنی جن چیزوں کا تمہیں حکم دیا جارہا ہے انہیں کرنے کی نیت سے سنو۔
(وَٱللَّهُ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلۡفَٰسِقِينَ) اور اللہ نافرمان لوگوں پرسعادت وکامرانی کی راہ نہیں کھولتا۔
یہ آیت کے پچھلے مضمون کا تکملہ ہے ۔جس کا مرادی مطلب یہ ہے کہ اگر تم اللہ سے نہیں ڈرتے اور اس کی باتیں نہیں سنتے، مانتے تو تم فاسق وگنہگارہوکر فرمانبرداری کے دائرے سے باہر نکل جاؤگے اور اللہ تعالیٰ اپنی اطاعت سے نکل جانے والوں کے لئے سچائی کا راستہ نہیں کھولتا۔انہیں وہ راستے نہیں بتاتا جو انہیں فائدوں تک پہنچائیں یا انہیں جنت کی شاہراہ پر لے جائیں۔ (الألوسی: ۷؍۶۹)
سوال: آیت میں ہدایت اور توفیق ملنے کی راہ میں رکاوٹ بننے والی ایک چیز کا بیان ہے ۔اسے بیان کیجئے.